بدھ , 30 نومبر 2022

1973 کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر شامی فوج کی زبردست فوجی مشقیں

دمشق: صیہونی حکومت کے خلاف 1973 کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر شام کی مسلح افواج نے فوجی ہتھیاروں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مشقوں کا انعقاد کیا۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کی مسلح افواج کی زمینی اور فضائی افواج نے 1973 کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کئی روزہ فوجی مشقیں انجام دیں۔

"المنار” کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی مشقوں کو حقیقی معرکہ آرائی کی شکل دی گئی اور پراجیکٹ مینیجر نے جنگ کے تصور اور اس پر عمل درآمد کے مراحل کے بارے میں تفصیلی وضاحت کی جس میں دشمن کے ٹھکانوں پر حملے اور اس کی قلعہ بندی جیسے مرحلے شامل تھے۔

شام میں تعینات افواج کے کمانڈر "الیگزینڈر چائیکو” اور شامی فوج کے متعدد افسران نے اس فوجی مشقوں کا مشاہدہ کیا۔

اکتوبر 1973 کی جنگ یا جنگ رمضان یا "کیپور” جنگ (صیہونیوں کے مطابق) مصر، شام اور صیہونی حکومت کے درمیان 6 سے 25 اکتوبر 1973 تک ہوئی تھی ۔

اکتوبر کی جنگ ایک غیر معمولی جنگ تھی اور عرب ممالک نے اسرائیلی حکومت سے کئی شکستوں کا سامنا کرنے کے بعد خفیہ طور پر ہماہنگی کرکے پچھلی شکستوں کی تلافی کا فیصلہ کیا اور اکتوبر 1973 میں ایک سرپرائز آپریشن کرتے ہوئے سویز نہر کے کنارے بارلو لائن اور جولان کے پہاڑی علاقوں پر حملہ کیا اور 1967 کے علاقوں کے اہم حصوں کو واپس لینے میں کامیاب رہے۔

تاہم اچانک حملے کے جھٹکے کے بعد صیہونی حکومت تیسرے ہفتے میں جنگ کا نتیجہ اپنے حق میں بدلنے میں کامیاب ہو گئی اور اس وقت امریکہ اور سوویت یونین نے عرب ممالک پر دباؤ ڈالا کہ جنگ بندی قبول کر لیں۔ طے شدہ معاہدوں کے مطابق، اس جنگ سے آخرکار قنیطرہ شہر اور جولان کی سرزمین کے ایک حصے اور صحرائے سینا کے کچھ حصوں کو آزاد کرانے میں کامیابی ملی۔

اس جنگ کے بہت سے نتائج برآمد ہوئے جن میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ اگر منصوبہ بندی اور عزم ہو تو اسرائیلی فوج کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ترکی اور شام کی سرحدوں میں کشیدگی میں اضافے پر تبادلہ خیال

تہران:ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ترکی اور شام کی سرحدوں میں کشیدگی میں …