بدھ , 30 نومبر 2022

خنجراب پاس پر بنی دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم جہاں پہنچنے کے لیے بادلوں سے گزرنا پڑتا ہے

(عائشہ امتياز)

’ہم وہاں جا رہے ہیں جہاں پر پاکستان کی سرحد ختم ہوتی ہے۔‘ میں نے اپنے بچوں کو بتایا جو کپڑوں کے اوپر جیکٹیں پہننے میں مصروف تھے۔پہلی جماعت کے طالب علموں جیسا جغرافیائی تجسس ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے پوچھا ’کیا ہم اُوپر کی جانب جائیں گے یا نیچے؟‘

میں نے جواب دیا ’اُوپر‘۔

ہم دنیا کی بلند ترین ’کیش مشین‘ (یعنی اے ٹی ایم) کی طرف جا رہے تھے جو پاکستان کے شمالی صوبہ گلگت بلتستان میں چین اور پاکستان کے درمیان خنجراب پاس کی سرحد پر واقع ہے۔ میں اپنے بچوں کو پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقامات دکھانا چاہتی تھی۔

4693 میٹر کی حیران کُن بلندی پر بنا یہ پاس دنیا کی سب سے زیادہ پختہ بارڈر کراسنگ ہے اور یہاں پہنچنا اس دنیا کی سب سے زیادہ ڈرامائی ڈرائیوز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ برف سے ڈھکی قراقرم کی چوٹیوں کے درمیان بنی سڑک خنجراب نیشنل پارک سے گزرتی ہے جہاں پاکستان کے قومی جانور مارخور کے علاوہ برفانی چیتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ہمارا سفر پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں اپنے گھر سے شروع ہوا تھا اور اس سفر میں ہوائی جہاز، ٹرین اور گلگت شہر سے چھ گھنٹے سے زیادہ کی مسافت شامل تھی۔ خنجراب پاس تک روڈ اچھی حالت میں اور پختہ ہے اور اسی لیے ڈرائیو کرنا کافی آسان ہے۔ ہم نے اس سفر کے لیے جو گاڑی کرائے پر لی تھی وہ ہماری ضرورت کے حساب سے کافی پُرسکون تھی۔

لیکن یہ اونچائی سفر کو ایک چیلنج بناتی ہے۔ 2000 کلومیٹر کی چڑھائی کے دوران ہمارے مقامی ڈرائیور اور ٹور گائیڈ نے ہدایت کی کہ ہم الٹیٹیوڈ سکنیس (اونچائی پر طبعیت کا خراب ہونا) سے بچنے کے لیے قریبی وادی ہنزہ سے خشک خوبانیاں لے کر اپنی زبان کے نیچے رکھیں۔

اوپر نیچے کپڑوں کی تہیں چڑھائے ہم نے تیزی سے بدلتے ہوئے موسم کے لیے خود کو تیار کیا جو گرمیوں میں بھی منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی گِر سکتا ہے، اس کے ساتھ ہی یخ بستہ ہواؤں کی وجہ سے دھوپ میں جلنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

تاہم جب ہم سرحد پر پہنچے تو سورج ڈھل چکا تھا جس سے میرے بچوں کے گال ٹماٹر جیسے سرخ ہو گئے۔ یہ انتہائی خوبصورت وادی ہے۔ مقامی لوگ اسے ایک ایسے علاقے کے طور پر بیان کرتے ہیں جس کے اوپر صرف آسمان ہے اور نیچے بادل ہیں۔پھر اس دور دراز پہاڑی علاقے کے بیچ میں ایک اے ٹی ایم کیوں لگایا گیا ہے؟

2016 میں نیشنل بینک آف پاکستان کی طرف سے تعمیر کی گئی، شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والی اے ٹی ایم مشین اس سرحدی کراسنگ کے اردگرد رہنے والے رہائشیوں، سرحدی فوجیوں اور سیاحوں کے کام آ رہی ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈ رکھنے والی یہ اے ٹی ایم مشین کسی دوسرے اے ٹی ایم کی طرح ہی کام کرتی ہے۔ اسے نقد رقم نکالنے، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن جب میں اور میرے بچے اتنی بلندی پر آکسیجن کی کمی سے نبزد آزما تھے، جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ماحول میں غیر متوقع تہوار جیسی رونق تھی: ایسے لگا کوئی تقریب ہو رہی ہے کیونکہ لوگ رشتہ داروں کو فیس ٹائم کر رہے ہیں، تصاویر کے لیے پوز دے رہے ہیں اور بہترین سیلفی لینے کے لیے اے ٹی ایم کے گرد چکر لگا رہے تھے۔

کراچی کے سکول کی ٹیچر عطیہ سعید اپنے سکول کی 39 طالبات کو یہاں پاک چین سرحد پر لائی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’بہت عرصے بعد ہم نے پاکستان کے اندر سفر کیا ہے۔‘

اگرچہ وہ صرف اے ٹی ایم کے لیے نہیں آئی تھیں، انھوں نے بتایا کہ سرحد کے خوبصورت ترین جغرافیے، تاریخ اور معاشیات کا سبق اہم تھا۔

نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی طرف سے سنہ 2016 میں بنائے گئی، شمسی اور ہوا کی توانائی سے چلنے والی یہ اے ٹی ایم مشین اس سرحدی کراسنگ کے اردگرد کے رہائشیوں اور سرحدی فوجیوں کی محدود تعداد کے کام آ رہی ہے۔ سیاح اس اے ٹی ایم میں جانا ایک اعزاز سمجھتے ہیں، اور یہاں سے رقم نکالنے کی ایسی تصویریں لیتے ہیں جو ’کولڈ ہارڈ کیش‘ کے فقرے کو نئے معنی دیتی ہیں۔

جنوبی افریقہ سے آئی ریٹائرڈ پرنسپل عائشہ بیات، جو اپنے شوہر کے ساتھ چھٹیوں پر آئی تھیں نے مزاحیہ انداز میں کہا ’میرا اکاؤنٹ فریز ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ہم ایک ایسے ملک سے آئے ہیں جہاں ہمارے پاس بھی پہاڑی سلسلے ہیں۔۔۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں خوبصورت نظارے دیکھ رہی ہوں۔‘

بیات کے شوہر فاروق نے کہا ’ایفل ٹاور کی طرح تاریخی نشانیوں کا ہونا ضروری ہے۔ یہ باقی علاقے کو دیکھنے کا بہانہ بن جاتی ہیں۔‘لیکن اس تاریخی نشانی کی تعمیر کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں تھا۔ اور نہ ہی اسے فعال رکھنا آسان ہے۔

اس اے ٹی ایم کی نگرانی کرنے والی افسر شاہ بی بی نے بتایا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں تقریباً چار ماہ لگے۔ قریب ترین این بی پی بینک سوست میں ہے جو یہاں سے 87 کلومیٹر دور ہے۔

سوست برانچ کے منیجر زاہد حسین چوٹی پر بنے اس اے ٹی ایم کو رقم سے بھرنے کے لیے سخت موسم، دشوار پہاڑی گزرگاہوں اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے باقاعدگی سے یہاں تک کا سفر کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ’اوسطاً 15 دنوں کے اندر یہاں سے تقریباً 40-50 لاکھ روپے نکالے جاتے ہیں۔‘

اس دوران بی بی ریئل ٹائم ڈیٹا مانیٹر کرتی اور سوست برانچ کو فراہم کرتی ہیں۔ انھیں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی، سولر پاور بیک اپ، نقد رقم واپس لینے اور پھنسے کارڈز (پچھلے سال تیز ہواؤں نے اے ٹی ایم کو عارضی طور پر بند کر دیا) سے متعلق ہنگامی صورتحال سے بھی نمٹنا ہے۔

بی بی نے بتایا ’زمین پر موجود ایک شخص کو اے ٹی ایم تک پہنچنے اور مرمت کرنے میں تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔‘

کچھ لوگ ایسے دور دراز مقام پر اے ٹی ایم کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن حسین کہتے ہیں کہ ’ہم ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو ہماری سرحدوں کی 24/7 حفاظت کرتے ہیں۔ وہ تعداد میں معمولی ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ایک بڑے پارک میں رہتے ہیں اور ان کے پاس اپنے پیاروں اور خاندان والوں کو اپنی تنخواہیں منتقل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔‘

یہاں صرف سرحدی محافظ ہی نہیں رہتے۔ بختاور حسین نے بھی اپنی زندگی کا بڑا حصہ پارک میں برفانی چیتوں کا پیچھا کرتے یا برف پگھلنے کی پیمائش کرنے والے سائنسدانوں اور محققین کی مدد کرتے گزارا ہے۔ انھوں نے اے ٹی ایم کے قریب ایک چھوٹی سی کینٹین بھی چلائی جو کووڈ کی پابندیوں کے باعث بند کرنا پڑی۔

وہ یاد کرتے ہیں ’میں چائے، کافی اور بریانی بیچتا تھا۔۔۔ وہ وقت اچھا تھا۔‘

اب وہ خنجراب پاس پر پورٹیبل باتھ رومز چلاتے ہیں اور اس کی بہت معمولی سی فیس لیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کار میں آکسیجن ٹینک لگایا ہے تاکہ آنے والوں کو مفت ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

سوست برانچ کے منیجر خنجراب میں بنے اے ٹی ایم کو کیش سے بھرنے کے لیے سخت موسم، دشوار پہاڑی گزرگاہوں اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے باقاعدگی سے سرحد تک سفر کرتے ہیں

بختاور نے مجھے بتایا ’صرف پچھلے چند گھنٹوں میں، میں نے تین خواتین کو آکسیجن دی ہے۔ کل سات تھیں۔‘وہ کہتے ہیں کہ چڑھائی پر آنے سے پہلے اگر آپ نے تیل والا یا زیادہ کھانا کھایا ہے تو اس سے آپ کی حالت خراب ہو گی۔

انھوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ سیاحوں کے لیے ایک بڑی پریشانی ان کا کارڈ پھنس جانا ہے، حالانکہ انھوں نے اندازہ لگایا کہ کسی دوسرے اے ٹی ایم کی طرح ایسا یا تو کسی دن بہت بار ہوتا ہے یا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

کارڈ پھنس جائے تو پھر آپ کو یہاں کے شدید موسم میں کم از کم دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے یا اگلے دن دوبارہ واپس آنا ہوتا ہے۔

خاموشی سے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ہم اس وقت کتنی اونچائی پر موجود تھے، بختاور نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’اسے دوبارہ حاصل کرنے کا آسان سفر نہیں ہے۔‘

تاہم بینک مینیجر زاہد کے لیے یہ خنجراب پاس اے ٹی ایم پر کام کرنے کے شوق کا حصہ ہے۔ اپنے کام کی اہمیت جانتے ہوئے اور اس حوالے سے شدید دباؤ کے باوجود وہ کہتے ہیں ’میں ان شاندار قدرتی مناظر پر بنی ٹیکنالوجی کے پیراڈائم شفٹ کا حصہ بننا اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …