جمعرات , 1 دسمبر 2022

ارشد شریف کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث کینیا کا سپیشل پولیس یونٹ ’جی ایس یو‘ کیا ہے؟

کینیا میں حکام کے مطابق پاکستانی صحافی ارشد شریف کی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ارشد شریف اتوار کی شب کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے اور پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔

کینیا پولیس کی جانب سے اس واقعے کی جو ابتدائی رپورٹ مگدائی پولیس سٹیشن میں جمع کروائی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے ’پولیس کو ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ فائرنگ کے ایک واقعے میں کینیا پولیس کے سپیشل سروس یونٹ ’جی ایس یو‘ کے افسران ملوث تھے اور اس کے نتیجے میں لگ بھگ 50 سالہ پاکستانی شہری ارشد شریف فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

یاد رہے کہ کینیا میں پولیس اور اس کے ماتحت بننے والے خصوصی پولیس یونٹس پر ماورائے عدالت قتل اور ملزمان کو لاپتہ کرنے جیسے الزامات لگتے رہتے ہیں۔

اس رپورٹ میں نیروبی کے سینیئر رپورٹر ایمونوئیل اگنزا بتا رہے ہیں کہ ارشد شریف کے واقعے میں ملوث سپیشل پولیس یونٹ ’جی ایس یو‘ کیا اور کیسے کام کرتا ہے اور کینیا میں پولیس اور پولیس کے خصوصی یونٹس کو عمومی طور پر کس نوعیت کے الزامات کا سامنا رہتا ہے۔

سپیشل پولیس یونٹ ’جی ایس یو‘ کیا ہے؟
جنرل سروس یونٹ کینیا کی پولیس کا ایک نیم فوجی یا پیرا ملٹری دستہ ہے جس کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔اس کا قیام کینیا کے نیشنل پولیس سروس ایکٹ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور اسے ملک میں صدارتی گارڈ کے علاوہ ریکی سکواڈ بھی کہا جاتا ہے۔

اس کی ذمہ داریوں میں ملک کے صدر کے تحفظ کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں شامل ہیں۔اس کے علاوہ یہ یونٹ پرتشدد مظاہروں اور شہروں میں بدامنی کو روکنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار کو روکنا اور اہم سرکاری و ریاستی عمارات اور غیرملکی فضائی کمپنیوں کو سکیورٹی دینا بھی اس کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

جی ایس یو کے اہلکار عام طور پر صرف ایسے علاقے میں سڑک پر چوکی لگاتے ہیں جہاں ڈکتیی کا خدشہ ہو یا پھر دہشت گردی کا۔ اس کے علاوہ وہ اہم سرکاری عمارات اور تنصیبات پر تعینات کیے جاتے ہیں۔

ارشد شریف کے کیس میں بظاہر اس یونٹ کو صرف وجہ سے سڑک پر تعینات کیا گیا کیوں کہ ان کا ایک کیمپ قریب ہی واقع تھا۔

اس یونٹ کے اراکین کو عام پولیس سے زیادہ خصوصی تربیت اس لیے فراہم کی جاتی ہے کیوں کہ ان کی ذمہ داریوں میں قومی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنا بھی شامل ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس یونٹ کے اہلکار عوام سے زیادہ گھلتے ملتے نہیں ہیں۔

تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے اپنے آپریشنز میں اس یونٹ کے اہلکار بربریت دکھاتے ہیں۔ ماضی میں اس یونٹ پر صرف اس لیے خواتین کے ریپ کا الزام لگا کہ وہ اپنا خوف طاری کرنا چاہتے تھے۔ جی ایس یو کا ماضی کافی متنازع رہا ہے۔ 2007 اور 2013 میں جی ایس یو اہلکاروں پر عام شہریوں کے قتل کا الزام بھی لگا۔

تاہم دہشت گردی کے خلاف یہ یونٹ کافی موثر رہا ہے خصوصا 2013میں ویسٹ گیٹ مال پر دہشت گرد حملے جیسے آپریشنز کے دوران اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔

کینیا کی پولیس کے خصوصی یونٹس پر کیا الزامات عائد ہوتے رہے ہیں؟
ارشد شریف کی ہلاکت میں تو جنرل پولیس یونٹ یا جی ایس یو کا نام سامنے آ رہا ہے تاہم کینیا کی پولیس کے دیگر خصوصی یونٹ خصوصاً سپیشل سروسز یونٹ یا ایس ایس یو پر گذشتہ چند برسوں میں شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے، لاپتہ کرنے اور مشتبہ ملزمان کے ماورائے عدالت قتل جیسے الزامات بھی لگے ہیں جس سے اس کی شہرت داغدار ہوئی ہے۔

ایس ایس یو پر لگنے والے ان الزامات کے بعد ہی کینیا کے نئے صدر نے اپنی افتتاحی تقریر میں اس یونٹ پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

ذیل میں ایسے چند کیسز کی تفصیل فراہم کی جا رہی ہے جن میں کینیا کے متعدد باشندوں کی غیرواضح حالات میں ہلاکت ہوئی۔ کینیا کی پولیس اور اس کے تحت کام کرنے والے خصوصی یونٹس کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تاہم اس ضمن میں کبھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

رواں برس جولائی 2022 میں کینیا کی ایک عدالت نے تین پولیس اہلکاروں اور ایک سویلین شخص کو حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے معروف وکیل ویلی کیمانی اور دو دیگر افراد کو جون 2016 میں قتل کرنے کا مجرم ٹھہرایا۔ ویلی کیمانی، ان کے ایک کلائنٹ اور ٹیکسی ڈرائیور کی لاشیں نیروبی کے مضافات سے گزرنے والے دریا میں پھینکی گئی تھیں۔

مئی 2016 میں کینیا سے تعلق رکھنے والی معروف کاروباری شخصیت جیکب جوما کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر جا رہے تھے۔ انھوں نے حکومت کے خلاف متعدد ناکام کاروباری معاہدوں میں ہائی پروفائل کیسز دائر کر رکھے تھے۔

اسی طرح فروری 2015 میں کینیا کے معروف ممبر پارلیمان اور ٹریڈ یونینسٹ جارج موچری کو ملک کے دارالحکومت نیروبی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ علی الصبح پیش آنے والے اس واقعے میں ممبر پارلیمان کے دو محافظ اور ڈرائیور بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اپریل 2014 میں کینیا سے تعلق رکھنے والے معروف مگر سخت گیر مسلمان عالم دین ابوبکر شریف احمد کو مومباسہ کے مضافات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد اُن کے پیروکاروں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ متازع عالم کے قتل میں پولیس ملوث ہے۔

اگست 2012 میں ایک اور متنازع عالم دین عبدروجو محمد کو مومباسہ ہی میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔ اس متنازع شخصیت پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے صومالیہ میں ’الشباب‘ نامی عسکریت پسند گروہ کو سپورٹ کرنے کی پاداش میں پابندیاں عائد تھیں۔

مارچ 2009 میں انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن آسکر کماو کنگرا کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ کار میں اپنے گھر جا رہے تھے۔ آسکر نے کینیا کی پولیس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے معاملات کی تفتیش کی تھی۔

اگرچہ ماضی میں کینیا میں متعدد پولیس اہلکاروں کو ماورائے عدالت قتل جیسے الزامات کے تحت گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا گیا تاہم ملزم اہلکاروں کو سزائیں ملنے کی شرح انتہائی کم رہی۔

حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے معروف وکیل ویلی کیمانی کے قتل کے الزام میں سپیشل سروسز یونٹ کے پولیس افسران کو عدالت میں پیش کیا گیا اورعدالت نے انھیں قتل کا مجرم قرار دیا تاہم کینیا کے عدالتی ضوابط کے مطابق ان پولیس اہلکاروں کو سزائیں سنائے جانے کی کارروائی ابھی باقی ہے۔

اسی لیے سپیشل سروسز یونٹ کے چار اہلکاروں کا رواں ہفتے ہونے والا ٹرائل اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ان اہلکاروں پر کینیا بھر میں قتل، اغوا اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ افسران فی الحال زیر حراست ہیں۔

ان کے مبینہ شکار بننے والوں میں وہ دو انڈین شہری بھی تھے جو جولائی سے لاپتہ تھے۔ دونوں انڈین شہریوں کی مبینہ باقیات گذشتہ ہفتے سینٹرل کینیا کے ایک جنگل سے برآمد ہوئی تھیں۔

ہیومن رائٹس ادارے کا کہنا ہے کہ آزادانہ تحقیقات میں 600 سے زیادہ ہلاکتوں کو پولیس سروس کے اندر موجود خصوصی یونٹس سے جوڑا گیا ہے۔ چند پولیس افسران پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے پیسوں کے عوض ایسی خدمات سرانجام دیں۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

آسٹریلوی وزیراعظم کا امریکا سے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کیخلاف کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ

کینبرا:آزادی اظہار کے لیے سرگرم کارکن اور وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج خفیہ دستاویزات …