ہفتہ , 10 دسمبر 2022

سعودی سفارتخانہ لبنانی صدر کے انتخاب میں مداخلت کر رہا ہے،حزب اللہ

بیروت:حزب اللہ لبنان کی مرکزی شورا کے رکن شیخ نبیل قاووق نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں صدر کا انتخاب ہونے جا رہا ہے اور اس عمل میں سعودی سفارتخانے کی مداخلت بہت واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ کی مرکزی شورا کے رکن شیخ نبیل قاووق نے المنار ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "لبنانی عوام کیلئے اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ سعودی عرب کا سفارتخانہ لبنان میں صدر کے انتخاب کے عمل میں کھلی مداخلت کرنے میں مصروف ہے۔ ایسے ہی جس طرح اس نے پارلیمنٹ کے انتخابات میں مداخلت کی لیکن اس بار سعودی سفارتخانے کی مداخلت براہ راست ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض اراکین پارلیمنٹ نے سعودی سفارتخانے کی جانب سے ڈالے جانے والے دباو کی شکایت کی ہے۔” انہوں نے کہا کہ لبنان کے اندرونی معاملات میں امریکہ اور سعودی عرب کے سفارتخانوں کی مداخلت کا واحد نتیجہ صورتحال کے مزید پیچیدہ ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا جس کے باعث صدر کا انتخاب تعطل کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

شیخ نبیل قاووق نے کہا کہ یہ سفارتخانے ایسے شخص کو لبنان کا صدر بنانا چاہتے ہیں جو اسلامی مزاحمت کا مخالف ہو اور سعودی عرب اور امریکہ کی مرضی سے چلے۔ انہوں نے حال ہی میں لبنان اور غاصب صیہونی رژیم کے درمیان کیرش آئل فیلڈ سے متعلق سمجھوتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سمجھوتے میں لبنان کے تمام اقتصادی مطالبات مان لئے گئے ہیں جو ایک قومی، تاریخی اور اسٹریٹجک کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "گذشتہ گیارہ برس سے ہونے والے مذاکرات میں ہمارے سمندری حدود کا ایک میٹر بھی آزاد نہیں ہوا تھا بلکہ یہ حزب اللہ لبنان کے ڈرون تھے جنہوں نے صورتحال کو تبدیل کیا اور لبنان اپنے تمام حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غاصب صیہونی رژیم کے فوجی، سیاسی، سکیورٹی اور عوامی حلقے اسلامی مزاحمت کی اس کامیابی کے شاہد ہیں، کہا: "لیکن لبنان کے اندر کچھ حلقے اسلامی مزاحمت کی کامیابی کا انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ اس سے خوش نہیں ہیں۔”

یہ بھی دیکھیں

دشمن عورتوں کی آزادی نہیں، غلامی چاہتا ہے:آیت اللہ سید احمد خاتمی

تہران: آیت اللہ خاتمی نے عورت، زندگی اور آزادی کے نعرے کا ذکر کرتے ہوئے …