پیر , 28 نومبر 2022

پاک امریکہ تعلقات: جنوبی ایشیا میں امریکہ کا سٹریٹیجک توازن

(عبدالباسط خان)

حالیہ برسوں کی کشیدگی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر آ رہے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے گذشتہ ماہ دوروں کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کی فوجی اور انسانی امداد بحال کر دی ہے۔ امریکہ نے اگست میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مالیاتی بیل آؤٹ پیکج کو بحال کرنے میں بھی پاکستان کی مدد کی ہے۔

اسی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حالیہ دورے میں پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے اس خطے کو ’آزاد جموں و کشمیر‘ کہا جو دو طرفہ تنازع پر پاکستانی موقف کی بالواسطہ توثیق کے مترادف ہے۔ تاہم امریکہ اور پاکستان کی مفاہمت دو جنوبی ایشیائی حریفوں کے ساتھ یا ان کے درمیان تعلقات کو بحال کرنے کی واشنگٹن کی کوشش کے بجائے مشترکہ مفادات کی دوبارہ تشکیل ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف فعال کردار ادا نہ کرنے کی بنیاد پر پاکستان کی فوجی امداد معطل کر دی۔ بائیڈن انتظامیہ نے 2021 میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کے ساتھ جاری سردمہری کو برقرار رکھا۔

بائیڈن انتظامیہ کی پاکستان کے ساتھ تعلقات از سرِ نو استوار کرنے کی پہلی وجہ افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گردی کا بقایا خطرہ ہے۔ اگست میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی کابل کے مرکز میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت نے دوحہ معاہدے 2020 کی یقین دہانیوں کے برعکس القاعدہ کے ساتھ طالبان کے مسلسل رابطوں کا پردہ فاش کیا۔

اسی طرح طالبان کے اقتدار سنبھالنےکے بعد پاکستان افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے جہاں دہشت گردی میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان کی نازک سکیورٹی صورت حال نے دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خلاف تعاون کو دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے انسداد دہشت گردی تعاون کی حتمی شکل ابھی تک واضح نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں زیادہ ہم آہنگی پائی جا رہی ہے۔

دوسرا، یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی مذمت کرنے میں انڈیا کی ہچکچاہٹ اور ماسکو اور تہران سے سستے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر بائیڈن انتظامیہ میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح، دہلی نے چین کے صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں چھ اکتوبر کو پیش کی گئی قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ سے بھی پرہیز کیا۔

امریکہ اورچین کے مقابلے یا روس یوکرین تنازع میں واضح طور پر واشنگٹن کا ساتھ دینے میں انڈیا کی ہچکچاہٹ نے بھی بائیڈن انتظامیہ کو پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔

تیسرا، مون سون کے سیلاب بھی پاکستان امریکہ تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک عنصر رہے ہیں۔ طوفانی بارشوں اور سیلاب نے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈبو دیا اور تقریباً 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا۔ اس دوران امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی منتظم سمانتھا پاور، سٹیٹ کونسلر ڈیرک شولے اور کانگریس کے وفد نے ستمبر میں پاکستان کا دورہ کیا۔

امریکہ نے خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی کے لیے اسلام آباد اور ابوظہبی کے درمیان ایئر برج بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 56 ملین ڈالر کی انسانی امداد کا بھی اعلان کیا۔

آخر کار، واشنگٹن کی اسلام آباد میں دوبارہ دلچسپی پاکستان کو چین کے حصار سے دور رکھنے کی بھی کاوش ہے۔ اپنی نئی قومی سلامتی پالیسی میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بلاک سیاست کا حصہ بننے کی بجائے امریکہ اور چین کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن رکھے گا۔ بائیڈن انتظامیہ اس نکتے کو پاکستان میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کو پیچھے دھکیلنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان میں چینی کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں، سیاسی عدم استحکام، بیرونی قرضوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کے مفلوج ہونے کے ساتھ ساتھ چین کی اپنی معاشی صورت حال کی بدحالی نے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) میں چین کی سرمایہ کاری کو 56 فیصد تک کم کر دیا ہے۔

سیلاب سے نمٹنے کے لیے اپنے قرضوں کی تنظیم نو کرنے کی پاکستانی درخواست کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ پہلے چین سے واجب الادا قرضوں پر دوبارہ مذاکرات کرے۔ جوابی کارروائی کے طور پر چینی وزارت خارجہ نے ’پاک چین تعاون پر بلاجواز تنقید کرنے‘ پر امریکہ کو ’پاکستان کے عوام کے لیے کچھ حقیقی‘ کرنے کو کہا۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں گرمجوشی جنوبی ایشیا میں واشنگٹن کی جانب سے سٹریٹجک ری سیٹ کی بجائے محدود مشترکہ مفادات کی بحالی ہے۔

وزیر خارجہ بلاول کے دورہ واشنگٹن کے دوران سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ انڈیا کے ساتھ ’ذمہ دارانہ تعلقات‘ کا انتظام کرے۔ بلاول نے اگست 2019 میں کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو منسوخ کرنے والے دہلی کے یکطرفہ اقدامات کو تبدیل کیے بغیر انڈیا کے ساتھ کسی بھی طرح کے تعلقات معمول پر آنے کو مسترد کردیا۔ پاکستان نے تباہ کن سیلاب کے باوجود خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انڈیا سے بہت کم قیمت پر اشیائے خوردونوش درآمد نہیں کیں۔

لہٰذا جنوبی ایشیا میں چین کو کمزور کرنے کے لیے ہندوستان اور پاکستان کو قریب لانے کی امریکی کاوش کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملے گی۔

مزید برآں، حال ہی میں جاری کی گئی امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی انڈیا کو ایشیا پیسیفک میں چین پر قابو پانے کے واشنگٹن کے سٹریٹجک مقصد کے لیے مرکزی خیال کرتی ہے جبکہ اس میں پاکستان کا ذکر ایک بار بھی نہیں ہے۔

امریکہ اور چین کے مابین طاقت کے مقابلے کے تناظر میں دہلی کے طویل مدتی مفادات واشنگٹن کے ساتھ منسلک ہیں اور اسلام آباد بیجنگ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔ لہٰذا حالیہ پاک امریکہ تعلقات میں بڑھتی بہتری پاکستان اور انڈیا کی پوزیشن میں کسی تبدیلی کی عکاس نہیں ہے بلکہ روس یوکرین تنازعے میں خاموش رہنے پر امریکہ کی طرف سے انڈیا کے لیے ایک جھٹکا ہے۔

خطے میں امریکہ اور چین کی عالمی قوتوں کے مابین جاری مقابلے کے تحت جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاسی حقیقت ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔

لہٰذا کسی بھی بہتری کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے تعلقات افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے تعاون تک محدود لین دین اور حکمت عملی پر مبنی رہیں گے۔ اگرچہ پاکستان چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے واشنگٹن کے لیے بیجنگ کے ساتھ اپنی شراکت داری پر سمجھوتہ کرنا مشکل ہوگا۔بشکریہ دی انڈپینڈنٹ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران کے حالات اور یکطرفہ معلومات

(تحریر: نذر حافی) اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں، یہ میڈیا کی چال ہے کہ …