جمعرات , 1 دسمبر 2022

مینڈکوں کا قبیلہ

(زاہدہ حنا)

آج آزادیٔ اظہار و افکار کی بات نہیں ہزاروں برس پرانی ہے۔ اب سے 400 برس قبل مسیح یہ یونان کا عظیم فلسفی سقراط تھا ، جس نے جرأت اظہار کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی تھی۔ جرأت اظہار کے حوالے سے آج بھی زہر کا پیالہ پینے والا سقراط سب سے بڑا نام ہے۔

اس وقت کے یونان میں جہاں کہنے کو جمہوریت تھی اور سقراط کو سزا بھی ایک منتخب سینیٹ کے اراکین نے دی تھی۔ وہاں متعدد دوسرے ادیبوں اور ڈرامہ نویسوں کی تحریریں ضبط ہوئیں، جلائی گئیں اور اس کے بعد سے اب تک آزادی تحریر و تقریر کو سلب کرنے کے واقعات کی ایک دو نہیں سیکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔

آزاد فکر کو کچلنے اور آزاد کلمات کا گلا گھونٹنے کا کام دنیا کے ہر خطے، ہر علاقے، ہر دور اور ہر مذہب میں ہوا۔
گزرے ہوئے ہزاروں سالوں کے دوران نہ جانے کتنے ادیب ، شاعر ، فلسفی اور سیاستدان جرأت اظہار کی سزا میں قید کیے گئے اور قتل ہوئے لیکن گزری ہوئی چند صدیوں سے اس بات کا حساب رکھا جاتا ہے اور بیسویں صدی کے دوران دنیا میں جہاں صحافیوں کی جان ارزاں ہوئی وہیں ایسے متعدد ادارے وجود میں آئے جو پرنٹ اور اب الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور ادیبوں کو ہراساں کیے جانے ، اغوا کیے جانے کی تفصیل جمع کرتے رہتے ہیں۔

دنیا کے تمام صحافی اب ایک عالمی برادری کا حصہ ہیں۔ تب ہی وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں ، ان کا قتل یا ان پر ریاستی تشدد کی خبر چشم زدن میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے اور اس پر صحافیوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے اراکین ، حقوق انسانی کی تنظیموں ، ادیبوں اور وکیلوں کی انجمنوں غرض ہر طرف شور مچ جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک احتجاج پر مشتعل ہو کر لاطینی امریکا کے کسی ڈکٹیٹر نے کہا تھا کہ ’’ ان میں سے کسی ایک کو کچھ بھی کہا جائے تو یہ کم بخت برساتی مینڈکوں کی طرح ساری دنیا میں جانے کہاں سے نکل آتے ہیں‘‘ اور ایسے ہی احتجاجی مظاہرے کو دیکھتے ہوئے کسی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ ان صحافیوں کی برادری اور کوؤں میں کوئی فرق نہیں ، ایک کوا ہلاک ہو جائے تو دور دور سے کوے اکٹھے ہو کر اس کی لاش کو دیکھتے ہیں اور اپنی کریہہ آواز میں کائیں کائیں کیے جاتے ہیں۔ یہی ان بد بخت صحافیوں کا حال ہے۔‘‘

صحافیوں کی برادری کو مینڈکوں سے تشبیہ دی جائے یا کوؤں سے، حقیقت یہی ہے کہ اب ساری دنیا میں صحافیوں اور ادیبوں کی شان دار تنظیمیں ہیں اور وہ جینے کے اپنے حق کے لیے لڑتی ہیں۔

پاکستان میں جب بھی آزادیٔ صحافت کا دن منایا جاتا ہے تو مجھے خیال آتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں کی افسر شاہی نے ملک کے وجود میں آنے کا اعلان ہونے سے دو دن پہلے ہی سنسر کی قینچی کی آواز سنانے اور بانی پاکستان کی 11 اگست 1947 کی تقریر کاٹنے کی کوشش کی تھی، اس ملک میں آزادی اظہار کی، تحریر اور تقریر کی آزادی کی لڑائی گزری ہوئی دہائیوں میں کس قدر مشکل رہی ہے اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو اس محاذ جنگ کی پہلی یا دوسری صف میں لڑتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے جو بیان دیا ہے ، اس میں بتایا ہے کہ پچھلے برس اپنے کام میں مصروف 60 صحافی ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 15 پاکستان سے تعلق رکھتے تھے ۔

3 مئی کے دن ’’ ڈان ‘‘ میں مظہر عباس نے پاکستانی میڈیا پر گزرنے والی داستان ستم لکھتے ہوئے پشاور کی ان دو لڑکیوں کا ذکر کیا ہے جو ایک ٹیلی وژن چینل سے وابستہ تھیں اور جنھیں اسکرین پر آنے سے روکنے کے لیے ان کے سر مونڈنے کی دھمکی دی گئی اور ان میں سے ایک کو اٹھا بھی لیا گیا اور اس کی رہائی بہ مشکل ہو سکی تھی۔ یہ دونوں لڑکیاں اب ٹیلی وژن اسکرین سے پردہ کرچکی ہیں۔

بات اتنی سی ہے کہ آزادی صحافت کے خلاف حکومتیں اور ان کی افسر شاہی ہے۔ خفیہ ایجنسیاں ہیں، مذہبی اور سیاسی تنظیمیں ہیں ، لسانی اور نسلی گروہ ہیں۔ کبھی اخباروں کے دفتروں پر حملے ہوتے ہیں، توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔ آگ لگا دی جاتی ہے ، صحافیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے ، کیمرے چھین لیے جاتے ہیں توڑ دیے جاتے ہیں۔

سینئر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پریس فوٹو گرافر کے کیمرے کا تو انشورنس ہوتا ہے لیکن اس کیمرے سے تصویر اتارنے والا اس تحفظ سے محروم ہے ، جبکہ بی بی سی میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ اگر برا وقت آجائے تو کیمرے کی فکر نہ کرنا، اپنی جان بچانا ، کیمرہ تو بازار سے دوسرا آ جائے گا لیکن انسان واپس نہیں آتا ، لیکن ٹیلی وژن اسکرین پر آنے والوں کی زندگی کہیں زیادہ مشکل ہے۔

انھیں اپنی جان سے زیادہ گھر والوں کی جان کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جنھوں نے گھر والوں کو یہاں سے باہر بھیج دیا یا کچھ خود بھی چلے گئے اور اب ان کی لکھی ہوئی چیزیں کبھی کبھار ہی نظر آتی ہیں۔

آزادی تحریر اور آزادی اظہار سلب کرنے کا ’’حق‘‘ بہ جبر نافذ کرنے والوں کا اصرار ہے کہ صرف ان کا بیان کردہ وہ سچ چھاپا جائے، دکھایا جائے۔ یہ لوگ اگر مغربی لباس میں ہیں تو نازی ازم ، میکارتھی ازم کے نمایندے ہیں۔ لکھنے والوں کو غدار قرار دے کر گلاگ میں دھکیلنے والے ہیں۔ گوئبلز ، میکارتھی اور بیریا کے پیروکار ہیں۔ دین کے نام پر انسانوں کی آزادی سلب کرنے والے فتویٰ دہندگان میں سے ہیں۔

جبہ و دستار والے ہیں اور اب وہ اخباروں اور ٹیلی وژن چینلوں اور چھاپہ خانوں کے دروازوں تک آن پہنچے ہیں اور اپنی کرخت آواز میں صحافت اور صحافیوں کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں۔ کسی بھی شہری کی جان و مال کی حفاظت سرکار کی ذمے دار ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں ہر دور میں سرکار صرف اپنی زندگی کی حفاظت کرتی ہے۔ آج ہماری سرکار نے سوات اور اس سے متصل علاقوں کو نظام عدل نافذ کرنے والوں کی شکارگاہ بنادیا ہے۔

اخبارات شمالی علاقوں یا بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کریں تو یہ کہنے والے ملک دشمن اور غدار قرار دیے جاتے ہیں اور کچھ دین دشمن ٹھہرتے ہیں۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ تمام لوگوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی ورنہ جس طرح نازی ازم ، میکارتھی ازم اور دوسرے بہت سے نظریوں اور عقیدوں کو ماننے والوں نے آزادی اظہار اور آزادی تحریر کا حق مانگنے والوں کا ستھراؤ کیا۔

اسی طرح پاکستان میں بھی لکھنے والے، بولنے والے چن چن کر مار دیے جائیں گے خاموش کردیے جائیں گے اور کچھ خرید لیے جائیں گے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمیں چالاک ریاستی اور سفاک غیر ریاستی دشمن کا سامنا ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ یہ دن اگلے برس آئیں گے تو ہم کئی محاذوں پر جیت چکے ہوں گے۔

جنھیں اٹھایا گیا ہو ، وہ لاپتہ ہوئے ہوں ، تشدد کا نشانہ بنے ہوں یا پھر انھیں دوڑا کر مار دیا گیا ہو اور ہم میں کوئی حیات اللہ اور اس کی بیوی نہیں ماری جائے گی۔ ہم میں منیر سانگی کا اضافہ نہیں ہوگا جس کی بیوی اور اہل خانہ خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور منیر سانگی کے اہل خانہ کو اس کے ادارے اور حکومت کی طرف سے جو ’’ مالی تحفظ ‘‘ فراہم کیا گیا۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی بیوہ بچوں کو قرآن پڑھا کر پیٹ کا جہنم بھرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمارے یہاں میڈیا کی آزادی پر اصرار کرنے والے ان لوگوں کی لمبی فہرست نہیں ہوگی جو اس جدوجہد میں جان سے گزر گئے اور ہم مینڈکوں کا قبیلہ نہیں بن سکیں گے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …