منگل , 6 دسمبر 2022

الیکشن کمیشن کے دفاتر کیلئے پنجاب پولیس سے سیکیورٹی طلب

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے دفاتر اورعملے کے لیے فول پروف سیکیورٹی کے لیے پنجاب پولیس کو خط لکھ دیا۔رپورٹ کے مطابق توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے خدشے کے باعث صوبائی الیکشن کمشنر نے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو الیکشن کمیشن کے تمام دفتر کے اطراف سخت سیکیورٹی کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی پولیس چیف کو خط لکھا جس میں بتایا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کی نااہلی کے خلاف پی ٹی آئی نے پنجاب بھرمیں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کی منصوبہ بندی کی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ احتجاج کے باعث ممکنہ ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر کے دفتر سمیت پنجاب کے تمام دفاتر کی سیکیورٹی سخت بنائی جائے۔

الیکشن کمیشن نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ 21 اکتوبر سے لے کر جب تک حالات بہتر نہیں ہوجاتے تب تک لاہور میں الیکشن کمیشن کے دفتر سمیت مقامی دفاتر کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔

خیال رہے کہ 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کو ’جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر‘ نا اہل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔

چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد الیکشن کمیشن اسلام آباد کے باہر موجود تھی جس کے باعث الیکشن کمیشن نے ممکنہ ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر پورے علاقے اور خصوصاً عمارت کے ارد گرد سخت سیکیورٹی تعینات کردی۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات
دوسری جانب دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے ایف سی اور پولیس افسران کی تعیناتی کا خصوصی پلان تشکیل دے دیا ہے۔

خصوصی پلان سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس آپریشن کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں پولیس کو 3 شفٹ میں 8 گھنٹوں کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

چیک پوائنٹس پر تعینات پولیس اہلکاروں کو معتلقہ ایس ایچ ایچ کی جانب سے اسلحہ سمیت سیگر سیکیورٹی گیجٹ فراہم کیے جائیں گے جبکہ شفٹ انچارج پولیس عملہ کی جانچ پڑتال کا ذمہ دار ہوگا۔

چیک پوائنٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کو بُلٹ پروف بیری کیڈ، 60 راؤنڈ کے ساتھ ڈبل سائز ایس ایم جی، دو 9 ایم ایم پستول، بلٹ پروف ہیلمٹ، 5 جیکٹ، ایک اسٹاپ سائن، 2 ٹارچ لائٹ، ایک سرچ لائٹ، ایک وائرلیس سیٹ، 4 ہتھکریاں، 2 آئرن سوٹ کیس، ایک نیلی روشنی والی لائٹ، 2 چھتریاں اور بارش سے بچنے کے لیے 4 کوٹ بھی دیے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

چیف جسٹس نے ارشد شریف قتل کا از خود نوٹس لے لیا

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے سینئر صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل …