پیر , 28 نومبر 2022

ایران: شیراز میں نمازیوں پر دہشت گردانہ حملہ، 13 شہید درجنوں زخمی

تہران: ایران کے صوبہ فارس کے مرکز شیراز میں واقع امام زادہ احمد بن امام موسیٰ کاظمؑ المعروف شاہ چراغ کے مزار کے احاطے میں زائرین پر دہشتگردانہ حملہ ہوا جس میں 15 زائرین کی شہادت واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے مزار کے اندر شبستان امام خمینیؒ میں داخل ہونے کے بعد زائرین پر فائرنگ شروع کردی۔ اس موقع پر سیکورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا جبکہ تیسرے شخص کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

گورنر فارس کے سیاسی، سیکورٹی اور سماجی امور کے معاون اسماعیل محبی پور نے کہا ہے کہ حضرت شاہ چراغ کے مقدس مزار پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، مغرب کی اذان کے ساتھ ہی کچھ مسلح دہشت گرد امام زادہ احمد بن امام موسیٰ کاظمؑ کے مزار میں داخل ہوئے اور انہوں نے زائرین پر کلاشنکوف ہتھیاروں سے گولیاں برسائیں۔

محبی پور نے کہا کہ اس دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں اب تک 15 زائرین شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور شہداء کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ شاہ چراغ کے مقدس مزار کی طرف جانے والی سڑکوں پر جمع ہونے سے گریز کریں تاکہ امدادی کاروائیوں میں آسانی ہو۔

صوبہ فارس کے پولیس کمانڈر سردار حبیبی نے کہا کہ دہشتگرد باب الرضا کے داخلی دروازے سے داخل ہوئے اور خادموں پر گولی چلائی اور پھر مزار میں داخل ہو کر زائرین پر فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ جواب میں تیزی سے رسپانس فورسز نے مداخلت کی اور دہشت گردوں کو گولی سے زخمی کر دیا اور گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بی جے پی کے رکن اسمبلی کی غنڈہ گردی؛ بس اسٹینڈ پر بنے گنبدوں کو ہٹادیا

میسور: کرناٹک میں مودی سرکار کے رکن اسمبلی نے ایک بس اسٹاپ پر بنے اسٹینڈ …