بدھ , 7 دسمبر 2022

معروف صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا، اہلیہ

اسلام آباد:معروف صحافی و سینیئر اینکر پرسن ارشد شریف کے اہل خانہ نے تصدیق کی ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آج میں نے اپنا دوست، شوہر اور پسندیدہ صحافی کھو دیا، پولیس نے بتایا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں اپیل کی کہ ہماری پرائیویسی کا احترام کریں اور بریکنگ نیوز کے نام پر برائے مہربانی ہماری فیملی کی تصویریں، ذاتی تفصیلات اور ارشد شریف کی ہسپتال میں لی جانے والی آخری تصاویر شیئر نہ کریں۔ ارشد شریف پاکستان میں طویل عرصے تک نجی چینل "اے آر وائی نیوز” سے منسلک رہے، اے آر وائی نیوز کے سی ای او سلمان اقبال نے بھی اس حوالے سے ٹوئٹ کرتے ہوئے اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ مجھے اب تک اس خبر پر یقین نہیں آرہا، میرے پاس کہنے کو کوئی الفاظ نہیں رہے، اللہ ارشد شریف کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ کینیا میں پاکستانی ہائی کمیشن حکام سے معلومات حاصل کر رہا ہے۔ معروف صحافی کے انتقال پر ان کے ساتھیوں، صحافی برادری اور سیاستدانوں کی جانب سے اظہار تعزیت کیا جا رہا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن کاشف عباسی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ میرے بھائی، میرے دوست، میرے ساتھی ارشد شریف کو کینیا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، میں اب بھی یقین نہیں کرسکتا، یہ خبر دل ٹوٹنے سے بھی زیادہ اذیت ناک ہے، یہ بہت غلط اور تکلیف دہ ہے۔ جیو نیوز کے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ وہ یہ افسوسناک خبر سن کر انتہائی دکھی ہیں۔ ہم نیوز کی اینکر پرسن مہر بخاری نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ارشد شریف اب نہیں رہے، وہ صرف ایک ساتھی نہیں بلکہ بھائی کی طرح تھے، اسلام آباد سے ماسکو تک، دنیا نیوز سے اے آر وائی تک، میں نے ان جیسا مہذب انسان نہیں دیکھا، بہت کم عمری میں بہت بے دردی سے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ سینیئر صحافی کامران خان اور شہباز رانا نے ارشد شریف کی وفات اور ان کو قتل کیے جانے کے دعووں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر، سینیٹر اعظم سواتی اور اسد قیصر نے بھی ارشد شریف کی موت کی خبر پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ رواں برس پولیس نے ارشد شریف، اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کے سربراہ عماد یوسف، اینکر پرسن خاور گھمن اور ایک پروڈیوسر کے خلاف 8 اگست کو پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹر شہباز گل کے چینل پر نشر کیے گئے ایک متنازع انٹرویو پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ایک دن بعد، وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وجہ کے طور پر ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا این او سی کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا اور اس کے بعد ارشد شریف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ بعد ازاں "اے آر وائی نیوز” نے کوئی خاص وجہ کا حوالہ دیئے بغیر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ارشد شریف سے "راستے جدا” کر لیے ہیں اور توقع ظاہر کی تھی کہ سوشل میڈیا پر ان کے ملازمین کا رویہ ادارے کے قواعد کے مطابق ہو۔

یہ بھی دیکھیں

بلاول پوری دنیا میں گھومے پھرے تاحال افغانستان نہیں گئے، تجزیہ کار

کراچی:جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان مبشر ہاشمی کے سوال جنگ بندی کے اعلان …