ہفتہ , 10 دسمبر 2022

ایران میں ہنگاموں کے ذریعے سیاسی تبدیلی میں امریکہ کی ناکامی

(تحریر: حامد خبیری)

امریکہ میں جو بائیڈن حکومت پر اس بات کیلئے شدید دباو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایران میں ہنگاموں کی اس طرح حمایت کرے جس کا نتیجہ حکمفرما سیاسی نظام میں تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہو۔ دوسری طرف بائیڈن حکومت میں شامل امریکی حکام اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ بھی "یہی چاہتے ہیں” لیکن ایسا ہونا بہت ہی دور از امکان ہے اور وہ اس بارے میں بات کرنا بھی نہیں چاہتے۔ وائٹ ہاوس مسلسل مختلف لابیز کی جانب سے اس دباو کا سامنا کر رہا ہے کہ ایران میں انجام پانے والے ہنگاموں کا دائرہ مزید شہروں تک بڑھا دیا جائے اور امریکی حکومت اعلانیہ طور پر ان ہنگاموں اور ان میں ملوث عناصر کی حمایت کا اعلان کرے۔ لیکن امریکی حکمران اپنی حمایت کی سطح بڑھانے میں ہچکچا رہے ہیں کیونکہ انہیں کامیابی کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔

اگرچہ امریکہ کی روایتی سیاست تہران میں حکومت کو کمزور کرنے پر استوار ہے لیکن اس کے باوجود جب وہ ایران میں زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ موجودہ ہنگامے اور ان کے پس پردہ عوامل سے کسی بڑی کامیابی کی امید رکھنا بیہودہ ہے۔ کچھ دن پہلے امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران میں جاری ہنگاموں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے خلاف کچھ نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں ہنگاموں کی حمایت میں اس سے آگے نہیں بڑھے گا۔ وائٹ ہاوس سے قریب تصور کی جانے والی تجزیاتی ویب سائٹ پولیٹیکیو نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن مختلف حلقوں کی جانب سے دباو کے باوجود کھلم کھلا ایران میں سیاسی تبدیلی کی حمایت کا اعلان نہیں کریں گے۔

پولیٹیکیو نے امریکہ کے چھ اعلی سطحی عہدیداروں سے انٹرویو لیا ہے جنہوں نے اس مشترکہ نکتے پر زور دیا ہے کہ بائیڈن حکومت ہر گز ایرانی حکومت کو گوشنہ نشین کرنے اور اس سے جاری جوہری مذاکرات مکمل طور پر ترک کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ پولیٹیکیو نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ عنقریب وہ عناصر جو امریکی حکومت سے ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی کیلئے کھلم کھلا حمایت کی امید رکھتے ہیں مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔ دو ہفتے پہلے امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے ایک امریکی ویب سائٹ سے انٹرویو میں کہا تھا کہ جب 2009ء میں ایران میں شدید ہنگامے شروع ہوئے تو امریکی حکام کے درمیان ان ہنگاموں کی حمایت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت اس بات پر متفق ہے کہ اسے ایران میں رجیم چینج کی کھلم کھلا حمایت نہیں کرنی چاہئے۔

جو بائیڈن حکومت کی جانب سے ایران سے واضح مخالفت کے باوجود رجیم چینج پر مبنی پالیسی اختیار نہ کرنے کی مختلف وجوہات ہیں۔ امریکی حکام بارہا اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ایران میں سیاسی نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں اور یہ ان کی دلی خواہش ہے لیکن جب زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ایسا ہونا تقریباً ناممکن ہے لہذا یہ آپشن قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بعض امریکی حکام نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ حتی اس آپشن کے بارے میں اظہار خیال کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حتی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے 2015ء میں یکطرفہ طور پر ایران سے جوہری مذاکرات سے دستبرداری اختیار کی اور ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو پر مبنی پالیسی اختیار کی، انہوں نے بھی ایران میں رجیم چینج پالیسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔

امریکی حکمرانوں کے اس اعتراف کی ایک بنیادی وجہ ایرانی عوام کی موجودہ اسلامی جمہوریہ نظام کی بھرپور حمایت اور اس سے والہانہ عقیدت ہے۔ ترکی کی آناتولی یونیورسٹی کے پروفیسر مصطفی کنر اس بارے میں کہتے ہیں: "ایران میں کوئی انقلاب رونما ہونے کیلئے خاص قسم کے حالات کی ضرورت ہے جو اس وقت موجود نہیں ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ موجود ہنگامہ آرائی کسی بھی قسم کی قیادت سے محروم ہے اور کوئی بھی محبوب لیڈر، کونسل، پارٹی یا تنظیم نہیں پائی جاتی جو ان کی قیادت کرے۔” وہ مزید کہتے ہیں: "دوسری بات یہ ہے کہ ان ہنگاموں میں شامل ہر گروہ اور جتھہ اپنے مخصوص اہداف اور ایجنڈے کا حامل ہے۔ مزید برآں، ان مختلف اہداف اور ایجنڈوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میں ڈھالنے کا بھی کوئی بندوبست نہیں پایا جاتا لہذا ان سے کسی واحد سیاسی اقدام کی توقع رکھنا بے جا ہے۔”

موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے ایران میں ممکنہ سیاسی تبدیلی سے مایوسی کا اظہار اس قدر شدید ہے کہ امریکہ کے بعض اندرونی شدت پسند حلقے اس پر اسلامی جمہوریہ کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ٹیکساس سے امریکی سینیٹر ٹڈ کروز جو ایران کے خلاف شدید منافرت پھیلانے میں مشہور ہے نے حال ہی میں جو بائیڈن حکومت کے بارے میں کہا ہے: "بائیڈن حکومت حقیقی معنوں میں ایرانی رجیم کی بقا کیلئے کوشاں ہے کیونکہ وہ ایران سے تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ یوں امریکہ میں انرجی کی مصنوعات پیدا کرنے والی کمپنیوں کو درپیش بحران حل کر سکے۔” حقیقت یہ ہے کہ ایران میں حکمفرما اسلامی جمہوریہ نظام کی جڑیں عوام کے اندر بہت مضبوط ہیں۔ یہ وہ زمینی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ جو بھی کرتا ہے وہ اس نظام کی تبدیلی سے مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …