پیر , 5 دسمبر 2022

صادق و امین سے نااہلی تک!!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

سابق وزیراعظم عمران خان نااہل ہو گئے ہیں۔ صادق و امین سے نااہلی کا سفر طے کرنے میں انہیں کچھ زیادہ وقت لگا نہیں۔ دو چار برس میں ہی صادق و امین سے جھوٹے، خائن اور نااہل قرار پائے ہیں۔ یہی پاکستان کی سیاست کا اصل رنگ ہے۔ جو کل تک نااہل تھے آج ان کے لیے واپسی کے راستے کھل رہے ہیں اور جو کل تک سب سے بہتر تھے آج ان حیثیت صرف مظاہرین کی ہے۔ مظاہرے کرتے رہیں، احتجاج کرتے رہیں، نعرے لگاتے رہیں، کچھ نہیں ہونے والا، نہ پہلے کچھ ہوا تھا نہ اس مرتبہ کچھ ہونا ہے نہ ہی آئندہ کچھ ہو گا۔ عمران خان کی نااہلی سیاستدانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگوں نے غلطیوں سے کچھ سکھیں ہے، ممکن ہے حالات تھوڑے بہتر ہوں تو وہ پھر غلطیاں دہرانے لگ جائیں لیکن ابھی تک تو محسوس ہوتا ہے کہ مزاحمت کے بجائے مشاورت کی سیاست پر عمل کر رہے ہیں۔

عمران خان پوری قوت کے ساتھ حکومت میں آئے تھے انہیں ہر طرف سے تعاون حاصل تھا اور وہ اس تعاون کا متعدد بار اظہار بھی کر چکے ہیں۔ وہ کہتے رہے کہ ہم ایک "پیج” پر ہیں لیکن حکومت سے نکلنے کے بعد انہوں نے وہ کتاب کھولی جو دور اقتدار میں انہوں نے کسی کو نہیں دکھائی، نہ اس کتاب بارے انہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے کبھی بات کی لیکن تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے علیحدگی کے بعد وہ مکمل طور پر مختلف روپ میں دکھائی دیئے۔ وہ اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، خود کو ایک بے بس حکمران ثابت کر کے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، لوگوں کو جذباتی انداز میں سڑکوں پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جلسے کر رہے ہیں، تعلیمی اداروں کے دورے کر رہے ہیں، مہنگائی پر بات کر رہے ہیں، انہیں میرٹ کی یاد بھی ستا رہی ہے۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن جب وہ حکومت میں تھے اس حوالے سے انہوں نے کچھ کام کیا یا نہیں، کیا ان کے دور میں تقرریاں میرٹ پر ہوتی رہی ہیں۔ کیا انہوں نے جمہوری نظام کو چلانے کے لیے بنیادی چیزوں کا خیال رکھا کیا وزیراعظم ہوتے ہوئے وہ خود مہنگائی سے پریشان ہوتے تھے اس وقت تو مہنگائی کی بات کرنے والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا جو انہیں تصویر کا دوسرا رخ دکھاتا اسے دشمن سمجھا جاتا تھا۔ عمران خان کے پاس ایماندار رہنے کا آپشن موجود تھا لیکن انہوں نے نااہلی کو ترجیح دی اگر آج وہ اس جگہ پہنچے ہیں تو اس کے سب سے بڑے ذمہ دار وہ خود ہیں۔

تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان نے دانستہ طور پر تحائف کی تفصیلات گوشواروں کی تفصیلات میں جمع نہیں کرائیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان آئین کے آرٹیکل 63(1) (p) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 137، 167 اور 173 کے تحت نااہل ہیں، اس فیصلے کے بعد عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے وہ کرپٹ اقدام کے بھی مرتکب ہوئے۔ عمران خان نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں غلط گوشوارے جمع کرائے، عمران خان نے ملنے والے تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے اور ان کے پیش کردہ بینک ریکارڈ تحائف کی قیمت سے مطابقت نہیں رکھتا، عمران خان نے اپنے جواب میں جو مو¿قف اپنایا وہ مبہم تھا۔الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ سال 19_2018 میں تحائف فروخت سے حاصل رقم بھی ظاہر نہیں کی۔ عمران خان نے مالی سال 21_2020 کے گوشواروں میں بھی حقائق چھپائے، عمران خان نے الیکشن ایکٹ کی دفعات 137، 167 اور 173 کی خلاف ورزی کی۔ فیصلے میں عمران خان کی نشست خالی قرار دی اور کہا کہ عمران خان کی نااہلی آرٹیکل 63 ون پی کے تحت کی گئی، ان کی نااہلی الیکشن ایکٹ کی دفعات137 اور 173 کے تحت ہوئی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کو عوامی حمایت حاصل ہے لیکن یہ حمایت انہیں دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے وقت بھی حاصل تھی لیکن وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے نیں ناکام رہے۔ اس دوران انہوں نے کرپشن کے خاتمے کے دعوے تو کیے لیکن ساتھ ہی ساتھ مصلحتوں سے بھی کام لیتے رہے۔ عوامی حمایت تبدیل ہوتی رہتی ہے کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹرز بہت جوشیلے تھے پھر مسلم لیگ نواز کے پرجوش ووٹرز بھی دیکھے ہیں، متحدہ قومی موومنٹ کے ووٹرز بھی بھرپور انداز میں اپنی جماعت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح جماعت اسلامی کے ووثرز بھی کسی دور میں جوش و جذبے سے بھرپور ہوا کرتے تھے لیکن آج ہر سیاسی جماعت اس حوالے سے نسبتاً کمزور ہے۔ لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آتی رہتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو قائل کرنے کے لیے یا انہیں سمجھانے کے لیے یا پھر سن اعتماد حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے سیاسی قیادت کو سچ بولنے کی عادت اپنانا ہو گی۔ عمران خان جب وزیراعظم تھے وہ کہا کرتے تھے کہ فیصلے میں کرتا ہوں آج وہ فیصلوں کا وزن کسی اور پر لاد رہے ہیں۔ یہی حال دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی ہے۔

ماضی میں ہم نے سیاسی عدم استحکام کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے ملک دوبارہ کسی بڑے حادثے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیاسی عدم استحکام اور سیاسی انتشار دشمن کو کارروائیوں کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم نے بحثیت قوم ناصرف دشمن کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ سیاسی قیادت کو بھی درست سمت کام کرنے کے لیے متحرک رکھنا ہے اگر بحیثیت قوم ہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کی غلط پالیسیوں پر سر جھکانے اور یس سر کہنے کے بجائے نشاندہی کریں اور انہیں غلط فیصلوں سے روکنے میں کردار ادا کریں تو ناصرف لکیر پیٹنے سے بچ جائیں۔ کسی ایک کی نااہلی کسی دوسرے کے لیے پیغام ہوتا ہے۔ سیاست دانوں کے پاس اب بھی وقت ہے وہ ملک و قوم کی خدمت کو شعار بنائیں، ذاتی مفادات کے لیے قومی مفادات کا خون مت کریں، سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنائیں، ایک عام اور باصلاحیت پاکستانی کی پارلیمنٹ تک رسائی کو آسان بنائیں۔ عمران خان کی نااہلی کے فیصلے مدت کے تعین پر بحث شروع ہو چکی ہے یوں ایک مرتبہ پھر نظریں عدلیہ پر ہوں گی۔ کاش حکمران طبقہ یہ جان لے کہ انہیں اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے کسی ایک ایسی جگہ جہاں کوئی طاقت، سفارش، عہدہ اور مرتبہ کام نہیں آئے گا۔ کاش یہ سمجھ جائیں۔بشکریہ نوائے وقت

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

عراق، ترکیہ کے غیر قانونی فوجی اڈے پر راکٹوں کی بارش

بغداد:عراق کے موصل شہر میں واقع ترک فوج کے غیر قانونی اڈے پر 8 راکٹ …