بدھ , 30 نومبر 2022

سانحہ صفورہ کا مرکزی مجرم سعد عزیز ایک اور کیس میں بری

کراچی:سندھ ہائی کورٹ نے داعش سے متاثرہ تعلیم یافتہ نوجوان اور سانحہ صفورہ کے مرکزی مجرم سعد عزیز کو ایک اور مقدمے میں بری کردیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پولیس اور پراسیکیوشن سانحہ صفورا کے مرکزی ملزم سعد عزیز عرف ٹک ٹک کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔

بعدازاں عدالت نے سعد عزیز کو محافظ فورس کے اہلکار وقار ہاشمی کے قتل کے مقدمے میں دی گئی سزا عدم شواہد کی بنا پر کالعدم قرار دے دی۔

عدالت کی جانب سے سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سعد عزیز پر اگر کسی اور جرم کا الزام نہیں ہے تو انہیں جیل سے رہا کیا جائے۔خیال رہے کہ ملزم سعد عزیز اور دیگر ساتھیوں پر 3 جون 2015 کو نیوکراچی پاور ہاؤس کے قریب پولیس اہلکار کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

پولیس نے 2014 میں تھانہ نیو کراچی میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، دیگر ملزمان میں عمر جواد، علی رحمان، حیدر عرف حسیب بھی شامل تھے۔انسداد دہشت گردی عدالت نے سعد عزیز پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور 50 ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

قبل ازیں رواں سال اگست میں سندھ ہائی کورٹ نے سعد عزیز اور طاہر حسین منہاس عرف سائیں کو دسمبر 2020 میں کارساز کے قریب ستمبر 2013 میں مسلح حملے میں پاک بحریہ کے کیپٹن ندیم احمد کو قتل کرنے اور ان کی غیر ملکی اہلیہ کو زخمی کرنے کے جرم میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ سعد عزیز انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کا طالبعلم تھا جسے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جنوری 2016 میں فوجی حکام کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ ملزمان کے خلاف صفورہ گوٹھ بس حملہ کیس، سبین محمود قتل کیس، پولیس اہلکاروں کے قتل سے متعلق کیس، اقدام قتل اور بارودی مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سے متعلق 18 مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا سکیں۔ان ملزمان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ داعش کے مقامی کارندے ہیں۔

سعد عزیز نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے اور دیگر ملزمان نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں سبین محمود کو قتل کیا کیونکہ وہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف ‘ غلیظ زبان’ استعمال کرتی تھیں۔

دونوں اپیل کنندگان کو ان کے 3 ساتھیوں کے ساتھ ملٹری کورٹ نے 2016 میں صفورا گوٹھ بس سانحہ، سبین محمود کے قتل اور دیگر مقدمات میں سزائے موت سنائی تھی، انسداد دہشتگردی عدالت نے انہیں کچھ دیگر مقدمات میں بھی سزا سنائی تھی۔

فوجی عدالتوں نے مذکورہ مقدمات میں سعد عزیز، طاہر مہناج، اسد الرحمٰن، محمد اظہر اور حافظ ناصر احمد کو سزائے موت سنائی تھی، بعدازاں مجرموں کو جیل حکام کے حوالے کردیا گیا تاکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت دیگر مقدمات مکمل ہو سکیں۔

مجرموں نے ٹرائل کورٹ کے سزا کے حکم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں، سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ہائی پروفائل ملزم سعد عزیز کی سزا کے خلاف اپیل منظور کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ثانی زہرا حضرت زینب کبری (س) کا یوم ولادت پوری دنیا میں عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہا ہے

اسلام آباد: بنت علی، ثانی زہرا، شریکہ الحسین، حضرت زینب علیہا سلام کی ولادت باسعات …