ہفتہ , 10 دسمبر 2022

لبنان سے شامی مہاجرین کے نئے قافلوں کی رضاکارانہ واپسی شروع

بیروت:لبنان سے شامی مہاجرین کے نئے قافلوں کی رضاکارانہ واپسی شروع ہو گئی ہے۔ ان قافلوں کی نقل و حرکت لبنان کے عوامی تحفظ کے منصوبے کے نفاذ کے سلسلے میں شروع کی گئی ہے جو پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں۔شامی مہاجرین کی اپنے ملک میں رضاکارانہ واپسی 2019 سے معطل ہونے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

لبنان میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم شامی پناہ گزینوں کا ایک گروپ محفوظ اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں واپس جانے کے لیے حمص کے نواحی علاقے الدوبوسیہ کی سرحدی گزرگاہ میں داخل ہوا۔

چند روز قبل لبنان کی پبلک سیکیورٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عباس ابراہیم سے ملاقات میں حزب اللہ میں پناہ گزینوں کے کیس کے سربراہ نے کہا تھا کہ حزب اللہ شامی مہاجرین کی ان کے ملک واپسی میں مدد کے لیے تیار ہے۔

شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اس ملک کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شام میں دہشت گرد گروہوں کی مجرمانہ سرگرمیوں سے بچنے کے لیے لبنان کی طرف فرار ہو گئی۔

آج تک، لبنان میں شامی پناہ گزینوں کی صحیح تعداد نہیں ہے، لیکن بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ تعداد ایک ملین 500 ہزار افراد تک ہے۔

شامی پناہ گزینوں کی موجودگی نے حالیہ برسوں میں لبنان پر بہت زیادہ اقتصادی دباؤ ڈالا ہے اور اس ملک نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کی اقتصادی صلاحیت نہیں ہے۔

لبنان میں متعدد حکومتوں کی جانب سے شامی پناہ گزینوں کی واپسی کی کوششوں کے باوجود بعض مغربی اور عرب ممالک شامی اور لبنانی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حکومت نے بارہا ملک میں مہاجرین کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے اور مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے ضروری ضمانتوں کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترک فوجی عراقی کردستان کی سرحدی پٹی پر کیوں تعینات ہوئے؟

بغداد:عراق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فوجی، عراقی کردستان کے ساتھ ملنے والی سرحدی …