ہفتہ , 10 دسمبر 2022

اپنی مرضی کے صدر کی تلاش

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ "نبیل قاووق” نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے صدارتی انتخابات میں سعودی عرب کے سفارت خانے کی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن کا بیان ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ لبنانی پارلیمنٹ کی اس ملک کے نئے صدر کے تقرر کی چوتھی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ لبنانی پارلیمنٹ کا اجلاس 24 اکتوبر کو منعقد ہوا، جس میں 128 میں سے 110 نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ووٹنگ میں 50 وائٹ پیپرز یعنی بغیر نام کے ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ میشل معوض کے لیے 39 ووٹ ڈالے گئے، لبنان الجدید کے لیے 13 ووٹ، عصام خلیفہ کے لیے 10 ووٹ ڈالے گئے اور 2 ووٹ باطل قرار دیئے گئے۔ لبنان کے صدر کے انتخاب کے لیے ارکان پارلیمنٹ کے دو تہائی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب چوتھے اجلاس میں صدارتی امیدواروں کے خلاف سفید یعنی بغیر نام ووٹوں کی برتری نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔

اگرچہ لبنانی پارلیمنٹ کی جانب سے نئے صدر کی تقرری میں ناکامی کی کئی وجوہات ہیں، لیکن حزب اللہ تحریک کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ "نبیل قاووق” نے کہا ہے کہ "یہ بات لبنانیوں کے لیے اب کوئی راز نہیں رہی کہ لبنان میں سعودی عرب کا سفارت خانہ صدر کے انتخاب میں مداخلت کرتا ہے، جیسا کہ اس نے ایوان نمائندگان کے انتخابات میں مداخلت کی، لیکن اس بار یہ امریکی اور سعودی سفارتخانوں کی براہ راست مداخلت اتنی واضح ہے کہ بعض لبنانی نمائندے باقاعدہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ لبنان میں سعودی عرب کے سفیر ولید البخاری نے نئے صدر کی تقرری کے حوالے سے لبنانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان سے ملاقات کی ہے۔ لبنان کے نئے صدر کی نامزدگی میں سعودی عرب کی مداخلت کی وجوہات میں کئی چیزیں شامل ہیں۔

سعودی عرب کچھ دوسرے عرب ممالک کی طرح لبنان کو ایک چھوٹے ملک کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ریاض کے ماتحت ہونا چاہیئے، خاص طور پر خارجہ پالیسی میں، ریاض نے پارلیمانی انتخابات کے میدان میں اپنا مقصد حاصل نہیں کیا تھا، اب انتخابات کے بعد ہونے والی سرگرمیوں میں مداخلت کرکے اقتدار کو اس طرح ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ سعودی نواز یا کم از کم وہ لوگ جو لبنانی حزب اللہ کے قریب نہ ہوں، انہیں لبنان کے اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ بہرحال سعودی عرب نے لبنان میں پارلیمانی انتخابات کے بعد اپنی شکست کا صدارتی انتخابات میں ازالہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب مغربی ایشیاء کے سیاسی منظر نامے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مقابلے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتا ہے۔ ریاض کی کوشش یہ ہے کہ مغربی ایشیائی خطے میں تہران کے اثر و رسوخ کے تسلسل اور مضبوطی کو روکا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے لبنان سمیت بعض عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خلل ڈالنا آل سعود کے ایجنڈے میں شامل ہے، تاکہ وہ لوگ جو اسلامی جمہوریہ کے اتحادی ہیں، اقتدار کے ڈھانچے میں داخل نہ ہوں۔لبنان میں سعودی مداخلت اور خلل کا ایک اور سبب یہ ہے کہ یہ ملک مغربی ایشیائی خطے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہا ہے۔

اگرچہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں تناؤ دیکھا گیا ہے، لیکن ریاض لبنان سمیت بعض ملکوں میں واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ مکمل متفق ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان لبنان میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن کو ختم کرنے یا کمزور کرنے پر پورا اتفاق ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر شیخ "نبیل قووق” نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے سفارت خانے اور ان کے ملحقہ ادارے مزاحمت سے نمٹنے اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے اطمینان کے حصول کے لیے اپنی مرضی کے صدر کی تلاش میں ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …