بدھ , 7 دسمبر 2022

سابق سعودی ولی عہد محمد بن نائف کی حالت تشویشناک

ریاض:آل سعود کے ایک سرکدہ مخالف رہنما نے ایک ٹویٹ میں سابق سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن نائف کی حراست کی جگہ اور میڈیا میں ان کی کوریج نہ کرنے کی وجہ بتائی ہے ۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ایک سرکردہ حزب اختلاف کے رہنما غانم الدوسری نے ایک ٹویٹ میں سابق سعودی ولیعہد محمد بن نائف کی نظربندی کی جگہ اور میڈیا پر ان کو کوریج نہ دینےکی وجہ بتائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمد بن نایف ریاض کے شمال میں العماریہ فارم میں زیر حراست ہیں اور اس پر بدستور تشدد کیا جا رہا ہے اور میڈیا تک ان کی رسائی بند ہے۔

تاہم نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ سابق سعودی ولیعہد شاہی محل کے ارد گرد واقع ایک عمارت میں منتقل ہو گئے ہیں اور اب بھی وہیں تنہائی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد بن نایف کو مذکورہ عمارت میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ٹیلی ویژن سمیت مواصلاتی آلات تک اسے رسائی حاصل نہیں ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سابق سعودی ولی عہد کو صرف اپنے خاندان کے چند مخصوص افراد سے ملنے کی اجازت ہے، تنہائی، قید اور تشدد کی وجہ سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہوگئےہیں اور لاٹھی کے بغیر چلنا ان کےلئے ممکن نہیں رہا۔

واضح رہے کہ سابق سعودی ولیعہد محمد بن نائف کو ہٹانے کی وجہ موجودہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو لاحق یہ خدشہ تھا کہ وہ محمد بن نائف کی موجودگی میں اپنے والد اور موجودہ سعودی پادشاہ کے مرنے کے بعد تخت نشین نہیں ہو پائیں گے، ان خدشات کی وجہ سے پادشاہ نے اپنے چھوٹے بیٹے محمد بن سلمان کے بادشاہ بننے کی راہ میں حائل اس رکاوٹ کو ہٹانے کےلئے انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا تاکہ وہ کوئی کاروائی کرنے کے قابل نہ رہیں۔

اسی دوران وطن نیوز سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ سابق سعودی ولیعہد محمد بن نائف کوموجودہ ولی عہد محمد بن سلمان اورسعودی بادشاہ کے حکم سے مارچ 2020مین حراست میں لے کر معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیاتھا۔

سعودی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ محمد بن نائف کو الحیر جیل میں منتقل کیا گیا تھا جہاں پر تشدد، قید تنہائی کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوگئی تھی ۔

سعودی ذرائع نے مزید کہا کہ محمد بن نائف کو شدید ایذا رسانی اور بدسلوکی کا سامنا ہے اور وہ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر میں مبتلا ہیں اور علاج معالجہ کی سہولیات کی عدم فراہمی سے ان کی وزن کم ہوگیا ہے۔

محمد بن نائف کے ساتھ گرفتار ہونے والے احمد بن عبدالعزیز کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ شاہ سلمان کے محل میں نظر بند ہیں اور ان کے ساتھ سخت ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں سعودی خاندان کی حکومت ہے جو طاقت اور دولت کے حصول، شاہی اعلی مقامات تک رسائی کےلئے ایک دوسرے سے شدید رقابت کرہے ہیں اورمیڈیا میں شاہی خاندان کے درمیان اختلافات اورلڑائی جھگڑوں کی خبریں وقتافوقتاشدید سینسرشپ پالیسی کے باوجودباہر آتی رہتی ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین؛ صیہونی فوجیوں نے مسجد "رسول الله” کو شہید کر دیا

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے جنوبی الخلیل …