بدھ , 7 دسمبر 2022

ارشد شریف کی میت کینیا سے پاکستان روانہ، اسلام آباد میں احتجاج کی تیاریاں

اسلام آباد:ارشد شریف کی گاڑی پر مگاڈی سے کچھ فاصلے پر پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب فائرنگ کی گئی۔ اس وقت وہ نیروبی سے 87 کلومیٹر دور تھے۔ ان کا ساتھی خرم انہیں ٹنگا میں اپنے دوست کے گھر لے کر گیا۔ جہاں اسے معلوم ہوا کہ ارشد شریف کو گولی لگی ہے۔ یہاں سے ان کی لاش 25کلومیٹر آگے نیروبی کے مردہ خانے منتقل کی گئی۔

گزشتہ روز قتل ہونے والے سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشدشریف کی میت کینیا سے پاکستان روانہ کردی گئی ۔ارشد شریف کی میت نجی پرواز کے ذریعے براستہ دوحہ آج رات ایک بجے تک اسلام آباد پہنچے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم صحافی ارشد شریف کی میت پاکستان روانہ کردی گئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کینیا کے صدر سے گفتگو کے نتیجے میں قانونی امور کو تیزی سے مکمل کیا گیا۔ کینیا میں موجود پاکستان کی سفیر سیدہ ثقلین نے کئی گھنٹے تک مسلسل تمام مراحل کی نگرانی کی ہے۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہاکہ ارشد شریف کی میت کو ایک بج کر 25 منٹ پر نیروبی سے اسلام آباد روانہ کیا گیا، نیروبی میں پاکستان کی سفیر ارشد شریف کی میت کو ہوائی اڈے پر الوداع کرنے تک موجود رہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اس موقع پر زبردست طاقت کا مظاہرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، وفاقی حکومت احتجاج سے نمٹنے کی تیاریاں کررہی ہے، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سندھ پولیس اور ایف سی کے دستے اسلام آباد میں تعینات ہیں۔

پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں تقریباً 6 ہزار پولیس اہلکار قیام پذیر ہیں جبکہ 2666 ایف سی جوان فیصل مسجد اور حاجی کیمپ کے برآمدے میں موجود ہیں۔

ارشد شریف قتل: کینیا پولیس کا اپنے افسر کے ہاتھوں گولی چلنے کا اعتراف
نیشنل پولیس سروس کینیا نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ایک افسر نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

کینیا کی پولیس نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ، ”این پی ایس کو گزشتہ رات پیش آنے والے ایک واقعے کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے افسوس ہے ، جہاں ارشد محمد شریف نامی ایک غیر ملکی شہری ایک پولیس افسر کے ہاتھوں جاں بحق ہوا۔“

کینیا کی پولیس نے مزید کہا کہ یہ واقعہ گاڑی چوری کی خبر کے تناظر میں پیش آیا۔ متوفی کی گاڑی نے سڑک پر لگی رکاوٹ کو عبور کیا تب ہی ان پر گولی چلائی گئی۔

کینیائی پولیس اور صحافیوں کے متضاد دعوے
کینیا میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے بارے میں وہاں کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کینیا کی پولیس نے شناخت میں غلطی پر ہلاک کیا۔ مقامی میڈیا نے ارشد شریف کے قتل سے متعلق مزید تفصیلات شائع کی ہیں۔

کینیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ارشد شریف کو نیروبی سے کچھ فاصلے پر واقع علاقے مگاڈی میں پولیس نے ایک ہائی وے پر گولی ماری۔

ابتدا میں کینیا کے ایک نسبتاً معروف اخبار دی اسٹار نے نیروبی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ نیروبی مگاڈی ہائی وے پر چیکنگ جاری تھی کہ ارشد شریف کی گاڑی کے ڈرائیور نے مبینہ طور ناکہ توڑا، جس پر پولیس اہلکار نے گولی چلا دی جو ارشد شریف کے سر میں لگی۔

تاہم بعد ازاں دیگر اخبارات اور چند مقامی صحافیوں نے مزید تفصیل شائع کی۔ ابتدائی اطلاعات اور بعد میں سامنے آنے والی معلومات میں تضادات بھی سامنے آئے ہیں۔

ابتدائی خبروں میں کہا گیا کہ ارشد شریف کی گاڑی پر تعاقب کے بعد فائرنگ کی گئی اور ان کی گاڑی الٹ گئی تھی جب کہ بعد کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے ساتھی کو ان کی موت کا علم منزل پر پہنچ کر ہوا۔

دی اسٹار کی رپورٹ میں پولیس تعاقب کا ذکر
پولیس کی جانب سے کینیا کے اخبار’دی اسٹار’ کو بتائی جانے والی تفصیلات کے مطابق ارشد شریف دارالحکومت نیروبی سے 113 کلو میٹرکے فاصلے پر واقع مگاڈی جا رہے تھے جب انہیں نیروبی کے نواقع میں ہی ایک پولیس ناکے پرانہیں روکا گیا۔

پولیس نے یہ ناکہ اس وقت لگایا تھا جب نیروبی کے علاقے پنگانی میں ایک شخص نے رپورٹ درج کرائی کہ اس کی گاڑی چوری کر لی گئی ہے جس میں اس کا بیٹا بھی موجود ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس جس کار کو تلاش کر رہی تھی وہ اس گاڑی سے ملتی جلتی تھی جس میں ارشد شریف سفرکر رہے تھے۔

دی اسٹار کینیا نے لکھا کہ ناکہ لگائے جانے کے چند ہی منٹ بعد ہائی وے پرارشد شریف کی گاڑی دکھائی دی۔ پولیس نے گاڑی کو روکا اور مسافروں کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کی ہدایت کی۔ لیکن گاڑی میں موجود افراد روکنے اور شناخت ظاہر کرنے میں ناکام ہوگئے۔ جس کے بعد ان کی گاڑی کے مختصر تعاقب شروع ہوا اور پولیس نے گولی چلا دی۔

فائرنگ سے گاڑی بھی الٹ گئی اور ڈرائیورزخمی ہوگیا جسے اسپتال پہنچایا گیا۔ اس نےبعد ازاں پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اوراس کا مقتول ساتھی ڈویلپر تھے اور ایک جگہ دیکھنے کے لیے مگاڈی جا رہے تھے۔

پولیس ہیڈ کوارٹرنے کینیا کے اخبارکو بتایا کہ کیس انڈیپنڈنٹ پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی کودے دیا گیاہے، اس حوالے سے جامع بیان بعد میں جاری کیا جائے گا۔

مقامی صحافیوں کے مختلف دعوے
دوسری جانب کینیا کے ایک صحافی برائن ابویا نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ارشد شریف کی لاش کینیا کے چرومو مردہ خانے سے ملی ہے جو پولیس کے بتائے گئے فائرنگ کے مقام سے 78 کلو میٹردورواقع ہے۔ ارشد شریف کے جسم پر گولیوں کے2 زخم ہیں۔

برائن نے واقعات کی ایک الگ ہی ترتیب ٹوئٹر پر شائع کی۔ کم و بیش اسی قسم کی تفصیل کینیا کی غیرمعروف ویب سائیٹس پر شائع ہوئی ہے۔

کینیائی صحافیوں نے پولیس کے موقف پر سوال اٹھا دیے
صحافی ارشد شریف کے قتل پر کینیا کے صحافیوں نے بھی پولیس کے موقف پرسوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے موقف میں بہت زیادہ جھول ہیں،

کینیا کے میڈیا گروپ دی اسٹار کے چیف کرائم رپورٹر سائرس اومباتی نے بتایا کہ واقعہ کے بعد میں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا مگر پولیس نے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔ پولیس نے وہ علاقہ اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گاڑی کو روکنا تھا تو گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی جا سکتی تھی، براہ راست ارشد شریف پر فائرنگ کی وجہ سمجھ سےباہرہے۔

نیروبی میں برطانوی نشریاتی ادارے کی نامہ نگار بیورلی اوچینگ کا کہنا ہے کہ پولیس میں نیم فوجی ڈپارٹمنٹ جی ایس یو کے افسران اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور ان پر ماضی میں تشدد کے الزامات لگ چکے ہیں۔ انھیں اکثر پولیس کے ساتھ تعینات کیا جاتا ہے اور یہ شہریوں پر تشدد کی وجہ سے بدنام ہیں، ارشد شریف کیس میں بھی یہی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وہ ارشد شریف کے قتل کے ذمہ دار ہیں؟۔

کینیا کے مقامی ذرائع ابلاغ میں ذیل کی تفصیل رپورٹ ہوئی ہے جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی:

1۔ مقامی وقت کے مطابق اتوار کو رات 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 12 بجے) مگاڈی پولیس اسٹین کو اطلاع ملی کہ کینیا فارم (Kuenia farm) کے قریب فائرنگ کا ایک واقعہ ہوا ہے جس میں ایک پچاس برس کے پاکستانی شہری ارشد شریف مارے گئے ہیں۔

2 ۔ ارشد شریف گاڑی نمبرKDG 200M میں اپنے ساتھی خرم احمد کے ساتھ مگاڈی سے نیروبی واپس جا رہے تھے۔ گاڑی مقامی ڈرائیور چلا رہا تھا۔ (یاد رہے کہ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف نیروبی سے مگاڈی جا رہے تھے۔)

3۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کی موت پر منتج ہونے والے واقعات کا آغاز کچھ وقت پہلے نیروبی کے علاقے پنگانی میں ڈگلس نامی شہری کی جانب سے درج مقدمے سے ہوا جس نے بتایا کہ اس کی گاڑی اس کے بیٹے سمیت چوری کر لی گئی ہے۔ ڈگلس کا بیٹا بعد ازاں ایک چرچ سے مل گیا۔

4۔ جس وقت ارشد شریف مارے گئے وہ مگاڈی کے علاقے میں ایک خستہ حال سڑک پر سفر کر رہے تھے۔

5۔ ارشد شریف اور ان ساتھی ابھی کسریان مگاڈی (Kiserian-Magadi) روڈ پر نہیں پہنچے تھے جب انہیں سڑک چھوٹے پتھروں سے بند ملی۔

6۔ یہاں پرانہوں نے اپنی گاڑی پر فائرنگ ہوتے سنی لیکن وہ رکے بغیر آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہ فائرنگ کینیا پولیس کی جنرل سروس یونٹ کے ایک ٹریننگ سینٹر کے قریب ہوئی۔ دارالحکومت نیروبی سے یہ مقام 87 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

7۔ فائرنگ کے بعد خرم نے اپنے دوست نقار احمد کو فون کیا جو پاکستانی شہری ہے اور اسے علاقے میں رہتا ہے۔ نقار نے اسے اپنے گھر تک آنے کو کہا۔

8 – جب خرم (نقار احمد کے گھر کے) مرکزی دروازے پر پہنچا تو اس نے ارشد شریف کو مردہ پایا۔ ارشد شریف کے سر میں زخم تھا۔ گولی پیچھے سے ان کے سر میں داخل ہوئی اور سامنے سے نکل گئی۔ نقار احمد ٹنگا نامی قصبے میں رہتا ہے جو مگاڈی اور نیروبی کے درمیان پڑتا ہے اور نیروبی سے 25کلومیٹر پہلے آتا ہے۔

9 ۔ گاڑی کے معائنے پر معلوم ہوا کہ اسے مجموعی طور پر 9 گولیاں لگی ہیں۔ اس کی ونڈ اسکرین پر داہنی جانب ایک سوراخ تھا۔ ارشد شریف اسی جانب بیٹھے تھے۔ دو سوراخ پیچھے بائیں جانب تھے۔ ایک گولی کا سوراخ پیچھے داہنی دروازے میں تھا۔ چار سوراخ سیدھی جانب بونٹ پر تھے اور ایک سامنے دائیں ڈائر میں تھا جو بیٹھ گیا تھا۔

10 – پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈیولپر ہیں اور نیروبی میں رہتے ہیں۔

11 – لاش نیروبی کے چرومو مردہ خانے میں ہے جہاں پوسٹ مارٹم ہوگا۔

تین گھنٹے بعد پاکستان میں اطلاع
مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ارشد شریف کا قتل پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے سے پہلے ہوا۔ پاکستان میں ان کے قریبی لوگوں کو تین بجے کے قریب اطلاع ملی۔

صحافی کاشف عباسی نے ساڑھے تین بجے کے قریب ٹوئٹر پر اپنے فالورز کو بتایا۔

ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ نے علی الصبح ٹویٹ میں لکھا کہ، ”میں نے اپنے دوست، شوہر اور پسندیدہ ترین صحافی ارشدشریف کوکھو دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کینیا میں گولی ماری گئی۔ ہماری پرائیویسی کا احترام کریں اور بریکنگ کے نام پر ہماری گھریلو تصاویر، ذاتی تفصیل یا ان کی اسپتال سے آخری تصاویر شیئر نہ کریں۔ ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں“۔

ارشد شریف کون تھے
ارشد شریف کی عمر 49 برس تھی اور ان کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا۔ ارشد شریف کے والد محمد شریف پاکستان نیوی میں کمانڈر تھے۔

ارشد 1973 میں کراچی میں پیدا ہوئے اور 1993 میں صحافتی کیرئیر شروع کیا۔ وہ پہلے انگریزی اخبارات اور پھر مختلف ٹی وی چینلز سے وابستہ رہے۔ تاہم ان کی ایک اہم پہچان اے آر وائی نیوز کا پروگرام پاور پلے بنا۔ 2012 میں انہوں نے آگاہی ایوارڈ جیتا۔

صدرعارف علوی نے 2019 میں ارشد شریف کو پرائڈ آف پرفارمنس اعزاز سے نوازا۔

پاکستان سے روانگی
ارشد شریف حالیہ چند ماہ میں خبروں میں اس وقت آئے جب 13اگست کو پولیس نے ارشد شریف سمیت اے آر وائی کے صحافیوں اور سی ای او کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ یہ مقدمہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی جانب سے اس ٹی وی چینل پر دیئے گئے ایک بیان کے بعد درج ہوا تھا اور گل پر مسلح افواج کے اراکین کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مقدمے کے اندراج کے بعد ارشد شریف نے پاکستان چھوڑ دیا اگرچہ دیگر صحافی ملک میں ہی رہے۔اس کے کچھ ہی دن بعد ارشد شریف کے بیانات کے ردعمل میں اے آر وائی نے اعلان کیا کہ چینل ان کے ساتھ اپنی 8 سالہ رفاقت ختم کر رہا ہے۔

اگست میں پاکستان چھوڑنے کے بعد ارشد شریف لندن میں دیکھے گئے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ وہ کینیا کے شہر نیروبی کیوں گئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

بلاول پوری دنیا میں گھومے پھرے تاحال افغانستان نہیں گئے، تجزیہ کار

کراچی:جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان مبشر ہاشمی کے سوال جنگ بندی کے اعلان …