بدھ , 30 نومبر 2022

پاکستان، پاکستان ہے !

(محمد مہدی)

بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے جبکہ آپ کو اپنی اہمیت کا مکمل ادراک ہو۔دوسروں کی ضروریات اور ترجیحات آپ کے لیے واضح ہوں۔ پاک امریکہ تعلقات ہوں یا پاک چین تعلقات ان دونوں میں اس بنیادی نظریے کو اہمیت حاصل ہے ۔ پاک امریکہ سفارتی تعلقات کی 75 سالہ تقریب منعقد ہوئی جس میں راقم الحروف کی عالمی سفارت کاروں سے انہی موضوعات پر گفتگو رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے ۔ مدعوئین کی تعداد گزشتہ برسوں کی نسبت محدود تھی مگر تحریک انصاف کے رہنما صف باندھے قطار میں ضرور نظر آئے۔ پاک امریکہ تعلقات کی اپنی ایک مخصوص اہمیت ہے۔ ہزاروں شکوے ، شکایتیں ایک دوسرے سے ہو سکتے ہیں مگر ان تعلقات کی اہمیت دونوں ممالک کے لئے مسلمہ ہے ۔ امریکی سفیر نے اپنی تقریر کے دوران دونوں ممالک کے مابین ان واقعات کا ذکر کیا جب جب امریکہ نے پاکستان کی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پچھتر برسوں میں امریکہ نے پاکستان کو بتیس ارب ڈالر کی خطیر رقم امداد میں فراہم کی ہے ۔ اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اب افغانستان کے تناظر میں نہیں بلکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک دوسرے سے اپنی جہتوں کے حوالے سے موجود ہیں ۔ پاکستان کے اندر لگائے جانے والے بڑے پروجیکٹس کے لیے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ ہر ملک کی کمپنیوں کے لیے کھلی مسابقت سے طے ہونے چاہئیں اور صرف ایک ملک کو ترجیح نہیں دینی چاہیے ان کا اشارہ غالباًچین کی طرف تھا ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں امریکی سفیر کی جانب سے امداد کے ذکر پر امریکہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رقم پاکستان میں بالکل درست جگہوں پر خرچ کی گئی ہے۔ ان کی یہ بات سن کر خوشی ہوئی کہ انہوں نے ماضی کی اپنی مخالف حکومتوں کے زمانے میں خرچ کی گئی رقم پر تنقید نہ کی ۔ہم پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں تو پھر پاکستان کا مفاد ہر بات پر مقدم ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی تقریر میں سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ دیا اور یہی کرنا بھی چاہیے تھا ۔ شہباز شریف نے اس اہم نکتے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا کہ پاکستان ،پاکستان ہے اور پاکستان کو افغانستان یا چین کے تناظر میں دیکھنا درست رویہ نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ چین سے ہمارے تعلقات کی ایک علیحدہ نوعیت ہے جبکہ امریکہ سےجداگانہ ہے ۔ پاکستان کسی کے لئے کسی اورسے تعلقات کو نہ بگاڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو اس حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہیے ۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان ایک معتدل خارجہ پالیسی پر قائم رہے گا اور اس پر قائم بھی رہنا چاہیے اور اس حکمت عملی سے کسی دوسرے ملک کو پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ جہاں امریکہ نے گزشتہ پچھتر برسوں میں پاکستان کو خطیر رقم امداد میں دی ہے وہیں اس کےعوض پاکستان نے بھی امریکہ کو بہت ساری سہولیات بہم پہنچائی ہیں جو امریکہ اور پاکستان دونوں کے پالیسی سازوں کے ذہن میں موجود رہنی چاہئیں ۔

پاکستان اس وقت سیلاب کی بدترین قدرتی آفت کا شکار ہے اور اس قدرتی آفت کی ایک بڑی وجہ خود ماحول کو خراب کرنا ہے ۔ اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی سفیر نے اس موضوع پر جو پاکستان کے لیے مسائل کا پیغام لایا ہے کھل کر گفتگو کی ۔ جب موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو ہو رہی تھی تو مجھے اس پر چینی صدر شی کی ایک تقریر اور کمیونسٹ پارٹی آف چین کی سنٹرل کمیٹی کی اس حوالے سے چینی حکومت کو دی گئی ہدایات یاد آ رہی تھیں کہ انہوں نے اس مسئلے کو کتنی سنجیدگی سے لیا ہے ۔کاربن کے فضا میں پھیلنے کے مہلک اثرات سے نمٹنے کے لیے وہ کتنے عرصے سے پر عزم ہے ۔ حالاں کہ اس سے چین پر وقتی طور پر مالی بوجھ پڑے گا مگر چین اس مالی بوجھ کو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ عالمی برادری کے تحفظ کے لئے بھی برداشت کرنے کے لیے تیار ہے ۔

چینی صدر شی نے 22 جنوری2022 کو” پیک كاربن اینڈ کاربن نیوٹریلیٹی ” کے عنوان سے تقریر کی کہ جس میں انہوں نے کہا کہ ” 2030تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بہتر اخراج اور2060 تک کاربن نیوٹریلیٹی ترقی کے نئے فلسفے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ یہ ترقی کی نئی جہت تیار کرنے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ایک چابی ہے ۔ یہ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے اس تزویراتی فیصلوں کی آئینہ دار ہے جو انہوں نے مقامی اور عالمی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئے ہیں” ۔2030 سے 2060 تک کے درمیان تک چین کا ارادہ یہ ہے کہ وہ مکمل ماحول دوست ٹیکنالوجی پر آجائے گا اور 2030 تک کاربن کے بد اثرات کو ممکن حد تک کم کر دے گا ۔ چین نے صرف اس حوالے سے بیانات ہی نہیں داغے بلکہ وہ اس حوالے سے متحرک بھی ہے ۔ چین کی عالمی حیثیت کوئی ڈھکی چھپی نہیں اور یہ بھی بالکل واضح ہے کہ وہ مصنوعات تیار کرنے کے حوالے سے کیا حیثیت رکھتا ہے ۔وہ ماحول دوستی کے حوالے سے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر رہا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کے لئے باقاعدہ پروگرام بھی ترتیب دے چکا ہے ۔ چین اس حوالے سے عالمی برادری کے لئے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے ۔اور یہ واضح رہنا چاہیے کہ اگر دنیا کے دیگر بڑے ممالک نے ایسی مثالیں قائم نہ کیں تو پاکستان کو بار بار قدرتی آفات کا سامنا کرے گا جودراصل قدرتی نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں کی کارستانی ہے ۔بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …