جمعرات , 8 دسمبر 2022

لانگ مارچ ہوگا مگر….!

(مظہر برلاس)

تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے اور ماضی بھی یہ عیاں کرتا ہے کہ کئی ملکوں میں سیاسی تحریکیں چلیں، کچھ کامیاب ہوئیں اور کچھ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ حکومتوں کی تبدیلی کیلئے تو بہت زیادہ تحریکیں چلیں مگر نظام کی تبدیلی کیلئے بہت کم تحریکیں چلیں۔

حکومتوں کی تبدیلی کے لئے تحریکیں آسان ہوا کرتی ہیں مگر نظام کی تبدیلی کیلئے چلنے والی تحریکوں کے سامنے کئی دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ ان دیواروں کو گرانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ انقلابیوں کو ہر موڑ پر ایک نئی سازش کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے دو ہمسایہ ملکوں میں انقلاب آئے۔

چین کے مائوزے تنگ کو بہت کچھ کرنا پڑا، اس کے ساتھ بھی کچھ لوگ ایسے آگئے تھے جو پرانے نظام کا حصہ تھے یا پرانے نظام کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ایک جدوجہد کے بعد جب انقلاب آگیا تو منشیات سے بھرا پورا جہاز پکڑا گیا۔مائوزے تنگ کو بتایاگیا کہ اس جرم میں شریک 32 افراد ایسے ہیں جو آپ کے دائیں بائیں براجمان ہیں۔ مائو نے ایک لمحے کیلئے سوچا اور پھر حکم دیا کہ …’’سب سے پہلے ان 32افراد کی گردنیں اتار دی جائیں…‘‘‘ جب یہ کام ہوگیا تو پرانے نظام کی نئے نظام کوناکام بنانے کی تمام کوششیں دم توڑ گئیں۔ ایک مرتبہ بیجنگ میں بارشیں ہوئیں تو نکاسی آب کا مسئلہ سامنے آیا۔ میئر کو بلایا گیا، صرف بلایا نہیں گیا بلکہ پھانسی چڑھا دیا گیا۔

بس اس کے بعد آج تک بیجنگ کی سڑکوں اور گلیوں میں بارش کا پانی کھڑا نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں کئی مہینوں سے سیلابی پانی کھڑا ہے مگر کچھ بھی نہ ہوسکا کیونکہ نظام نااہلیوں کو چھپانے کیلئے کافی ہے۔ہماری ہمسائیگی میں دوسرا انقلاب ایران میں آیا۔

یہ انقلاب چین کے انقلاب کے 30 برس بعد آیا۔ یہ 1963ء کی بات ہے جب امام خمینیؒ نظام کی تبدیلی کے حوالے سے بچوں کی تربیت کر رہے تھے، انہیں روزانہ پڑھا رہے تھے ان کے ایک دوست نے کہا کہ …’’اس سے کچھ نہیں ہوگا، یہ بچے کیا کریں گے…‘‘ اپنے دوست کے جواب میں امام خمینیؒ نے کہا …’’ چند سال انتظار کیجئے، جب یہ بچے جوان ہوںگے تو فضا بدل جائے گی،میں انہی بچوں کے ذریعے انقلاب لا کر دکھائوں گا…‘‘ اس گفتگو کے بعد امام خمینیؒ کو پندرہ برس انتظار کرنا پڑا۔

سولہویں برس انقلاب آ چکا تھا۔ ایران کا نظام تبدیل ہوچکا تھا، پرانے نظام کی اہم ترین علامت یعنی شاہ ایران کو دنیا کے طاقتور ملک بھی نہ بچاسکے۔ اس انقلاب کے بعد بگڑے ہوئے لوگوں کوسیدھا کیا گیا، دنیا کے طاقتور ملکوں کی خواہشات کے خلاف آنیوالے اس انقلاب کی وجہ سے ایرا ن کو آج تک پابندیوں کا سامنا ہے مگر یہ پابندیاں اسے جھکانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

اب آیئے وطنِ عزیز پاکستان کی طرف یہاں کئی مرتبہ انقلاب نے دستک دی مگر ہر مرتبہ انقلاب کو ناکامی کا منہ دیکھناپڑا۔ کبھی راستوں سے منزل چھین لی گئی اور کبھی راستوں کو کاٹ دیا گیا۔ اکثر یہ ہوا کہ انقلابی قافلے میں چند سازشی عناصر داخل کردیئے گئے جنہوں نے پرانے نظام کی بقا کیلئے کام کیا

انقلاب کیخلاف سازش کا حصہ بن گئے۔ عمران خان پچھلے 26سال سے اس قوم کو مسلسل یہ سبق پڑھا رہے ہیں کہ پاکستان کے نظام کو کرپشن نے برباد کردیا ہے، ناانصافی کی وجہ سے ملک پیچھے چلا گیا ہے۔ عمران خان نے اپنی ہر تقریر میں یہ سبق تواتر کے ساتھ پڑھایا۔ اسی لئے آج کے پاکستانی نوجوان کے ذہن پر یہ نقش ہو چکا ہے کہ ہمیں کرپٹ اور ظالمانہ نظام کھا گیا ہے۔

ہمارے اوورسیز پاکستانی بھائیوں نے بھی اس مہم میں پورا حصہ ڈالا۔ چین اور ایران کے انقلابیوں کے عہد میں جدید ترین ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ اب ٹیکنالوجی نے بارڈرز کو ختم کر کے رکھ دیا ہے، اب مہم لمحوں میں تحریک کا روپ دھارلیتی ہے، عمران خان نے جو سبق پڑھایا ، سوشل میڈیا نے اسے ضربیں دے کر تیز کردیا۔

اس سال اپریل میں جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو لوگوں نے آنے والوں کا استقبال نہیں کیا بلکہ وہ عمران خان کیلئےافسردہ ہوگئے، لوگ اس کیلئے کھڑے ہوگئے، عمران خان کیخلاف سازشیں ہوئیں، مقدمے بنائے گئے، اس کیخلاف جو کچھ ہو سکتا تھا وہ سب کچھ کیا گیا مگر لوگ اس سے پیچھے نہ ہٹے۔

اس کیخلاف فیصلوں کو لوگوں نے مسترد کیا۔ اب جب اس نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے تو پرانے نظام کے ٹھیکیداروں نے اس کی کشتی سے فیصل واوڈا کو اتارا، اس سے پریس کانفرنس کروا ڈالی، اس پریس کانفرنس کا اہتمام سرکاری مدد سے کیا گیا، اسے سرکاری ٹی وی پر دکھایا گیا۔

اس پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے دو تیر چلائے۔ ایک تو انہوں نے مشہور صحافی کے حالیہ قتل سے متعلق کچھ مشکوک باتیں کیں۔ ہوسکتا ہے ان باتوں کا سہارا لیکر مستقبل میں نواب قصوری کی یاد کو تازہ کیا جائے۔ ہر سازش کےپس پردہ بہت کچھ ہوتا ہے۔ فیصل واوڈا نے دوسری بات لانگ مارچ کے حوالے سے کی کہ اس دوران لاشیں گریں گی، جنازے اٹھیں گے اور تشدد ہوگا۔

کیا یہ بات لوگوں کو ڈرانے کیلئے کی گئی ہے یا پھر ایمرجنسی لگانے کا پیشگی اہتمام ہے؟۔ عمران خان نے آج سے لاہور سے لانگ مارچ شروع کر دیا ہے، مگراہم سوال یہ ہے کہ ان کی کشتی پر اور کتنے فیصل واوڈا سوار ہیں، ان کےقافلے میں اور کتنے لوگ ہیں جو پرانے نظام کو ہر صورت میں بچانا چاہتے ہیں۔ عمران خان انقلاب کیلئےلانگ مارچ ضرور کریں مگر ہوشیار رہیں کہ بقول اسد اعوان ؎

اپنے یاروں کی طبیعت سے شناسا ہوں اسدؔ

اب تعلق پہ مجھے مار دیا جائے گا

 

یہ بھی دیکھیں

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ …