بدھ , 30 نومبر 2022

اب علاج معالجے اور تیمارداری کے لمحات

(محمود شام)

’’سیلاب 2022 سے متاثرہ علاقوں میں اپنی حاملہ ہم وطن بیٹیوں کے لیے الخدمت نے ہر طرح سے منظّم موبائل ہیلتھ یونٹس کو متحرک کردیا ہے۔ 500 حاملہ خواتین کی رجسٹریشن بھی کرلی گئی ہے۔‘‘ مایوسیوں کی شاموں میں یہ اطلاع ہمیں شاہد شمسی صاحب نے دی ہے۔ بہت شکریہ۔

’’ہم سب گٹروں میں محصور ہیں۔ لیکن ہم میں سے کچھ کی نظریں ستاروں پر ہیں۔‘‘

اپنے پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے آسکر وائلڈ کے اس جملے پر نظر جا ٹھہرتی ہے۔ کتنی صداقت ہے۔ آفریں ہے ان ’’کچھ‘‘ پر جو انتہائی نامساعد حالات میں بھی پُر امید رہتے ہیں۔ یہ ایک عجیب رجحان ہے کہ ہم اپنے ہی معاشرے کے منفی پہلو خوب اُجاگر کرتے ہیں۔ ملک میں ہوں۔ یا کسی اور ملک میں۔ ہم بہت خلوص سے بہت مگن ہوکر اپنے ملک کی اپنی فوج کی۔ اپنے سیاستدانوں کی برائیاں بڑھا چڑھاکر بیان کرتے ہیں ۔ خوددار قوموں کا یہ انداز ہوتا ہے کہ وہ اپنی پارلیمنٹ میں۔ اپنے ملک کے اندر رہتے ہوئے خوب گرجتے ہیں خوب برستے ہیں۔ لیکن جب ملک سے باہرہوں تو صرف اپنے معاشرے کے حسن کی بات کرتے ہیں۔ بھارت کے ممتاز لیڈر ایل کے ایڈوانی جو اپنے تعصب اور منتقم مزاجی کے باعث مشہورہیں۔ وہ اپوزیشن لیڈر تھے جب پاکستان کے دورے پر آئے۔ ہم اسٹیٹ گیسٹ ہائوس میں ’جنگ‘ کے انٹرویو کیلئے ملے۔ ہم نے کانگریس حکومت کی بعض پالیسیوں پر ان کی رائے چاہی تو انہوں نے ان پر تبصرہ کرنے سے قطعی طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے آپس کے مسائل ہیں۔ ان پر میں انڈیا سے باہر بات نہیں کروں گا۔

ہم آج کل روزانہ شعلہ بیانیاں دیکھ رہے ہیں۔ مگر سیلاب زدگان کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہے نہ کسی صوبائی اسمبلی کا۔

اصولاً ایڈوانی صاحب کا یہ موقف کتنا معروضی ہے۔ کیونکہ یہ سارے صدارتی اور پارلیمانی ادارے اسی لیے ہیں کہ اپنے گھر کی باتیں گھر میں کرلی جائیں۔ ہم اسلام آباد میںہوںیا واشنگٹن میں، کراچی میں ہوں یا لندن میں، لاہور میں ہوں یا جدّہ میں، پشاور میں ہو یا برسلز میں، کوئٹہ میںہوں یا دبئی میں، ہماری آتش فشانی اسی طرح رہتی ہے۔ ہمارے آقا 150سال جو ہمیں غلام رکھے رہے ان کے دارُالحکومت لندن میں تو ہمارے اکثر قائدین، سابق وزرائے اعظم، سابق گورنر عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔وہاں سے اپنی پارٹیوں کو قابو میں رکھتے رہے۔ ملک کی انتظامیہ۔ پارلیمنٹ۔ فوج کے خلاف زہر اگلتے رہے۔

بھارت والے اپنے قومی دن ۔ تہوار ایک ہوکر مناتے ہیں۔ جہاں تک میرا علم ہے ،مشاہدہ ہے۔ ان کی سیاسی جماعتوں کی باہر شاخیں بھی نہیں ہیں۔

ایسا کیوں ہے۔؟ ہمارے صاحب مطالعہ احباب اور درد مند پاکستانی اس کی وجہ ہمارے ہاں وقفوں وقفوں سے لگنے والے مارشل لائوں کو بتاتے ہیں کہ جب ملک میں اظہار خیال پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ بیرون ملک جاکر آواز بلند کی جائے۔آفریں ہے ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کی آتی جاتی نسلوں پر کہ ملک میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب وہ نسل در نسل اپنی نیک کمائی کا خاطر خواہ حصّہ متاثرین کیلئے وقف کردیتے ہیں۔

سیلاب 2022میں بھی ہمارے بیرون ملک پاکستانی بھائی بہنوں نے پاکستان سے اپنی محبت کا حق ادا کردیا ہے۔ اپنے طور پر بھی بہت کچھ بھیجا ہے۔ حکومت کے اکائونٹس میں بھی۔ سب سے زیادہ فنڈز عمران خان کے ٹیلی تھون میں اعلان کیے گئے۔ ان سب پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام اور ان سب فلاحی تنظیموں کو بھی جو 14 جون سے مسلسل اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں محوہیں۔ اور ان سب پاکستانی مخیر حضرات و خواتین کو بھی جو ان تنظیموں کو عطیات دے کر مالی طور پر مضبوط کررہے ہیں۔

اب مرحلہ ہے آباد کاری اور بحالی کا انتہائی اہم اور ہر قدم احتیاط کا ۔ ذرا سوچئے کہ ہم تو اپنے چھوٹے بڑے گھروں، دفتروں میںبہت اطمینان سے معمول کے مطابق اٹھتے بیٹھتے رہے ہیں۔ مگر یہ کراچی کی کچی بستیوں والے۔ سندھ کے بیشتر اضلاع کے لاکھوں ہاری مزدور۔ اسکول ٹیچر۔ سرکاری ادنیٰ ملازمین۔ جنوبی پنجاب کے محنت کش۔ بلوچستان کے تو بہت اضلاع بد حال ہوئے ہیں۔ وہ پہلے ہی محرومیوں کا شکار تھے۔ سیلاب نے ان کو اور زیادہ بے بس کردیا ہے۔ خیبر پختونخوا کی حسین وادیاں اجڑ گئی ہیں۔ اب وہ واپس اپنے گھروں کو جارہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی ۔ سرکار نے فلاحی تنظیموں سے کوئی اشتراک کیا ہے؟ این ڈی ایم اے کا آئندہ کیا لائحہ عمل ہے۔ اس وقت صحت کے مسائل سر اٹھارہے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی طرف سے کیا انتظامات ہیں۔ بجٹ میں عام حالات کیلئے بھی رقوم مختص کی جاتی ہیں۔ آفات ناگہانی کیلئے بھی۔ ان کا کیا استعمال ہورہا ہے۔ عالمی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ کئی لاکھ پاکستانی خواتین یعنی ہماری بہنیں۔ بیٹیاں امید سے ہیں اور وہ شاہراہوں پر خیموں میں تھیں۔ اب وہ واپس گھروں میں جارہی ہیں۔ جہاں حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ شاہد شمسی صاحب کی یہ اطلاع حوصلہ بڑھا رہی ہے۔

الخدمت فائونڈیشن نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کی طبی امداد کیلئے کسٹمائز موبائل ہیلتھ یونٹس تیار کروالیے ہیں۔ الخدمت ہیلتھ سروسز کی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کے مطابق 3موبائل یونٹس جعفر آباد لائر اور سندھ بھجوادیے گئے ہیں۔ ان حاملہ خواتین میں ایک بڑی تعداد نوبیاہتا بہنوں کی بھی ہے، جن کا پہلا بچہ اس دنیا میںبہت سی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ آنے والا ہے۔ اسی طرح ایدھی کے کارکن بھی دیہی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کتنا کرم ہے کہ اس ریاست کی خامیاں، ناکامیاں، نا اہلی دیکھتے ہوئے کتنی فلاحی تنظیموں کو توفیق اور تقویت دی ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر متحرک ہوجاتی ہیں اور خدا ئے بزرگ و برتر ہی مخیر پاکستانیوں کے دل میں یہ دردمندی پیدا کرتا ہے کہ وہ دل کھول کر کروڑوں روپے کے عطیات دیتے ہیںاور یہ تنظیمیں اربوں روپے کی مالی امداد تقسیم کررہی ہیں۔ خیمے بانٹ رہی ہیں۔ قیمتی ادویہ پہنچارہی ہیں۔ کچا راشن فراہم کررہی ہیں۔یہ تنظیمیں ہی وہ’’ کچھ ‘‘ہیں جو ستاروں کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ آس پاس کی بد حالی انہیں مایوس نہیں کر رہی ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …