منگل , 29 نومبر 2022

عمران خان کا لانگ مارچ : ٹائمنگ کیا اہمیت رکھتی ہے؟

عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعت مذاکرات سے مسئلے حل کرتی ہے، بندوق سے نہیں کرتی۔ مجھے پورا یقین ہوگیا ہے کہ یہ اب الیکشن نہیں کروائیں گے کیونکہ یہ خوف زدہ ہیں۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کو لانگ مارچ کر رہا ہوں۔ لبرٹی چوک لاہور سے ہمارا لانگ مارچ صبح 11 بجے شروع ہوگا۔

جی ٹی روڈ سے عوام کو لیتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں عوام کا سب سے بڑا سمندر ہوگا۔ ہمارا لانگ مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ 26 سال سے سیاست کر رہا ہوں اور ہمیشہ پرامن احتجاج کیا ہے۔ جب لاکھوں لوگ آ رہے ہوں گے تو پولیس کچھ نہیں کرے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کون حکومت کرے گا یہ فیصلہ پاکستانی عوام کا ہونا چاہئیے، باہر سے لائے ہوئے لوگوں کو حکومت کیوں کرنے دیں۔ یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ عوام سے کہوں گا کہ فیصلہ کریں کہ ہم نے آزاد ملک بننا ہے یا چوروں کی غلامی کرنی ہے۔ یہ جہاد فیصلہ کرے گا کہ پاکستان نے کس طرف جانا ہے۔ یہ ہماری حقیقی آزادی کا مارچ ہے۔ یہ سیاست نہیں بلکہ جہاد ہے۔ جب تک زندہ ہوں ان چوروں کا مقابلہ کروںگا۔

لانگ مارچ کے حوالے سے عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے بلند بانگ دعوے کر رکھے ہیں۔ اس دعوؤں کی گونج اس حد تک بلند ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی کسی غیرمعمولی صورت حال سے نمٹنے کی تیاریاں کی ہوئی ہیں اور اسلام آباد پولیس کسی بڑے احتجاج سے نمٹنے کے لئے مورچہ بند ہے جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ رانا ثنااللہ کی کوئی رکاوٹ ان کے پرجوش حامیوں کا راستہ نہیں روک سکے گی اور وہ لانگ مارچ کی کال دینے کے بعد اسلام آباد کو ’فتح‘ کر کے ہی سکھ کا سانس لیں گے۔ تاہم مئی کے آخر میں ناکام لانگ مارچ کا سبق بھی عمران خان کو خوب اچھی طرح یاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بار اپنے براہ راست نائبین کی باتوں پر اعتبار کرنے کی بجائے پارٹی کی علاقائی تنظیموں کے عہدیداروں سے خود ملاقاتیں کر کے ان کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ کس عہدے دار نے کتنے لوگ جمع کرنے ہیں۔

انہی انتظامات کے بارے میں عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کے بارے میں کسی کو بھی مطلع نہیں کیا۔ پھر بھی شاید عمران خان خود بھی اپنی اس تگ و دو کی کامیابی کے بارے میں سو فیصد مطمئن نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ لانگ مارچ کا ہوا دکھانے کے باوجود بار بار اس کا اعلان کرنے کی تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے۔ اب جمعرات یا جمعہ کے روز لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تاہم ماضی کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس بار بھی بات وعدہ فردا پر ٹال نہیں دی جائے گی۔ عمران خان ایک اور لانگ مارچ میں ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پرجوش و بلند آہنگ وعدوں کی گونج میں لانگ مارچ جسے ’حقیقی آزادی کے لئے جہاد‘ کا نام دیا گیا ہے، سے پیچھے ہٹنے کا کوئی بھی فیصلہ سیاسی طور سے شدید نقصان دہ ہو گا۔
اگرچہ عمران خان کے جان نثاروں اور حامیوں کے بارے میں عام طور سے محسوس کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے کسی بھی ’یوٹرن‘ سے پریشان نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے کسی جھوٹ کا پردہ فاش ہونے پر بدحواس ہوتے ہیں یا کوئی جائز سوال اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ کہ عمران خان سیاسی بیان بازی میں قلابازیاں کھانے اور موقف بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جب آڈیو لیکس میں خود ہی ان حرکتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جن کا الزام وہ ملک کے ’چور لٹیرے‘ سیاست دانوں پر عائد کرتے رہے ہیں، تو بھی انہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔

بلکہ وہ اسے وزیر اعظم ہاؤس کی سیکورٹی اور قومی سلامی کا معاملہ بنا کر خفیہ ایجنسیوں پر نشانہ بازی کا شوق پورا کرنے لگتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اب انہی اداروں سے درپردہ بات چیت کا اعتراف بھی کر رہے ہیں جنہیں وہ اپنی حکومت کے زوال کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ اگرچہ اس کڑوی گولی کو نگلوانے کے لئے انہوں نے گزشتہ روز اس بات چیت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ گرہ بھی لگائی ہے کہ ’ان مذاکرات سے کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہے‘ ۔

تاہم ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں جمع ہو کر کسی بھی لیڈر کی سیاسی راست گوئی پر اثر انداز ضرور ہوتی ہیں۔ لانگ مارچ کے سلسلہ میں دعوے، پھر عسکری قیادت سے امداد کی اپیلیں اور ہر معاملہ عوام کے سامنے رکھنے کے دعوے کرنے کے بعد اب خفیہ ملاقاتوں کا اعتراف، ایسے ہی معاملات ہیں جن سے کسی سیاسی لیڈر کا اعتبار کم ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔

عمران خان کو خبر ہے کہ وہ جو ہتھکنڈے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد انہیں اب ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تحریک انصاف کے اسی خوف کو حقیقت میں بدلتے ہوئے عمران خان کے بارے میں ’مستند چور‘ جیسے الفاظ استعمال کیے ۔ حالانکہ پاکستان کی سیاسی لغت میں ناپسندیدہ الفاظ کے استعمال سے ہی سیاسی بدگمانیوں اور تلخیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نا اہلی کے حکم کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ آنے میں تاخیر عمران خان کی سیاسی شہرت کے لئے مشکلات کا سبب بنے گی۔ اس دوران اگر فارن فنڈنگ کیس یا کسی دوسرے معاملہ میں بھی عمران خان کے خلاف کوئی فیصلہ آتا ہے تو اس مشکل میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

ان تمام مشکلات سے نکلنے کے لئے عمران خان کو فی الوقت لانگ مارچ واحد آپشن دکھائی دیتا ہے لیکن اس احتجاج کے لئے تحریک انصاف کی تیاری اور پذیرائی کے حوالے سے جمعہ کو ہونے والے ’ناکام احتجاج‘ نے متعدد سوال کھڑے کیے ہیں۔ لانگ مارچ کے سلسلہ میں عمران خان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اسے ’حقیقی آزادی‘ جیسے غیر واضح اور مبہم نعروں سے کامیاب نہیں بنایا جاسکتا۔ عوام سے اس لانگ مارچ کو تاریخی بنانے کی امید کی جا رہی ہے لیکن عمران خان اور تحریک انصاف ابھی تک انہیں یہ بتانے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے کہ اسلام آباد میں چند لاکھ لوگ جمع کرنے کے بعد کیا ہو گا؟

عمران خان کون سا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس ایسا کون سا ہتھکنڈا ہے کہ وہ حکومت کو نئے انتخابات کا فوری طور سے اعلان کرنے پر مجبور کر دیں گے؟ اس کے علاوہ لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی بے چینی و بے یقینی ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ سمجھی جا رہی ہے۔ عمران خان کو دوست دشمن یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اسمبلی میں واپس جاکر اپنی سیاسی حیثیت و پوزیشن کے مطابق کردار ادا کریں تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں مقابلے کے لئے تیا رہو سکیں اور ملک بھی کسی مزید مشکل کا شکار نہ ہو۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جدہ سیلاب کی لپیٹ میں.. محمد بن سلمان کے خیالی منصوبوں کا پردہ فاش

جدہ کے سیلاب نے شہر میں بڑے سیلاب کو جنم دیا جس نے ولی عہد …