پیر , 5 دسمبر 2022

عرین الاسود، غاصب صیہونی رژیم کیلئے نیا چیلنج

(تحریر: حسین فاطمی)

ان دنوں مقبوضہ فلسطین سے ہر روز نئی خبریں سننے میں آرہی ہیں اور جو نام سب سے زیادہ سنا جا رہا ہے، وہ "عرین الاسود” کا ہے۔ حال ہی میں غاصب صیہونی رژیم کے ہرکاروں نے مغربی کنارے پر ہلہ بول کر اس نئے ابھر کر سامنے آنے والے اسلامی مزاحمتی گروہ کے کئی مرکزی کمانڈرز کو شہید کر دیا ہے۔ اتوار 23 اکتوبر کی صبح عرین الاسود کے اعلیٰ سطحی کمانڈر تامر الکیلانی کو مغربی کنارے کے شہر نابلس میں دہشت گردانہ بم حملے میں شہید کر دیا گیا۔ یہ بم ان کے گھر کے قریب ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ تامر الکیلانی کا شمار اس گروہ کے شجاع ترین مجاہدوں میں ہوتا تھا۔ عرین الاسود نے اس مناسبت سے ایک بیانیہ جاری کیا، جس میں عام سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

بیانیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ شہید تامر الکیلانی کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ بیانیے میں اس دہشت گردانہ حملے کو بزدلانہ قرار دیا گیا اور کہا گیا: "ہم وعدہ کرتے ہیں کہ شہید تامر الکیلانی پر ہونے والے حملے کی تمام تفصیلات جاری کریں گے اور غاصب صیہونی رژیم اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایویو کوخاوی کو کہتے ہیں کہ ان سے سخت اور دردناک انتقام لیا جائے گا۔” عرین الاسود نامی اسلامی مزاحمتی گروہ گذشتہ چند ماہ میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ گروہ ماضی کے برخلاف غزہ کی پٹی میں نہیں بلکہ مغربی کنارے میں تشکیل پایا ہے۔ مغربی کنارے کا شہر نابلس اس گروہ کا مرکزی گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ یوں اب اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو غزہ کی پٹی کے علاوہ مقبوضہ فلسطین کے مشرقی حصے میں بھی ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔

خطے کے ذرائع ابلاغ میں اس نئے اسلامی مزاحمتی گروہ کے بارے میں بہت کم اخبار شائع کی جاتی ہیں۔ یہ گروہ دسیوں مسلح مجاہدین پر مشتمل ہے اور مغربی کنارے میں واقع شہر نابلس کو اس کا مرکزی گڑھ قرار دیا گیا ہے۔ اس گروہ میں شامل مجاہدین نے صیہونی فوجیوں اور آبادکاروں کو ہر حالت میں نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ عرین الاسود کے مجاہدین متفقہ طور پر سیاہ رنگ کا لباس پہنتے ہیں، جو ان کا یونیفارم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی بندوقوں کے آگے سرخ رنک کا کپڑا لگاتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ فلسطین کی آزادی کیلئے خون بہانے کیلئے تیار ہیں اور انہیں شہادت سے کوئی خوف نہیں ہے۔ آج ہی غاصب صیہونی فورسز نے نابلس پر ایک بڑا کریک ڈاون کیا ہے، جس میں عرین الاسود کے کئی اعلیٰ سطحی کمانڈرز شہید ہوگئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سے مغربی کنارے میں صیہونی فورسز اور مجاہدین کے درمیان مسلح جھڑپوں میں شدت آگئی ہے۔ اگرچہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عرین الاسود کی تشکیل کو ایک برس کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس گروہ نے چند ماہ قبل صیہونی فورسز کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً دو ماہ پہلے عرین الاسود کے مجاہدین نے پہلی بار مغربی کنارے میں ریلی نکالی۔ یہ ریلی کچھ فلسطینی شہداء کے چہلم کے موقع پر نکالی گئی تھی۔ یہ ریلی عرین الاسود کی جانب سے طاقت کا پہلا مظاہرہ تھا، جس میں مجاہدین نے فلسطینی شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر فلسطین کے ایک سرگرم بلاگر الرحمان الصدر ہیں۔ انہوں اپنی فیس بک پر عرین الاسود کا تعارف کروایا ہے۔

الرحمان الصدر لکھتے ہیں: "عرین الاسود جدید فلسطین کے انقلاب کا جانا پہچانا پھیل ہے۔ یہ گروہ ایسے جوانوں پر مشتمل ہے، جو گروہی سرحدوں سے عبور کرچکے ہیں اور شدید ترین بے انصافیوں سے روبرو ہیں۔ وہ ایک بندوق اور چند گولیوں کے ہمراہ مضبوط ارادے اور کامیابی کی امید سے لیس ہیں۔ خدا ان جوانوں کو ان کے اہداف تک پہنچانا چاہتا ہے۔” اس تحریر سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ عرین الاسود دیگر اسلامی مزاحمتی گروہوں سے ہٹ کر ایک نیا اور خود مختار مزاحمتی گروہ ہے۔ گذشتہ چالیس برس کے دوران اسرائیل ہمیشہ غزہ کی پٹی سے خطرے کا احساس کرتا آیا ہے، جبکہ اب مقبوضہ فلسطین کے مشرقی حصے یعنی مغربی کنارے سے بھی اسے زیادہ شدید خطرے کی بو آنے لگی ہے۔ عرین الاسود نے اپنی کارروائیوں کیلئے زیادہ تر مقبوضہ فلسطین کے مرکزی حصوں کا انتخاب کیا ہے۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران عرین الاسود نے مقبوضہ فلسطین کے مرکزی حصوں میں اس قدر مسلح مزاحمتی کارروائیاں انجام دی ہیں کہ تل ابیب شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عرین الاسود غاصب صیہونی رژیم کیلئے نیا ڈراونا خواب بن گیا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران عرین الاسود نے کامیابی سے مغربی کنارے خاص طور پر نابلس میں صیہونی فوجیوں کو مسلح کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ صیہونی اخبار معاریو اس بارے میں لکھتا ہے: "نابلس میں عرین الاسود گروہ نہ صرف ہمارے خلاف سخت کارروائیاں کر رہا ہے بلکہ مغربی کنارے اور حتی بیت المقدس میں دوسرے فلسطینیوں کو بھی ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دلا رہا ہے۔” اخبار لکھتا ہے کہ اس گروہ نے بہت ہی مختصر مدت میں ایک تجربہ کار مزاحمتی گروہ کی شکل اختیار کر لی ہے اور اب وہ اسرائیل کے وجود کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کیسے انڈیا کو چین کے ساتھ سرحد پر نظر رکھنے میں مدد کر رہا ہے؟

اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) میں انڈیا کے لیے مارکیٹنگ کے نائب صدر …