جمعرات , 1 دسمبر 2022

ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے، پی ٹی آئی

لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیری مزاری نے پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیا۔

فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو خطرات تھے اور وہ چھپے ہوئے نہیں، انہیں خیبرپختونخوا حکومت نے بیرون ملک نہیں بھیجا۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے، عزت اور احترام کا رشتہ برقرار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’صدر مملکت کو ہم نے خط لکھا آپ سائفر کی تحقیقات کروائیں، آپ تحقیات کیوں نہیں کروا رہے، بھارتی وزیر دفاع نے پریس کانفرنس کی کہ ہم پاکستان سے ملحقہ کشمیر اور گلگت بلتستان لیں گے،پاکستان کی فوج کی عزت ضروری ہے وہیں پاکستان کے سیاست دانوں کی عزت بھی ضروری ہے‘۔

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے کہا کہ فوج آئینی کردار میں رہنا چاہتی ہے یہ اچھی بات ہے،عمران خان نے کبھی چھپ پر انڈیا کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی اور نہ عمران خان نے کبھی واشنگٹن اور لندن جا کر فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان فوج کے کچھ فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں، یہ انکا آئینی حق ہے، انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کی جس سے ارادہ کمزور ہو۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ آج پریس کانفرنس میں یہ کہا گیا کہ انہیں لانگ مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں، یہ اچھی بات ہے۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصل واؤڈا کی پریس کانفرنس سے لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے ایک ناکام کوشش کی گئی،سرکاری ٹی وی نے کوریج دی، پول کھل گیا اس کے پیچھے کون سی قوت تھی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اس دن شروع ہوا جب تحریک عدم اعتماد کی تیاری شروع کی گئی،عدم استحکام ہم نے نہیں کیا، ہم اسکا حل پیش کر رہے ہیں،ہم کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کروائے جائیں، جب ہم سے سائفر کے بارے میں بات کی گئی تو کہا گیا کہ اسکا ڈیمارچ دینا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر سائفر اتنا اہم نہیں تھا تو اس معاملے پر قومی سلامتی کا اجلاس کیوں طلب کیا گیا اور اس حوالے سے فیصلے کیوں کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مارچ پر امن، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا ہے کہ قتل سے تین منٹ پہلے میری ارشد شریف سے بات ہوئی وہ وطن واپس آنا چاہتا تھا۔ شیری مزاری نے کہا کہ ارشد سے آخری میسج پر بات ہوئی اُس نے پاکستان آنے کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی جواب دیا تھا کہ انہوں نے میرے سر کی قیمت مقرر کردی ہے اس لیے میں چھپ رہا ہوں۔

شیری مزاری نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ارشد کو خطرہ نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو وہ مجھے ضرور بتاتا، صحافی کا قاتل وہی ہے جس نے اُسے قتل کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر کو گولیاں لگنے پر جو کمیشن بنایا اُس کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غلط کہا کہ ارشد شریف کو خطرہ نہیں تھا، میرے پاس میسیجز ہیں اور کالز ہیں، چھبیس اگست کو ارشد شریف کو ٹوئٹر پر میسج دیا اور اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات و ملنے والی دھمکیوں سے آگاہ کیا تھا۔

شیری مزاری نے کہا کہ ارشد شریف کے حوالے سے کئی ثبوت موجود ہیں کہ اُسے کس نے دھمکیاں دیں، پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ سب کو بات کرنے کا حق ہے لیکن مجھے علم نہیں کہ میں بھی اٹھا لی جاؤں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی سکس کے ڈائریکٹر کو کبھی پریس کانفرنس کرتے نہیں دیکھا، جمہوری ملک کے ادارے کے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں لیکن سیاستدانوں کو بھی حق دیں وہ بات کریں، ہم قوم کی نمائندگی کرتے ہیں ہمیں بھی بچ بچا کر بات کرنا پڑتی ہے اگر وہ تنقید کریں گے تو ہمیں بھی وہ حق دیں جو آئین میں لکھا ہوا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور ایران کے تعلقات میں رخنہ ڈالنے والے عالمی قوتوں کی سازشوں کو مل کر ناکام بنانا ہوگا، ایرانی سفیر

اسلام آباد:پاکستان میں متعین ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ …