اتوار , 27 نومبر 2022

ایموشنل انٹیلیجنس

(تحریر: اسماء طارق)

ہمارے ہاں آجکل میٹیریلز پر بہت زور دیا جا رہا ہے۔ ہر کوئی پیسہ کمانا چاہتا ہے اور کمانا بھی چاہیئے، اس میں کوئی حرج بھی نہیں، مگر ایک بہت اہم ایشو ہے، جس کو ہم ہمیشہ نظرانداز کرتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو ایموشنل انٹیلیجنس نامی کسی چیز کے متعلق کبھی نہ بتاتے ہیں اور نہ ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں، جہاں وہ اس کو سیکھ سکیں۔ ایموشنل انٹیلیجنس کو اگر سادہ زبان میں سمجھیں تو اس کا مطلب ہے اپنے جذبات اور احساسات کو سمجھنا اور انھیں بروقت استعمال کرنا۔ اسی طرح دوسروں کے جذبات اور احساسات کی بھی قدر کرنا۔ اس کی وجہ سے آپ کے رویئے بیلنس رہتے ہیں اور زندگی میں بھی سکون رہتا ہے۔ مگر جب ہم اپنے ایموشنز کو نظر انداز کرتے ہیں تو ہماری پرسنیلٹی میں ہمیشہ کے لیے ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہم اپنی زندگی میں ہمیشہ پریشان اور بے سکون دکھتے ہیں۔

ہمیں بچپن سے ہی ایموشنز کو دبانا سکھایا جاتا ہے، جو ہماری شخصیت کو تباہ کر دیتا ہے۔ تکلیف ہو بھی تو رونا نہیں، اظہار نہیں کرنا، تمہیں کمزور سمجھا جائے گا۔ بس نظر انداز کرو اور ایکٹ کرو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے لڑکے اور لڑکیاں انتہائی شدت پسندانہ طبیعت کے مالک بن جاتے ہیں۔ کبھی اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں اور کبھی دوسروں کو ہاتھ لے لیتے ہیں۔ اب یہ بھی نہیں سکھایا جاتا کہ ان ایموشنز کو چیلنج کیسے کرنا ہے۔ اگر تکلیف ہے تو اس کا الٹرنیٹ علاج کیسے نکالنا ہے۔ اب ہوتا کیا ہے کہ سالوں تک پہلے ایموشنز کو اگنور کیا جاتا ہے، دبایا جاتا ہے۔ پھر جب وہ لاوا بن کر نکلتے ہیں اور آپ کو بھی تباہ کرد یتے ہیں۔ نظر انداز اور اگنور کرنا کوئی علاج نہیں، اگر کوئی مسئلہ ہے تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے اسے قبول کیا جائے، تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے۔

ٹین ایج میں بچے ایموشنل اتار چڑھاو سے گزرتے ہیں۔ اکثر بچوں کو ٹین ایج میں کوئی محبت ہو جاتی ہے۔۔ کیونکہ اس فیز میں اٹریکشن عروج پر ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بہت سارے لوگ کہیں گے، یہ سب فضول باتیں ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ دماغ کا فتور ہے۔ بچوں کے سامنے ایسی باتیں کرکے ان کا دماغ خراب کیا جا رہا ہے۔ پہلی چیز تو کہ آجکل کے بچے سب سیکھ کر پیدا ہوتے ہیں۔ اب آپ انہیں جہاں بھی بند کر لو، ان کو زمانے کی ہوا لگنی ہی لگنی ہے۔ تو بہتر ہے آپ خود انہیں سکھاو اور سمجھاو گے نہیں تو وہ باہر الٹا سیدھا ہی سیکھیں گے۔ آپ ساتھ بیٹھیں اور انہیں سمجھائیں کہ کیا ہو رہا ہے اور انہیں اسے کیسے ڈیل کرنا ہے۔ دوسری بات محبت کوئی بری چیز نہیں، ایک بہت ہی خوبصورت جذبہ ہے، جو آپ کو انسان ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ مگر جہاں یہ ایک خوبصورت جذبہ ہے، وہیں اس کے اصول و ضوابط ہیں، جنہیں سیکھنا بہت ضروری ہے۔

ہمارے ہاں یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ محبت، ہوس یا حاصل کرنا نہیں ہے، یہ تو ایک قربانی اور احساس کا جذبہ ہے، جو آپ کی ذات کو پالش کرتا رہتا ہے۔ ہمارے نوجوان ہوس میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حاصل کرنا ہی بس محبت ہے۔ اگر نہ ملے تو چھین لو، مار دو یا جلا دو۔ اگر یہ سب نہ کر سکو تو خود کو ختم کر لو۔ اب یہ تم پر ہے، تم چنتے کیا ہو۔ محبت انسان کو چاہنا ہی تھوڑی ہے، یہ ایک احساس ہے، ایک مقصد ہے، جتنا بڑا مقصد ہوگا، اتنی بڑی منزل سے نوازا جائے گا۔ سو محبت کا ہو جانا کچھ غلط نہیں، مگر اس کے بعد تم کیسے اس سے ڈیل کرتے ہو، یہ تم کو طے کرنا ہوگا۔

یہ جو ہوتا ہے نہ کہ اگر وہ مجھ کو نہ ملی یا ملا تو آگ لگا دو گا۔ مار دوں یا مر جاؤنگا۔ فلاں کی ہمت کیسے ہوئی مجھ کو انکار کرنے کی۔ ان شدت پسندانہ رویوں سے جان چھڑانی ہوگی، وگرنہ کتنی زندگیاں یونہی تباہ ہوتی رہیں گی اور ریلیشن شب میں خاص طور پر کنسنٹ (رضامندی) کی اہمیت سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ زور زبردستی کا حاصل کرنا آپ کو چند لمحے کی تسکین تو دے سکتا ہے، مگر ساری زندگی آپ اپنے آپ سے لڑتے رہتے ہیں۔ خود کو صفائی دیتے رہتے ہیں اور سکون تو دور دور تک نہیں ملتا۔ ہم ہمیشہ بچوں کو جیتنا سکھاتے ہیں، کبھی انہیں بتاتے ہی نہیں کہ کسی موڑ پر تمہاری ہار بھی ہوگی اور تمہیں اسے ڈیل کرنا ہوگا۔

پھر ریجیکشن کوئی بری چیز نہیں، یہ تو آپ کو ایک موقع دیتی ہے کہ بھئی سوچ لو اب بھی وقت ہے، جو تم نے فیصلہ کیا ہے، کیا وہ ٹھیک ہے۔ ریجیکشن آپ کے لیے نئے نئے راستے کھولتی ہے۔ خود کو reconsider کرنے کا موقع دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم ایموشنل انٹیلیجنس کو سمجھیں، اس پر بات کریں، اسے اپنے نصاب میں شامل کریں، تاکہ ہماری زندگیوں میں بیلنس آئے اور ہم سکون سے زندگی گزاریں۔ جان لیں کہ زندگی کسی ایک تجربے اور ایموشن کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا سفر ہے، جہاں کبھی محبتیں ملتی ہیں، تو کبھی چھین لی جاتی ہیں۔ وفا بھی ہے، جفا بھی ہے۔ یہ سب زندگی کے فیزز ہیں، مگر کسی ایک لمحے یا فیز کی وجہ سے زندگی رکتی نہیں۔ زندگی چلتی رہتی ہے، اس لیے ہمیں بھی اس کے ساتھ چلنا ہے، کبھی رو کر تو کبھی ہنس کر۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے سقوط کا خدشہ

فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کے خاتمے کے بارے میں "اسرائیل” کو امریکا کے انتباہات اور …