بدھ , 7 دسمبر 2022

پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے گیس دینے کیلئے تیار ہیں، ایرانی قونصل جنرل

کراچی:کراچی میں تعینات جمہوری اسلامی ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان نے کہا ہے کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ان کا ملک برادر پڑوسی اسلامی پاکستان کو قدرتی گیس کی فراہمی کیلئے تیار ہے اور اس سلسلے میں ایران نے اپنے ملک میں پاکستان کی سرحد تک 950 کلو میٹر تک لمبی پائپ لائن بچھائی ہوئی ہے، جس کا معاہدہ 2012ء میں ہوا تھا اور معاہدے کے تحت 25 سال کیلئے پاکستان کو 60 ملین کیوبک فٹ قدرتی گیس فراہم کرنا تھی، بدقسمتی سے اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوسکا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایرانی قونصل خانے میں پاک ایران تعلقات سے متعلق پریس بریفنگ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر نائب قونصل جنرل و دیگر بھی موجود تھے۔ ایک سوال پر ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان نے کہا کہ 1990ء میں 2700 کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کا ایک معاہدہ آئی پی آئی (IPI) ایران، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا تھا، جس کے تحت بھارت کو بھی 90 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کرنا تھا، لیکن بھارت اس معاہدے سے نکل گیا، اس پر اس لئے عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

قونصل جنرل حسن نوریان نے کہا کہ جلد ایک ایرانی 5 رکنی وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گا، جس میں مختلف شعبوں کے افراد شامل ہوں گے اور اس وفد کے دورے کے موقع پر دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 14 جنوری کو کراچی ایکسپو سینٹر میں ایران کی سنگل کنٹری نمائش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران دنیا میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گذشتہ 6 ماہ میں 580 ملین ڈالر کی تجارت ہوئی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان مختلف معاملات پر کمیٹی بنانے پر بھی غور ہو رہا ہے، ایران پاکستان کو فوڈ آئٹم سمیت مختلف مشینری تعمیرات کا سامان، میڈیسن اور چاکلیٹ وغیرہ برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سمیت مغربی ممالک کی جانب سے ایران کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور گذشتہ دنوں ایران میں مہسا امینی نامی لڑکی کی موت کو مسئلہ بنا کر ایران میں فسادات کرائے گئے، جبکہ ایرانی صدر نے مرنے والی لڑکی والدین سے رابطہ کیا اور انہیں صاف شفاف تحقیقات کا یقین دلایا، مرنے والی لڑکی کی لاش کا 19 ڈاکٹروں کی ٹیم نے پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے موت کا جائزہ لیکر رپورٹ تیار کی اور اس ٹیم میں پرائیوٹ ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔

حسن نوریان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے یہ غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ایران میں خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل رہے، جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے، ایران میں خواتین کو برابری کے حقوق حاصل ہیں، 25 فیصد خواتین کو ملازمتوں میں حصہ دیا جاتا ہے، 1100 ججز خواتین ہیں، 700 اداروں کی سربراہ خواتین ہیں، 99.9 فیصد خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں خواتین کی خودکشی کی تعداد ایک لاکھ خواتین میں سے 1.3 ہے، جبکہ امریکہ میں ایک لاکھ میں 6 فیصد خواتین خودکشیاں کرتی ہیں، مہسا امینی کا معاملہ اچھالنے کیلئے امریکا میں 1500 سے زائد آرٹیکل لکھے گئے، اسی طرح برطانیہ میں لکھے گئے کالم کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور جرمنی میں 900 سے زائد کالمز لکھے گئے اور اٹلی میں بھی 500 کے قریب کالم چھاپے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مہسا امینی کی آڑ لیکر پینٹاگون اسرائیل کو تسلیم کرانا چاہتا ہے، لیکن ہم کسی صورت ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک 40 سال سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ 8 سال ہمیں جنگ میں دھکیلا گیا، اس جنگ میں صدام حسین نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ہمارے لوگوں کو شہید کیا، ایران میں داعش کے ذریعے بدامنی پھیلانے کیلئے بڑی تعداد میں ہتھیار پہنچائے گئے، لیکن ایران کی حکومت نے عوام کے تعاون سے اس سازش کو بھی ناکام بنایا۔

ایک سوال پر ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ نے یوکرین کے خلاف روس کو ڈرون فراہم کرنے کی سختی سے تردید کی ہے، ہمیں پابندیوں کا سامنا کرنے کا اچھا تجربہ ہے، اس لئے اگر کوئی نئی پابندی عائد کی جاتی ہے، تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، مغرب کو ہم پر پابندیاں لگانے کا شوق ہے تو اپنا شوق پورا کرلے، اب ایران نے پابندیوں کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پر 20 سال تک فوج کشی کرکے امریکا کچھ حاصل نہیں کرسکا اور بلآخر وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی، افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ایران کو 45 لاکھ افغانیوں کی میزبانی کرنی پڑ رہی ہے اور اسی طرح سے پاکستان میں بھی لاکھوں افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر آیت اللہ رئیسی اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 6 سے زیادہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور دونوں سربراہان کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھی ملاقات ہوئی، اس کے علاوہ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جون میں ایران کا دورہ کیا، دونوں ملکوں کے درمیان اچھے برادرانہ تعلقات ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آرہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بزدل صیہونی حکومت الہیٰ روایت کی بنیاد پر زوال پذیر ہے، جنرل عبدالرحیم موسوی

تہران:اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے صحافیوں سے …