ہفتہ , 26 نومبر 2022

چھیالس نسل پرست فاشسٹ تنظیمیں مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے میں سرگرم

مقبوضہ بیت المقدس کا مسئلہ بالعموم اور مسجد اقصیٰ خاص طور پر صہیونی قابض دشمن کے پروپیگنڈے سے جڑا ہوا ہے۔ قابض ریاست بائبل اور مذہبی حوالوں کا استعمال اور القدس پر بالخصوص مشرقی حصے پر حاکمیت مسلط کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتی ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ القدس اس کا دل ہے جس میں مسجد اقصیٰ بھی واقع ہے۔ یہ مسجد مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے۔

اسرائیل کے تمام سیاسی، سکیورٹی اور عسکری اداروں کی توجہ القدس اور مسجد اقصیٰ پر لگی رہتی ہے۔ انتہا پسند یہودیوں کو وہاں پر دھاوا بولنے کی اجازت دی جاتی ہے اور انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کےلیے فول پروف سکیورٹی مہیا کی جاتی ہے۔

قبلہ اول پر دھاوے کے دوران انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ میں تلموی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے اجازت ہوتی ہے۔ یہ یہودی وہاں پر اردن کے زیر سرپرستی قبلہ اول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کرتے ہیں۔ اس وقت قبلہ اول میں یہودی انتہا پسند گروپوں کے دھاوے صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ انتہا پسند اسرائیل کے سیاسی، عسکری اور فوجی شعبے میں گھسے ہوئے ہیں۔ وہ وہاں پر دانستہ طور پرجنگ چھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ جنگ چھیڑنے سے مسیح کا نزول جلد ہوگا۔

ہیکل گروپ

فاشٹ انتہا پسند یہودی گروہ ہیں جو مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس کی جگہ مبینہ ہیکل قائم کر سکیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہودی لوگوں کی نجات اسرائیل کی پوری سرزمین کو کنٹرول کرنے سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس کا آغاز "ٹیمپل ماؤنٹ” پر قبضے سے ہوگا ہے۔

تاریخی طور پران گروہوں نے صیہونی دائیں بازو کے اندر ایک انتہا پسند بلاک بنایا اورمذہبی قوم پرست رجحان کے پیروکاروں کو شامل کیا گیا، جس نے یہودیت کے قومی اور مذہبی دھارے کو متوازن بنایا۔ مسجد اقصیٰ کی جگہ مبینہ ہیکل کے قیام کی مہم برپا کی۔

ان کا ماننا ہے کہ سیکولر قوم پرست گروپ جو 1967 میں القدس کے مشرقی حصے پر قبضہ کرتے وقت قابض حکومت کی طرف سے کارروائی کا انچارج تھا، نے مسجد اقصیٰ پر بمباری کرنے اور اسے مٹانے کا سنہری موقع گنوا دیا۔ پھر مبینہ ہیکل کی تعمیر نہ ہوسکی۔اس کے بعد گذشتہ صدی کی اسی کی دھائی سئ یہودی انتہا پسندوں نے قبلہ اول کی جگہ ہیکل کی تعمیر کی منصوبہ بندی شروع کی۔

"ٹیمپل ماؤنٹ ٹرسٹیز” گروپ کو 1967 میں قائم ہونے والا پہلا گروپ سمجھا جاتا تھا۔ اس کا بانی گیرشون سالمن ایک انتہا پسند یہودی تھا۔ ایریل "ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ” گروپ جو ٹیمپل گروپس کا مادر ادارہ ہے سب سے بڑا یہودی مرکز ہے جو مسجد اقصیٰ کے انہدام کی مہم چلا رہا ہے۔ دونوں نمایاں سیٹلمنٹ سوسائٹیز "Ateret Cohenim” اور "Elad”، پھر "Temple Mount Trustees” گروپ۔ ویمن فار دی ٹیمپل، اسٹوڈنٹس فار دی ٹیمپل جس کی سربراہی ٹام نیسانی کر رہے تھے، ٹیمپل ماؤنٹ ہیریٹیج گروپ کے علاوہ مجموعی طور پرچھیالیس ایسے گروپ کام کررہے ہیں جو قبلہ اول کو مسمار کرنا چاہتے ہیں۔

46 گروپوں کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے

مرکزاطلاعات فلسطین کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں القدس اور مسجد اقصیٰ کے امور میں ماہر محقق جمال عمرو نے کہا کہ بیت المقدس کے گروہ انتہا پسند صہیونی گروہ ہیں، جن کی تعداد 46 ہے۔ ان میں چھوٹے، بڑے اور درمیانے درجے کی تنظیمیں شامل ہیں جو مبینہ ہیکل کی تعمیر کے لیے کام کررہی ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان گروپ کی اصلیت نسل پرستانہ اور فاشسٹ ہے اور یہ القدس میں عرب عیسائی اور اسلامی موجودگی کے خلاف ہیں۔ اسے امریکی، کینیڈین، آسٹریلوی اور یورپی عیسائی صہیونی اداروں کی طرف سے کروڑوں ڈالر مالیت کی بڑے پیمانے پر اور براہ راست مالی مدد حاصل ہے۔

عمرو نے وضاحت کی کہ ان گروہوں کے وجود کا مقصد صہیونی وجود کو زندہ رکھنا ہے، وہ اس ریاست کو زندہ رہنے اور مغربی ممالک سے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے مذہبی جواز فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ان گروہوں کے ربی ذاتی مفادات کے حصول کے لیے مذہب کی محبت کے لیے نہیں بلکہ پیسے اور جنس کی محبت کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ وہ خدا سے نہیں ڈرتے اور یہ کہ مذہب ان کے لیے صرف اپنے ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے۔

بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے امور میں ماہر محقق نے اس بات پر زور دیا کہ ان تنظیموں میں سے ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہے لیکن وہ مبینہ ہیکل کی خاطر اکٹھے ہونے کے لیے تیار ہیں لہٰذا ان گروہوں نے ایک انتہا پسند بلاک تشکیل دیا جو تمام گروہوں پر مشتمل ہے۔ یہ گروپ مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے اور اس کی زمین پرمبینہ ہیکل کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے۔

جمال عمرو کا کہنا ہے کہ ٹیمپل گروپ کے ٹرسٹیز جو 1967 کی عظیم شکست کے بعد قائم کیا گیا تھا کا بنیادی عقیدہ یہ ہے وہ بابرکت مسجد اقصیٰ کی جگہ مبینہ طور پر تیسرے ہیکل کی تعمیر نو کرنا چاہتا ہے، مسیح کی آمد کی تیاری کے لیے اسے ہیکل کی تعمیر کرنا ہے۔ اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ مبینہ ہیکل کا سنگ بنیاد رکھنے کی کوشش کی، لیکن اس کی کوششیں ناکام رہیں۔

وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ عہد نامہ قدیم میں آیا ہےکہ اس کی بنیاد پرکہ مسیح ابنِ داؤد کے آنے اور بنی اسرائیل کی نجات کے لیے تین شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، یعنی: تمام یہودیوں کی آمد، مقدس سرزمین، اس سرزمین پر "ریاست اسرائیل” کا قیام جس کا وعدہ خدا نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا تھا اور ٹمپل ماؤنٹ پر تیسرے ہیکل کی تعمیر کی بحالی۔

ٹیمپل گروپس کے پاس طویل مدتی اہداف کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی اہداف بھی ہیں۔

طویل مدتی مقاصد:

ٹمپل ماؤنٹ (حرم الشریف) کو عرب-اسلامی قبضے سے آزاد کرانا طویل مدتی مقاصد میں سے ایک ہے۔

– نام نہاد تیسرے ہیکل کی تعمیر نو جو اسرائیل کے لوگوں اور تمام اقوام کے لیے عبادت گاہ ہو گی۔

فرات سے دریائے نیل تک بائبلی اسرائیل کا قیام۔

مختصر مدت کے مقاصد:

– القدس میں ان گروہوں کو تنظیمی طور پر مضبوط کرنا، تاکہ اپنے طویل مدتی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

– اسرائیل کے لوگوں کے لیے آگاہی مہم چلانا، اسرائیل کی نجات کے موضوع پر "خدا کے منصوبے” کو سمجھنا۔

میڈیا کے ذریعے تحریک کے پیغام اور اصولوں کو پھیلانا اور ٹیمپل ماؤنٹ کے ساتھ کانفرنسوں کا انعقاد

پرانے القدس کو آباد کرنا۔

جمال عمرو نے بیت المقدس کے گروپوں کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کو مسترد کرنے کی تصدیق کی۔انہوں نے بتایا کہ انتہا پسند یہودی القدس پر مذاکرات کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر القدس پر مذاکرات کیے جاتے ہیں تو اس سے القدس تقسیم ہوجائے گا۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

(فہیم پٹیل | محمد عمید فاروقی) حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ …