بدھ , 30 نومبر 2022

ترقی و پیشرفت کی رفتار اور سماج پر اثرات

(تحریر: ارشاد حسین ناصر)

وقت اپنی طے شدہ رفتار سے گزر رہا ہے، مگر تبدیلیاں شاید وقت کی رفتار سے زیادہ تیز ہوچکی ہیں، لوگ اگرچہ وقت کیساتھ تبدیلیوں سے بھرپور مستفید اور لطف اندوز بھی ہونے میں مگن رہتے ہیں، بالخصوص ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں، انٹر نیٹ کے ذریعے وقوع پذیر ہونے والے تغیرات کے اثرات کو بخوشی قبول کرکے نئی دنیا میں مگن ہیں اور جو لوگ ان تبدیلیوں سے مستفید نہیں ہو پاتے، انہیں ترقی یافتہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ دقیانوس سمجھتے ہیں اور نئی نسل تو باقاعدہ طعنے بھی دیتی ہے۔ جیسے آج کے دور میں اگر کسی کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائل نہ ہو تو یہی خیال کرتے ہیں کہ یہ بندہ زمانے سے کتنا پیچھے ہے، اس نے ترقی ہی نہیں کرنی، یہ کیسے زندگی مین آگے بڑھے گا۔ ایک عنوان سے تو ٹھیک بھی ہے کہ جب پرائمری کلاس کے طلبا کو بھی آن لائن اسباق دیئے جا رہے ہوں تو اس نسل کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے بڑوں کو جسے ابھی تک نیا زمانہ "اوپرا” (بیگانہ) سا لگتا ہے، جو خود کو اس دور میں مس فٹ محسوس کرتے ہیں اور انتہائی مجبوری میں انٹرنیٹ اور اس سے متعلق بعض ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں، انہیں دقیانوسی کہیں تو ان کا حق بنتا ہے۔ تختیاں اور سلیٹیں لکھنے والوں کے مقابل اب لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز، آئی پیڈ، اینڈرائیڈ استعمال کرنے والی نسل ہے تو ایسا تو ہونا ہی تھا۔

ٹیکنالوجی کے اس زمانے نے اگرچہ ہمیں بہت سے فوائد دیئے ہیں، مگر یہ بات اپنی جگہ قابل غور ہے کہ اس ترقی و پیش رفت نے ہم سے، ہمارے سماج سے بہت سی اقدار، بہت سی اچھائیاں، بہت سی روایات چھین لی ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ وقت کیساتھ ساتھ ہم سے رکھ رکھائو، لحاظ، احترام، شرم و حیا تک چھن رہا ہے۔ بہت سی روایات جو ہمارے سماج کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھیں، اب ہم سے سرک رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں تو مکمل طور پہ ناپید ہوچکی ہیں، البتہ بعض دور دراز کے دیہاتی علاقوں اور ایریاز میں اب بھی کچھ رکھ رکھائو باقی ہے۔ اب تو کہیں کوئی ذرا پرانا بندہ مل جائے تو ان لوگوں سے یہی سننے کو ملتا ہے کہ انگریز کا زمانہ بہترین تھا، اس لئے کہ اس دور میں بے شک ہم غلام تھے، مگر اتنی بدحالی نہ تھی۔ بزرگان سے یہی کہتے سنا ہے، بس جی کیا سستا زمانہ تھا، مہنگائی کا رونا تھا، نہ لوٹ مار ہوتی تھی، قتل و غارت گری تھی، نہ تشدد کی وارداتیں، بم دھماکے ہوتے تھے نہ بارود کی بو پھیلتی تھی، احتجاج ہوتا تھا نہ ہڑتال، سادہ لوگ تھے۔

سادہ زیست تھی، ایک دوسرے کا احترام تھا، محبت تھی، اخوت و بھائی چارگی تھی، ایک دوسرے کا درد بٹاتے تھے، ایک دوسرے کے مذہبی و دینی مقدسات کا نا صرف احترام کرتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے اہم ایام میں شریک رہتے تھے اور تعاون کرتے تھے۔ محلے کے بزرگ ایک دوسرے کی بچیوں کیلئے باپ کا درجہ رکھتے تھے اور کئی ایک بار تو ان کیلئے مناسب رشتہ بھی طے کر دیتے تھے، کسی کی مجال تھی کہ کوئی اعتراض کرتا۔ پاکستان ایک زرعی ملک تھا، زراعت ہی سب سے بڑی آمدن کا ذریعہ ہوتی تھی۔ پھل، سبزیاں، گندم، آٹا خالص ملتا تھا، گھی میں ملاوٹ کا کسی نے سنا بھی نہیں تھا۔ انگریزی ادویات بھی ہر کوئی استعمال نہیں کرتا تھا، حکماء اور دیسی نسخوں سے کام چلتا تھا۔ مرحم، پٹیاں، پھکیاں، مربے، حکماء کی پڑیاں طبیب سے ملتی تھیں۔ کسی کے ہاں مہمان ہوتے تو اصلی گھریلو لسی میں گڑ یا کھنڈ ڈال کے دی جاتی، ہر گھر میں ایک آدھ بھینس یا گائے ہوتی تھی، لوگ گھروں میں مرغیاں، بکریاں پالتے تھے۔ کچے گھروں کا یہ کمال تھا کہ گرمیوں میں ٹھنڈے رہتے تھے، لہذا ایئر کنڈیشن کا تو نام ہی نہیں تھا۔ بجلی تو کسی نواب یا خان، علاقے کے بڑے زمیندار کے گھر میں ہی ہوا کرتی تھی۔

یہ سادہ زندگی کتنی خوبصورت، قدرتی اور خالص تھی، اسی وجہ سے بیماریاں بھی کم تھیں، لوگ صحت مند رہتے تھے، خالص غذائوں اور ماحول کی وجہ سے لوگوں کے چہروں پہ ہشاشیت اور تازگی محسوس ہوتی تھی۔ ممکن ہے کہ آج بھی کچھ علاقے ایسے مل جائیں، جہاں قدرتی ماحول ہو، غذا خالص ہو، آب و ہوا اور رہن سہن قدرت کے قریب ہو، مگر جدید دور کے تقاضے اور ضروریات نیز تعلیم و شعور نیز تغیرات زمانہ، انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے انقلابات نے کسی کو قدرتی ماحول کے قابل نہیں چھوڑا۔ اگرچہ ہمیں ایسے ایریاز ملتے ہیں، جہاں لوگ شہری علاقوں کی بہ نسبت قدرے بہتر زندگی گزارتے ہیں، ماحول میں قدرتی آب و ہوا اور ماحول میں تازگی موجود ہوتی ہے۔ بالخصوص پہاڑی ایریاز، مگر انٹرنیٹ اور کیبلز نے اپنے اثرات سے ان علاقوں کو بھی نہیں بخشا، بالخصوص سماجی رویوں اور ماحول، رسم و رواج کو بری طرح اپنے اثرات کو مرتب کیا ہے۔

ان دور دراز و پہاڑی و قبائلی علاقوں سے صاحب حیثیت لوگوں کے بچے تو بڑے شہروں کے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھنے آتے ہیں جبکہ مقامی سطح پر بھی اچھے تعلیمی ادارے وجود رکھتے ہیں، جن سے ان پسماندہ سمجھے جانے والے علاقوں کی تعلیمی بہتری، صحت کی سہولیات اور معاشرتی رویوں میں جدت نیز کلچرل و سماجی رسومات میں تغیر و تبدیلی نمایاں طور پہ دیکھی جا سکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ زمانے کی تیز ترین ترقی، ٹیکنالوجی کے انقلاب اور انٹرنیٹ کے سیلاب نیز دنیا کی ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں ہمیں تختی اور سلیٹ کا زمانہ چاہیئے، مگر یہ ضرور ہے کہ دنیا کی تیز ترین ترقی کیساتھ ہم جن خالص غذائوں، جن خلوص بھرے احساسات اور بے لوث رشتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، مادی ترقی کو اولین ترجیح سمجھ کر اس میں غرق ہوتے جا رہے ہیں اور ملاوٹ کی اندھیر نگری کا شکار ہو کر اسپتالوں کو آباد کر رہے ہیں، ان سے نجات چاہیئے۔

مشینی دنیا میں، جدید ذرائع کے استعمال کیساتھ ہمیں منفی رویوں، احساسات سے عاری تعلقات سے بچنا ممکن بنانا چاہیئے، تاکہ معاشرہ میں اہل مغرب کی طرح مشینی زندگی کے دور میں، مادیت کا شکار ہو کر خاندانی نظام کو بچایا جا سکے۔ اس کیلئے معاشرہ کے سنجیدہ طبقات بالخصوص تعلیم سے وابستہ اداروں کے ذمہ داران، سوشل ورکرز، مدارس و مجالس کے منتظمین اور والدین کیساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی توجہ دینا چاہیئے۔ سوشل میڈیا کا کردار معاشرہ کو بنانے یا بگاڑنے میں بہت موثر ہوچکا ہے، اس کے مناسب استعمال کا شعور بیدار کرنا اور نامناسب استعمال کو روکنے کا بھرپور اہتمام ہونا چاہیئے۔ اصلاح ہر ایک کی ضرورت ہے، کوئی بھی اس سے مبرا نہیں ہے، ذاتی اصلاح کی طرف توجہ دیئے بنا ہم دوسروں کی اصلاح نہیں کر سکتے، معاشرہ کو نہیں سنوار سکتے، لہذا معاشرہ سازی اور سماج کو سنوارنے کی خواہش رکھنے والے ہر ایک شخص کو اپنی اصلاح پر توجہ دینا چاہیئے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …