جمعرات , 1 دسمبر 2022

ارشد شریف کا قتل اور پاکستان میں لاشوں کی سیاست

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ عمران نیازی ارشد شریف کے اندوہناک قتل کو اپنی گھٹیا سیاست کے لیے استعمال کر رہا ہے اور ریاستی اداروں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ دکھ کی گھڑی ہے، ارشد شریف ہمارے ذاتی دوستوں میں تھے اور بڑے قد آور صحافی بھی تھے، ان کا اس انداز میں جانا اندوہناک واقعہ ہے، اور اس کی مکمل تفتیش ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر کینیا پولیس کی جانب سے مؤقف آیا، اس پر بحث شروع ہوگئی، اور مختلف سوالات اٹھے جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ارشد شریف کن حالات میں پاکستان سے گئے، اور کس کے کہنے پر گئے، اس حوالے سے عمران خان نے خود کہا تھا کہ میں نے ارشد شریف کو کہا تھا کہ پاکستان سے چلے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کن حالات اور کس خدشے پر عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ پاکستان سے چلے جائیں، یہ قابل تفتیش بات ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس کا فائدہ کسے ہوگا؟، یہ بڑی سنجیدہ اور سنگین بات ہے ہم اس کو بھی ہلکا نہیں لے سکتے، انہوں نے کن محرکات کی وجہ سے یہ بات کہی۔

یہ بات تو طے ہے کہ ارشد شریف کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے اور اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دے کر فراموش کرنا ہر صحافی اور ادیب کے لئے خطرناک ہو گا اور اگر اس طرح کی ہلاکتوں پر صدائے احتجاج بلند نہ کی گئی تو پھر ایک ایک کر کے ہر وہ شخص مارا جائے گا جس کے منہ میں زبان اور ہاتھوں میں قلم ہے۔

ارشد شریف کے قتل کی افسوسناک خبر کے آتے ہی سوشل میڈیائی دانشوروں کے ایک طبقے نے اس کا الزام پاکستانی فوج پر لگا دیا، ان کا خیال تھا کہ ارشد شریف گزشتہ کچھ عرصے سے فوج کے خلاف پروگرام کر رہے تھے اور عمران خان کا قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے فوج ان کی مخالف تھی۔ پھر جس انداز سے قتل کیا گیا اس انداز سے قتل صرف ایجنسیاں ہی کروا سکتی ہیں۔ ان کے دلائل میں وزن ہونے کے باوجود ان کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا جس کی کئی وجوہات ہیں۔

1) ارشد شریف نے ہمیشہ فوج کا ساتھ دیا اور اگلے مورچوں پر جا کر فوج کی حوصلہ افزائی کے پروگرام کیے۔ انہیں ایسے ایسے حساس مقامات تک رسائی دی گئی جہاں کسی اور صحافی کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

2) ارشد شریف کے والد محمد شریف نیوی میں کمانڈر تھے اور ان کے بھائی میجر اشرف شریف اپنے والد کی نمازجنازہ میں شرکت کے لئے آتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہوئے تھے۔ ایک فوجی گھرانے سے منسلک ہونے کی وجہ سے بھی وہ فوج کے لئے پسندیدہ تھے۔

3) محض ایک پروگرام فوج کے خلاف (اگر اس پروگرام کو بھی دیکھا جائے تو وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے حق میں تھا) فوج ایسا انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتی۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت پر شیخ رشید نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی قتل کے محرکات کا اندازہ لگانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے اس قتل سے کس کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے بھی کسی اندھے قتل کی تفتیش کے آغاز میں سب سے پہلے ان ہی لوگوں پر شک کرتی ہے جنہیں قتل سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔

اگر ہم اس مفروضے کو دیکھیں اور جیسا کہ کچھ دانشور اشارتاً کہہ بھی رہے ہیں کہ ارشد شریف کے قتل کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو ہو گا کیونکہ اس قتل سے فوج، اداروں اور موجودہ حکومت کے خلاف عوامی غیظ و غضب میں اضافہ ہو گا۔ عمران خان کی اداروں کے خلاف تحریک اور موقف دونوں کو تقویت ملے گی اور عمران خان کا اعلان کردہ لانگ مارچ کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ عمران خان نے اس قتل کے فوراً بعد لانگ مارچ کا اعلان کر کے ان الزامات اور خدشات کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔

عمران خان نے پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ارشد شریف کو ملک چھوڑنے کا کہا تھا“ ، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ”مجھے پتہ ہے کہ ارشد شریف کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہ ”ارشد شریف کو دھمکیاں مل رہی تھیں“ ، ان سارے بیانات کے بعد عمران خان نے ارشد شریف قتل کیس میں اپنی گرفتاری کے لئے حکومت وقت کو جواز فراہم کر دیا ہے۔ انہیں اس قتل کیس میں تفتیش کے لئے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اگر گرفتار نہ بھی کیا جائے تو انہیں شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اسے کسی قتل کے متعلق معلومات ہیں تو اس کا شامل تفتیش کرنا بنتا ہے۔
حکومت وقت نے ایک تفتیشی ٹیم بنا دی ہ

ے اور وہ ٹیم چند دنوں میں کینیا جا رہی ہے جہاں وہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرے گی۔ جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے اور امکان ہے ایک آدھ دن تک اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ارشد شریف نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی طور پر ایک جانے پہچانے صحافی تھے اور انہوں کئی بڑے سکینڈل بے نقاب کیے۔ ان کی سیاسی وابستگی اور جھکاؤ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ سیاست دانوں کی موت، دوسرے صحافیوں کی گرفتاری، ان پر قاتلانہ حملوں، انہیں ملازمتوں سے نکالنے اور تشدد کے واقعات پر ارشد شریف کے تبصروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے مگر کسی بھی صورت ان کے قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …