بدھ , 30 نومبر 2022

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو ایران جا کر ہوگا۔ دور سے مغربی میڈیا اور ضد انقلاب سوشل میڈیا ٹرولرز کی نظر سے آپ افراط و تفریط کا شکار ہو جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر بعض دوست ایسی پوسٹیں کر رہے ہیں، جیسے قتل عام جاری ہے، یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف نظریہ مخالف ہونے کی وجہ سے کیسے پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ ایران میں ان کی مرضی کا نظام ہو تو یہ نہیں ہوسکتا، یہ ایران کی غیور اور انقلابی ملت کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہاں ایک انقلابی اسلامی نظام ہو۔ اگر کسی کو پسند نہیں ہے تو اس کی پسند کا مسئلہ ہے، کسی کی پسند ناپسند پر تو ملکوں کا نظام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کروڑوں کی آبادی پر مشتمل ملک ہے، وہاں بڑی تعداد میں نوجوان ہیں، انہیں روز مرہ امور میں مختلف مشکلات ہوسکتی ہیں، وہ اپنی مشکلات کے لیے حکومت کے خلاف احتجاج کریں اور اپنی بات حکومت کے سامنے رکھیں، یہ ایک تہذیب یافتہ طریقہ ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے اصفہان میں کسانوں نے احتجاج کیا تھا اور بڑی تعداد میں کسان جمع ہوئے تھے۔ اس وقت بھی کسانوں کے پانی کے لیے احتجاج کو انقلاب اور اسلامی نظام مخالف احتجاج میں بدلنے کی کوشش کی گئی، مگر ناکامی ہی ہوئی۔

مہسا امینی کی ریاستی تحویل میں موت ہوئی، ریاستی اداروں کا موقف ہے کہ یہ ہارٹ اٹیک سے موت تھی، جب اس پر سوالات اٹھائے گئے تو ایران کی قیادت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا اعلان کیا۔ اگر کہیں کچھ غلط ہوا ہے تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ یہ لڑکی کیونکہ کرد تھی اور کرد علاقوں میں قوم پرستی کا ایک خاص تاریخی پس منظر ہے۔ عراق کے علاقے کردستان میں اسرائیلی موجودگی اب راز کی بات نہیں رہی۔ وہاں سے بے تحاشہ پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور زمینی بارڈر سے بھی مداخلت ہوتی ہے۔ عراقی کردستان وہی علاقہ ہے، اگر ایران کی مدد نہ ہوتی تو یہ چند گھنٹوں میں داعش کے قبضے میں چلا جاتا اور اس کی قیادت نے بھاگنے کے لیے سامان تک پیک کر لیا تھا۔ یہاں سے مسلسل مسائل کی وجہ سے کئی بار جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔ صدام کے دور میں بھی عراقی بارڈر کے پاس ضد انقلاب لوگوں کے ٹھکانے موجود تھے، جو ایران میں بدامنی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے کہا، یہ جو واقعہ رونما ہوا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کی موت ہوگئی، اس سے ہمیں دلی رنج ہوا، لیکن اس واقعے پر سامنے آنے والا ردعمل، جو کسی بھی تحقیق کے بغیر، کسی بھی ٹھوس ثبوت کے بغیر، سامنے آئے اور کچھ لوگ آکر سڑکوں پر بدامنی پھیلا دیں، قرآن کو آگ لگا دیں، پردہ دار خاتون کے سر سے چادر چھین لیں، مسجد اور امام بارگاہ کو نذر آتش کر دیں، لوگوں کی گاڑیاں جلا دیں، یہ معمولی اور فطری ردعمل نہیں تھا۔ یہ مسئلہ کی درست نشاندہی ہے، کون سنگدل ہوگا، جو ایک نواجوان بچی کی موت پر دل گرفتہ نہیں ہوگا؟ اسی طرح لڑکی کے لواحقین اور دیگر اہل علاقہ کے حقِ احتجاج کو نہ ماننا بھی زیاتی ہوگی۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پرامن آواز کو موثر انداز میں مسئولین تک پہنچائیں اور ان کی آواز مسئولین تک پہنچی۔ اسی لیے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز ہوا اور رہبر انقلاب اسلامی کا یہ بیان سامنے آیا، جس میں دلی دکھ اور غم کا اظہار کیا گیا۔

یہاں تک ردعمل ایک انسانی ردعمل ہے، جسے ریاستیں تحفظ دیتی ہیں۔ مسئلہ اس وقت بنا جب جلاو گھراو کیا گیا، جب مذہبی مقامات پر حملے کیے گئے اور قرآن تک کو جلایا گیا تو یہ مہذب احتجاج نہیں بلکہ فساد تھا، جس کی اجازت کوئی ریاست نہیں دے سکتی اور جب بات لوگوں کی نجی املاک کے جلاو گھرا و تک پہنچی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کرنا پڑی۔ اس سارے عمل میں مغربی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے اور پروپیگنڈے کا سونامی آیا ہوا ہے، چند دن پہلے خانم نیکا شاکرمی جو لرستان کی ہیں، ان کے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کا پروپیگنڈا شروع کر دیا، مگر اس وقت انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جب یہ تہران میں زندہ سامنے آگئیں۔ کرد علاقوں اور تہران کے کچھ محدود علاقوں میں ہونے والے احتجاج کے مقابل پورے ایران میں لوگوں نے مظاہرے کیے اور انقلاب سے اپنی وابستگی کا اعلان کیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ چند سو لوگوں کو بار بار دکھا کر عام آدمی کو گمراہ کرنے والے میڈیا نے ان لاکھوں لوگوں کی آواز کو اپنی سکرین پر جگہ نہیں دی۔ اصل میں یہ میڈیا نہیں پروپیگنڈا مشینیں ہیں، جو اپنے من پسند حکمرانوں اور نظاموں کے لیے کام کرتا ہے۔

زاہدن کے معاملے کو بعض دوست مہسا امینی کے احتجاج کے ساتھ نتھی کر رہے ہیں، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے، سیستان میں ڈیڑھ ماہ پہلے ایک سپاہی پر الزام لگا کہ اس نے ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے، اس پر فوری کارروائی ہوئی۔ کچھ علاقوں میں ہوئی گڑ بڑ کو دیکھ کر زاہدان کے ایک مولوی نے غیر ضروری طور پر جذباتی انداز میں اس ڈیڑھ ماہ پہلے والے واقعہ کو بیان کیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ باہر نکلے اور تھانے پر حملہ کر دیا، پھر نجی املاک کو نقصان پہنچانے لگے۔ اس دوران سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو بھی زخمی کیا گیا، ایک ڈسپنسری کو آگ لگائی گئی، جس میں بچے اور خواتین موجود تھیں، ان کو بچاتے ہوئے کئی اہلکار شہید ہوگئے۔ اطلاعات ہیں کہ جیش العدل نامی دہشتگرد تنظیم موقع کی تلاش میں تھی، ان کے کارندوں نے حالات کو خراب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ زہدان کے امام جمعہ مولوی عبدالحمید نے بھی پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

شام، عراق اور یمن کی صورتحال سامنے ہے، داعش اور اس کے ہمنوا خطوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایران نے خطے کی بدامنی سے خود کو بڑی حکمت عملی سے بچایا، ورنہ بغدادی نے تہران تک پہنچنے کے اعلانات کر رکھے تھے، مگر اسے موصل میں ہی روک دیا گیا۔ وہ بربادی اور تباہی جو آزادی کے دل کش نعروں سے ان ممالک میں شروع کی گئی، اس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ عظیم یمنی، عراقی اور شامی اقوام اس وقت دنیا بھر میں در بدر ہیں۔ ایسے میں یقیناً امریکی استعماری فکر، صیہونی پروپیگنڈا اور ضد انقلاب عناصر کی تکوین ملکر اپنا کام کر رہی ہے، جسے ایران کی باشعور عوامی طاقت کے ذریعے مسترد کر دیا گیا ہے۔ دوستوں سے اتنی گزارش ہے کہ ایران کے حوالے سے لکھتے ہوئے یک طرفہ پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …