ہفتہ , 26 نومبر 2022

روس کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج کیا ہوں گے؟

دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے متعدد بار مغرب کو خبردار کیا ہے کہ جارحیت کی صورت میں روس جوہری ہتھیاروں سے بھی جواب دے سکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روس کے پاس ایسے کون سے ہتھیار ہیں اور امریکی قیادت میں قائم اتحاد نیٹو اس کا کیونکر جواب دے سکتا ہے؟خبر رساں ادارے روئٹرز نے پوتن کی ان دھمکیوں کا جائزہ لیا ہے۔

کیا پوتن جوہری ہتھیار استعمال کریں گے؟
روئٹرز کے تجزیے کے مطابق اس انتہائی نوعیت کے فیصلے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ولادیمیر پوتن روس اور اپنے اقتدار کے لیے کس حد تک خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

پوتن یوکرین کی جنگ کو روس اور مغرب کے درمیان بقا کی جنگ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان کے بقول مغربی قوتیں روس کو تباہ اور اس کے وسیع قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔پوتن مغرب کو خبردار کر چکے ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ روس کے دفاع کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں تو محض لفاظی نہیں کر رہے ہوتے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوتن صرف دھمکا رہے ہیں لیکن امریکہ پوتن کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

یوکرین کے 18 فیصد حصے پر روس کے دعوے سے جوہری خطرات کی گنجائش بڑھ جاتی ہے کیونکہ پوتن ان علاقوں پر کوئی بھی حملہ روس پر حملہ تصور کر سکتے ہیں۔

روس کا ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق یہ نقطہ نظر کہ ’روایتی ہتھیاروں سے روسی فیڈریشن کے خلاف جارحیت کے بعد جب ریاست کے وجود کو خطرہ لاحق ہو‘ جوہری حملے کی اجازت دیتا ہے۔پراگ میں مقیم ایک فوجی تجزیہ کار یوری فیوڈروف نے کہا ہے کہ ’وہ(پوتن) اس وقت محض لفاظی کر رہے ہیں۔‘’لیکن اب سے ایک ہفتے یا ایک مہینے بعد کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ خاص طور پر جب پوتن سمجھیں گے کہ (روایتی) جنگ کارگر نہیں رہی۔‘

کیا پوتن جوہری حملے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ اس سوال پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’ہمیں ان کی قسم کی دھمکیوں کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا کیونکہ ان کی وجہ سے سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘
تاہم برنز نے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس کے پاس اس بات کا کوئی ’واضح ثبوت‘ نہیں ہے کہ پوتن فوری طور پر ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی جانب جائیں گے۔

کون سے جوہری ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں؟
اب تک روسی حکام میں سے کسی نے بھی ان جوہری ہتھیاروں کے ساتھ حملے کا مطالبہ نہیں کیا جو امریکہ، روس، یورپ اور ایشیا کے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔روس کے چیچنیا کے علاقے کے سربراہ رمضان قادروف نے کہا ہے کہ ماسکو کو یوکرین میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بنیادی طور پر ایسے جوہری ہتھیار ہیں جو میدان جنگ میں ایک ’حکمت عملی‘ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور جو ان بڑے بموں سے بہت کم طاقتور ہوتے ہیں جو ماسکو، واشنگٹن یا لندن جیسے بڑے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔

ایسے ہتھیاروں کو ہوائی جہازوں سے گرایا جا سکتا ہے۔ زمین سے میزائلوں، بحری جہازوں یا آبدوزوں پر فائر کیا جا سکتا ہے یا زمینی افواج کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کیا کرے گا؟
عالمی سپر پاور کے طور پر امریکہ کسی بھی روسی جوہری حملے کے ردعمل کا فیصلہ کرے گا۔روس اور امریکہ دنیا کے 90 فیصد ایٹمی اثاثوں کے مالک ہیں۔ یہ ہتھیار سرد جنگ کے دوران تیار کیے گئے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے پاس غیرفوجی ردعمل، جوہری حملے کے ساتھ جواب یا پھر ایک روایتی حملے کے ساتھ جواب دینے کے آپشنز موجود ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ امریکہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اس کے ’تباہ کن نتائج‘ ہوں گے۔

ریٹائرڈ جنرل اور سی آئی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ ’اگر روس نے جوہری ہتھیار استعمال کیے تو امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی یوکرین میں روسی فوجیوں اور ان کے ساز و سامان کو تباہ کر دیں گے- اور اس کا بحیرہ اسود کا پورا بیڑہ غرق کر دیں گے۔‘

دوسری جانب پوتن نے امریکہ کو یاد دلایا کہ اب تک صرف امریکہ نے ہی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ یہ 1945 کا ذکر ہے جب جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسائے گئے تھے۔

کس کے پاس زیادہ جوہری ہتھیار ہیں؟
فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق جوہری وار ہیڈز کی تعداد کے لحاظ سے روس دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہے۔روس کے پاس پانچ ہزار 977 وار ہیڈز ہیں جبکہ امریکہ کے پاس پانچ ہزار 428 ہیں۔

ان اعداد و شمار میں ذخیرہ شدہ اور پرانے ہو جانے والے تمام ہتھیار بھی شامل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ روس اور امریکہ کے پاس دنیا کو کئی بار تباہ کرنے کے لیے کافی طاقت موجود ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق روس نے ایک ہزار 458 اسٹریٹجک جوہری وار ہیڈز فائر کے لیے تیار رکھے ہیں جبکہ امریکہ کے پاس کسی بھی وقت استعمال کے لیے تیار جوہری ہتھیاروں کی تعداد ایک ہزار 389 ہے۔

ان ہتھیاروں میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل، آبدوزوں پر نصب بیلسٹک میزائل اور سٹریٹجک بمبار شامل ہیں۔
دوسری جانب ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی بات کی جائے تو ان کی تعداد روس کے پاس امریکہ کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے۔بشکریہ نیوز نور

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی رژیم کے سازشی منصوبے کا انکشاف

یروشلم: اسرائیلی رژیم کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حکومت دو ملین …