بدھ , 30 نومبر 2022

قوم حیران ہے ہماری عدالتیں 180ڈگری کا یوٹرن لینے پر کیوں مجبور ہو جاتی ہیں؟ سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے 62ون ایف (تاحیات نااہلی) سے متعلق ریمارکس نے معاشرہ کی اخلاقی اقدار کو ہلا دیا جبکہ 62ون ایف ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

لاہور سے جاری ایک بیان میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ قوم حیران ہے ہماری عدالتیں 180ڈگری کا یوٹرن لینے پر کیوں مجبور ہو جاتی ہیں، متعدد کیسز میں حکومتیں بدلنے سے عدالتی فیصلے بھی بدل جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ججز بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کریں، قوم رہنمائی کے لیے عدالتوں کی جانب دیکھتی ہے، آئین و قانون کی بالادستی سے ہی ملک ترقی کرے گا۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مہذب دنیا میں عوامی نمائندگان کے لیے بنیادی معیارات میں سچا ایمان دار ہونا ہے جبکہ ہمارے ہاں اخلاقیات کو بلند کرنے کے بجائے معیارات کو کم کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 4 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 (1) (f) کالا قانون ہے۔

اس سے قبل، 3 اکتوبر کو آرٹیکل 62 ون ایف میں ترمیم کا بل ایوان بالا میں پیش کیا گیا تھا جس میں آرٹیکل 62 سے صادق اور امین کے الفاظ ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ہوشاب میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشت گرد ہلاک

راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں آپریشن کے دوران 10 دہشت گردوں …