پیر , 28 نومبر 2022

پاک امریکا تعلقات کی سرد مہری

(سلمان عابد)

پاکستان امریکا تعلقات کی کہانی میں مثبت اورمنفی دونوں پہلووں کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ بقول امریکی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت ’’ ساس اوربہو‘‘ کے تعلقات جیسی ہوتی ہے۔

ایک ہی وقت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوشی یا بہتری کے دعووں کے ساتھ ملتے ہیں تو دوسرے وقت میں بداعتمادی کے ماحول میں تلخیاں، الزام تراشیاں اور منفی تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک اچھے او ربرے تعلقات کے درمیان ہی کھیلنا چاہتے ہیں یا خاص طور پر یہ امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ اور تعریف دونوں کی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی بداعتمادی کے ماحول یہ ممکن ہے کہ دونوںممالک مستقبل میں بہتری کے تعلقات میں آگے بڑھ سکیں گے ۔

لاس اینجلس میں ایک تقریب میں امریکی صدر نے جو کچھ کہا وہ بہت اہم تھا او راس سے پاکستان او رامریکا کے درمیان کے تعلقات کی سرد مہری کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے بقول ’’ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے اور اس کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے ۔‘‘ اس بیان کے بعد پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا شدید ردعمل فطری تھا۔ جو بائیڈن کے بیان کو مسترد کردیا گیا بلکہ اس کی شدید مذمت بھی کی گئی اور امریکی سفیر کو اجتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔ اس بیان کی سیاسی ٹائمنگ بھی بہت اہم تھی۔
ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تواتر کے ساتھ امریکی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں تھی لیکن ان ملاقاتوں کے بعد اس طرح کے سخت بیانات واقعی قابل غور ہیں ۔سوال یہ ہے کہ یہ بیان کیونکر دیا گیا او ر کیوں اس کی اس وقت ضرورت امریکی صدر نے محسوس کی ا ور اس کے پیچھے کیا سیاسی مقاصد تھے ۔

اس مسئلہ کو سمجھیں تو ہمیں پانچ بڑے نکات سامنے آسکتے ہیں ۔ اول امریکی صدر نے اس بیان کی بنیاد پر بھارت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جو ہمیشہ پاکستان پر سخت دباو ڈالنے کا حامی رہا ہے اورامریکا بھی دبے لفظوں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ خطہ میں پاکستان کو بھارت کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے ۔ دوئم افغانستان کی صورتحال پر امریکا کا پاکستان سے نالاں ہونا، سوئم امریکا کے مقابلے میں خطے کی سیاست میں چین کا بڑھتا ہوا اثر ونفوز ، چہارم پاکستان خطے میں امریکا کے اثر سے باہر نہ جا سکے۔

پنجم پاکستان کی جانب سے یوکرائن کے مسئلہ پر پاکستان کی خاموشی یا امریکی حمایت سے انکاری شامل ہے ۔ بہرحال امریکی ڈیموکریٹک سینٹرکریس وین ہولن نے امریکی صدر کے بیان کے بعد وضاحت کی کہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ۔انھوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت سے متعلق امریکی صدر کے بیان کی بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر اثر انداز ہونا نہیں تھا۔

اس بیانیہ سے یہ بات ثابت ہے کہ امریکی صدر کی پاکستان کے جوہری پروگرام کے متعلق غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ اس مسئلہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر منفی اثر آسکتا ہے ۔کیونکہ پاکستان کا ایٹمی نظام انٹڑنیشنل اٹامک انرجی ایسوسی ایشن کے متام ریگولیشنزپر مکمل طور پر عمل پیرا ہے او راس کا حفاظتی نظام عالمی سطح کے معیار پر قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک کی حیثیت سے دنیا میں اپنے نیوکلیئر پروگرام کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ حفاظت یقینی بنارہا ہے جس کی نظیر بین الااقومی سطح پر ملتی ہے ۔پاکستان دنیا کے ان اہم ممالک میں شامل ہے جو دنیا کی بہترین افواج کے ساتھ ساتھ اپنے نیوکلیئرپروگرام کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی مکمل حفاظت اور استعمال کے لیے قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔

دوسری طرف امریکی ترجمان محکمہ خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ ہمیں ایٹمی اثاثوں کے تحفظ اور سیکیورٹی کے پاکستانی عزم و صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے ۔ان کے بقول امریکی صدر ہمیشہ سے محفوظ اور خوشحال پاکستان کو ہی امریکی مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں ۔اس لیے ان کے بقول امریکی صدر کے بیان کو پاکستان منفی نہ لیں ۔ان بیانات سے امریکا نے عملی طو رپر امریکی صد رکے بیان کے بعد ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جو کئی دہائیوں سے عالمی دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی مہم میں امریکا سمیت دیگر ممالک کا اتحادی ہے اس جنگ میں پاکستان نے جس بڑے انداز میں اپنا مثبت کلیدی کردار ادا کیا او راس کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے دہلی میں بیٹھ کر کہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں ہماری کلیدی اتحادی ہے اور اس کے کردار کو ہم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے بقول پاکستان ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے جسے ہم کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایسے میں جب پاکستان امریکا کے ساتھ تعلقات میں کئی قدم آگے بڑھ کر کام کیا ہے او رایسے میں جب امریکی صدر خود ایک غیر زمہ دارانہ بیان دیتے ہیں تو یہ خود ہماری سیاسی اور سفارتی یا ڈپلومیسی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔امریکا کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ پاکستان کے چین کے علاوہ روس سے بڑھتے ہوئے بھی روابط ہیں جن سے امریکا خوش نہیں ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان کے پیچھے عملاً ڈومور پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔

پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں ہمیں اگر ہمیں مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہے او ر اپنے لیے بہتری کی تلاش کرنی ہے تو اپنے داخلی معاملات کا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، سب سے پہلے پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مفاہمت کا راستہ نکالنا ہوگا ۔ کیونکہ ہم امریکا سمیت دیگر ملکوں کی سیاست پر اسی وقت کوئی موثر کردار ادا کریں گے جب ہم خود بھی اپنی اصلاح کے لیے تیار ہوںگے ۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کے حالات اور یکطرفہ معلومات

(تحریر: نذر حافی) اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں، یہ میڈیا کی چال ہے کہ …