بدھ , 30 نومبر 2022

لانگ مارچ کس لیے؟

پاکستان کے سیاسی حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے تنازعات جن میں نئے انتخابات، سائفر، عمران خان کی آرمی چیف کے ساتھ ایوان صدر میں مبینہ ملاقات سے لے کر عمران خان کے وارنٹ گرفتاری تک، کی وجہ سے پیچیدہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف تقریباً گذشتہ چھ ماہ سے مسلسل احتجاج کے ‏موڈ میں ہے اور ’بیرونی سازش کے نتیجے میں بننے والی‘ مخلوط حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ جلد نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ صرف ’عوام کی منتخب کردہ حکومت‘ ہی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام لا سکتی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اب تک 50 سے زیادہ عوامی جلسے کر چکے ہیں اور مسلسل مقتدر حلقوں کو باور کروا رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کے اعتراضات کو دور کیے بغیر صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

عمران خان نے ایک اور بیانیہ بنایا ہے کہ موجودہ بیرونی سازش سے آئی حکومت ملک کے اہم فیصلے جن میں نومبر میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی شامل ہے، نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے انھوں نے ایک تجویز بھی دی تھی کہ انتخابات کے بعد نئی حکومت بننے تک یہ اہم تعیناتی ملتوی کر دی جائے۔

عمران خان گذشتہ کچھ ہفتوں سے حتمی احتجاجی تحریک کی کال دینے سے احتراز کر رہے تھے تاہم ٹیکسلا جلسے میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے لیے انھوں نے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی عمران خان نے پارٹی کے ضلعی صدور اور جنرل سیکٹریز کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا ہے۔

عمران خان اگر چہ نیب آرڈی ننس میں ترامیم اور ناقص عدالتی نظام کو مریم نواز کے بری ہونے کی وجہ قرار دے کر یہ موقف قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی کرنے والے سیاسی خاندانوں نے اقتدار میں واپس آ کر حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا ہے، قوانین میں تبدیلی کی ہے اور اس طرح خود کو ہی ریلیف دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ یہ موقف بھی درحقیقت ناقص دلائل پر استوار ہے چونکہ نیب آرڈی ننس میں ترامیم کا ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلہ میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اس کے باوجود عمران خان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اسی بات کو درست مانے گی اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے کرپشن کو بدستور ایک سیاسی نعرے کے طور پر زندہ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیوں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اسے سیاسی طور سے زندہ رہنے کے لئے انہی نعروں کا سہارا لینا پڑے گا جن کے غبارے سے اب پھونک نکلتی جا رہی ہے۔

آڈیو لیکس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تاہم ملک کی عمومی سیاسی صورت حال کو ضرور متاثر کریں گے۔ عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت جو پہلے بدعنوانی کے اندھادھند الزامات کی وجہ سے اور بعد میں عمران خان کی حکومت کو امریکی سازش کے تحت ختم کرنے کے سازشی نعرے کی وجہ سے عمران خان کو سیاسی ’شہید‘ کا درجہ دے رہی تھی، اب تصویر کا دوسرا رخ سامنے آنے کے بعد انہیں متوازن سیاسی رائے بنانے اور وسیع تر تناظر میں ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔

ان حالات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کو فوری انتخابات کی کیوں جلدی رہی تھی۔ تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت کو بھی بخوبی اندازہ تھا کہ عمران خان کی مقبولیت کا موجودہ رجحان تادیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک بلبلے کی سی تھی جسے بہر طور ختم ہونا تھا۔ اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ عمران خان ملک کے مقبول لیڈر نہیں ہیں اور انہیں عوام کی قابل ذکر تعداد کی حمایت حاصل نہیں ہے تاہم اب یہ تاثر عملی طور سے ختم ہو چکا ہے کہ نہ تو عمران خان ملک کے واحد لیڈر ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسا ٹھوس سیاسی و معاشی پروگرام ہے جس سے وہ ملک کی تقدیر تبدیل کر سکتے ہیں۔

متعدد دوسرے لیڈروں کی طرح عمران خان کا بھی ایک حلقہ اثر ہے اور انہیں انتخابات میں ضرور ووٹ ملیں گے اور تحریک انصاف ایک بڑی پارٹی کے طور پر اسمبلیوں میں واپس بھی آئے گی۔ تاہم ایک تو یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے کہ تحریک انصاف دو تہائی یا تین چوتھائی اکثریت لے کر اقتدار میں واپس آئے گی اور ملکی سیاست کا رخ تبدیل کردے گی۔

دوسرے باقی ماندہ سیاسی قوتوں کے بارے میں عمران کی غلط فہمی اب نقش بر آب ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے جھوٹے سیاسی نعروں اور سازشی نظریہ کی بنیاد پر عوام کی واحد امید ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، اب اس میں کوئی دم نہیں رہا۔ انہیں ان تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر برابری کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کرنا ہوگی جن کے بارے میں انہیں امید تھی کہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد انہوں ’خطرناک‘ ہو کر ان کی سیاسی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ اور اب کوئی دوسری پارٹی یا لیڈر تحریک انصاف یا عمران خان کے مدمقابل کھڑا نہیں ہو سکتا۔

ایک طرف عمران خان کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا اور وہ دولت کے لئے سیاست نہیں کرتے لیکن موقع ملتے ہی کروڑوں روپے کے ایسے تحائف جو پاکستانی عوام کی امانت تھے، انہیں فروخت کر کے اس رقم کو ذاتی مصرف میں لانے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ اب الیکشن کمیشن اور ملک کا عدالتی نظام اس بارے میں حتمی حکم جاری کرے گا۔ توشہ خانہ کیس کے علاوہ بدعنوانی اور خرد برد کے متعدد معاملات پر بھی بات ہوتی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ اس بارے میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات عام جلسوں میں دینا کافی نہیں ہو گا بلکہ مناسب لیگل فورمز کو بھی مطمئن کرنا پڑے گا۔

ان حالات میں لانگ مارچ پر اصرار ناقابل فہم سیاسی حکمت عملی ہے۔ یہ ایک سیاسی ڈھکوسلہ ہی ہو سکتا ہے تاکہ یکے بعد دیگرے انکشافات سے عمران خان کے حامیوں کو لگنے والے شدید جھٹکے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو سنبھالا جا سکے۔ عمران خان کا یہ دعویٰ کہ وہ اپنی چال سے حکومت کو حیران کر دیں گے، سیاسی فریب کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت کو گھٹنوں پر لانے کے لئے ایسے کسی منصوبہ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے برعکس اب یوں لگتا ہے کہ شہباز حکومت کمزور بنیاد پر کھڑی ہونے کے باوجود اب عمران خان اور تحریک انصاف کو حیران کرنے کی پوزیشن میں ہے۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ثانی زہرا حضرت زینب کبری (س) کا یوم ولادت پوری دنیا میں عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہا ہے

اسلام آباد: بنت علی، ثانی زہرا، شریکہ الحسین، حضرت زینب علیہا سلام کی ولادت باسعات …