ہفتہ , 10 دسمبر 2022

کینین صحافیوں نے ارشد شریف کے قتل کی نئی تفصیلات منظر عام پر لاتے ہوئے واقعے پر سوالات کھڑے کردیے

نیروبی:کینیا کے صحافیوں نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل کی نئی تفصیلات منظر عام پر لاتے ہوئے واقعے پر سوالات کھڑے کردیے ہیں جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق کینیا کے ’نیشن میڈیا گروپ‘ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک خبر میں ایک سینیئر تفتیشی رپورٹر نے کہا کہ پولیس کے دعووں کے مطابق ارشد شریف کی کار میں سوار شخص نے جنرل سروس یونٹ (جی ایس یو) کے افسران پر گولی چلائی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ’ارشد شریف اور خرم احمد نے اتوار کی دوپہر نیروبی سے 85 کلو میٹر دور کاموکورو میں ’ایمو ڈمپ‘ نامی ایک انٹرٹینمنٹ کمپلیکس میں گزاری، اس کملیکس میں نشانہ بازی کے لیے ایک شوٹنگ رینج بھی ہے جو پاکستانی بندوقوں کا شوق رکھنے والوں میں مقبول ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’خرم احمد کا تعلق اس خاندان سے ہے جو نیروبی میں ارشد شریف کی میزبانی کر رہا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کافی عرصے سے کینیا میں رہائش پذیر ہیں کیونکہ ان کے پاس ٹیکس دہندگان کو دیا جانے کینیا ریونیو اتھارٹی کا پن نمبر ہے، واقع کے روز ان دونوں کے زیراستعمال ٹویوٹا لینڈ کروزر گاڑی خرم احمد کے نام پر رجسٹرڈ ہے‘۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ’ممکنہ طور پر یہ دونوں افراد رات 8 بجے کے قریب انٹرٹینمنٹ کمپلیکس سے نیروبی کی جانب روانہ ہوئے، جب وہ مین روڈ پر پہنچے تو انہیں جی ایس یو کے افسران نے روکا، پولیس کے مطابق جی ایس یو افسران اس علاقے میں ایک چوری کی گاڑی دیکھے جانے کی اطلاعات ملنے پر گاڑیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے‘۔

رپورٹ میں پولیس کے متضاد بیانات کا ذکر کیا گیا جس میں پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف اور ان کے بھائی نے ایک چوکی پر روکے جانے احکامات کی خلاف ورزی کی لیکن بعد میں الزام عائد کیا کہ ارشد شریف کے بھائی نے ایک افسر کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا جس نے پولیس کو جوابی فائرنگ کرنے پر مجبور کیا۔ ۔

رپورٹ میں ایک نامعلوم پولیس اہلکار کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ’ان دونوں کو رکنے کاکہا گیا تھا لیکن انہوں نے ہمارے افسران پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے وہ نیروبی کی جانب جانے والی اس گاڑی پر جوابی فائرنگ پر مجبور ہوگئے‘۔

رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ ارشد شریف کی گاڑی سے مبینہ طور پر فائرنگ کے بعد پولیس نے اپنی گاڑی پر ان کا پیچھا کیوں نہ کیا؟

دوسری جانب ٹوئٹر پر کینیا کے تفتیشی صحافی برائن اوبیا نے کہا کہ ’ارشد شریف کو لگنے والی گولی کار کے عقب میں دیکھنے والے آئینے کے ذریعے ٹھیک نشانے پر چلائی گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے اس پر کُل 9 گولیاں داغی گئیں، 4 گولیاں بائیں جانب لگیں اور ایک دائیں جانب سے ٹائر میں لگی۔

برائن اوبیا نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ ارشد شریف کی لاش کینیا کے چیرومو مردہ خانے سے ملی جوکہ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے 78 کلومیٹر دور واقع ہے۔

تاہم نیروبی کے سابق گورنر مائیک سونوکو نے کینیا کی پولیس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ارشد شریف کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے، پولیس نے اس غلط فہمی میں پاکستانی شہری کو گولی ماری کہ وہ گاڑی کی چوری میں ملوث تھا۔

ان کے مطابق ارشد شریف کو ایک ’پاکستانی قاتل اسکواڈ‘ نے ٹریس کیا تھا کیونکہ وہ پاکستانی سیاست دانوں کے حوالے سے ’منی لانڈرنگ سنڈیکیٹ‘ کی تحقیقات کر رہے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران:بڑی تعداد میں اسرائیلی جاسوس گرفتار کئے ہیں، جنرل علی فدوی

تہران:سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف کمانڈر نے کہا کہ ہم نے بڑی تعداد میں …