جمعرات , 1 دسمبر 2022

اقتدار کی آگ میں کون بھسم ہوگا؟

(عظیم چوہدری)

ایک اچھے سیاستدان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ ہمارے پاس قائدِاعظم سے بہتر کوئی مثال ہی نہیں اور ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے کہ بہت سی مثالیں دی جاسکیں۔ ہمارے ملک میں وزیرِاعظم بننے کے لیے اچھا سیاستدان ہونا ضروری نہیں۔ معین قریشی، شوکت عزیز، محمد علی بوگرہ سمیت کئی مثالیں موجود ہیں۔

ایک ایسا نوجوان جو 20 برس کی عمر میں مقبول ہوگیا ہو اور مزید کم از کم 50 سال تک مقبول رہے اس سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ مقبول رہنے کے لیے میڈیا کو کیونکر اور کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن محض اس مقبولیت کی بنا پر وزیرِاعظم بن جانا ممکن نہیں تھا کیونکہ وزیرِاعظم بننے کے لیے کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر ٹیم بھی ادھار لی ہو تو مزید مشکل ہوجاتا ہے اور یہ سب کچھ ہم نے ہوتا دیکھ لیا ہے۔

رب کائنات کے علاوہ کسی کا بھی اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ اقتدار اور حصولِ اقتدار کی طویل داستان ہوا کرتی ہے مگر کبھی بھی صاحبِ اقتدار، اقتدار میں آنے کے ذرائع بنانے کو تیار نہیں ہوتا اور جو ایک بار صاحبِ اقتدار ہوجائے اس میں ہوس اقتدار بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ بسا اوقات ہوس حرس کی آگ بھی بن جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اقتدار کے حصول اور اقتدار کو برقرار رکھنے کی جنگ شدت اختیار کرچکی ہے۔ ایسی آگ بھڑک رہی ہے کہ نہیں معلوم اس میں کون بھسم ہوگا، مگر کوئی ہوگا ضرور۔

سابق وزیرِاعظم اپنے ہی وضع کردہ نظام سے ہمیں حقیقی آزادی دلانے کے لیے ایک احتجاجی مارچ کی تاریخ کا اعلان کرکے اپنے ہی جال میں خود پھنس گئے ہیں۔ اب سردی کا موسم شروع ہورہا ہے اور وہ اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہتے ہیں، بھلا کبھی دھرنا دینے سے بھی پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکی ہے؟ تاریخ میں مثال نہیں ملتی مگر ناممکن کو ممکن بنانا ہی سیاستدان کی کامیابی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ہی لوگ لائے جائیں گے مگر حاصل کیا ہوگا جبکہ حکومت ارادہ کرچکی ہے کہ کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

عمران خان اپنے 4 سالہ عرصہ اقتدار میں ایسا کیا کرسکے کہ اب ملک کی قسمت بدل دیں گے۔ اگر آج کی اتحادی حکومت عام آدمی کو کوئی سہولت نہیں دے سکی چونکہ ملک کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں اور بقول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے تو پھر یہ کیسے سنبھال سکیں گے؟ حفیظ شیخ، اسد عمر، حماد اظہر، شوکت ترین ہی میں سے کوئی سنبھالے گا یا کوئی نیا چہرہ ہوگا؟ یہ مناسب سوال ہے اور اگر معیشت ٹھیک نہیں ہوگی، وسائل میں اضافہ نہیں ہوگا، سرمایہ کاری نہیں ہوگی، روزگار میسر نہیں ہوگا تو عوام کا اضطراب ایک بڑے انقلاب کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔

گو پاکستان میں بادشاہت نہیں مگر طرزِ حکومت اور طریقہ کار برطانوی جمہوریت کے قریب ترین ہے۔ وہاں کی حکمران جماعت صرف 13 فیصد شہریوں کی مقبولیت رکھتی ہے جبکہ لیبر پارٹی کی مقبولیت 60 فیصد سے بھی زیادہ ہے، مگر اس کے باوجود وہاں نہ صرف حکومت 3 بار تبدیل ہوئی بلکہ اس بار بھارتی نژاد برطانوی شہری وزیرِاعظم بن گئے، حالانکہ لیبر پارٹی کو چاہیے تھا کہ دریائے ٹیمز کے ساتھ پارلیمنٹ کی عمارت کا گھیراؤ کرکے نئے انتخابات کا نہ صرف مطالبہ کرتی بلکہ تاریخ لے کر ہی لوٹتی۔

ہمارے سابق وزیرِاعظم کو برطانیہ بہت پسند ہوا کرتا تھا اور انہوں نے اپنی ہر تقریر میں اس بات کا اظہار کیا کہ مغرب کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں مگر کیا کریں کہ وہ صرف مثال دیتے ہیں، مثال بنتے نہیں۔

جی ٹی روڈ سے انہوں نے اسلام آباد تک 260 کلومیٹر 7 روز میں طے کرنے ہیں۔ وہ ہر روز خود بھی حاضری دیکھیں گے اور وفاقی حکومت بھی۔ اسلام آباد کے باہر روات کے مقام پر ان کے شمال، جنوب، مشرق، مغرب سے آنے والے قافلے اکٹھے ہوں گے۔ یہ سب ان علاقوں میں ہوگا جہاں ان کی اپنی جماعت کی حکومت ہے۔ اگر امن وامان کا مسئلہ ہوا تو وہ اور ان کی حکومتیں جوابدہ ہوں گی۔ وہ اسلام آباد کو فتح کرنے کے لیے آرہے ہیں اور اسلام آباد حکومت قلعہ بند ہوکر مسلح افواج کو آئینی طور پر گویا آئین کی دفعہ 245 کے تحت ملک کی سلامتی اور حفاظت کے لیے مامور کرے گی۔

صدرِ مملکت کے اصرار پر آرمی چیف کے ساتھ عمران خان کی درخواست کے مطابق ملاقات میں واضح کردیا گیا تھا کہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں ہوگا، امن وامان کو قائم رکھا جائے گا، نئے آرمی چیف کی تعیناتی آئین کے مطابق ہوگی اور معیشت کی بحالی اوّلین ترجیح ہوگی۔

ایسے میں عمران خان کیا لے کر جائیں گے؟ ایک اور سوال ہے کہ کیا فوری انتخابات ہوسکیں گے؟ اس حوالے سے صاف جواب دیا جاچکا ہے کہ انتخاب وقت مقررہ پر ہی ہوں گے۔ اگر حکومت عمران خان کے دباؤ سے جھک گئی تو ان درجن بھر جماعتوں کی سیاست تو انہی کے ہاتھوں قبر میں اتر جائے گی اور اگر عمران خان حقیقی آزادی بمعہ انتخابی تاریخ نہ لے سکے تو ان کی کئی مہینوں کی وہ محنت اکارت ہوگی جو وہ حصولِ اقتدار کے لیے کررہے ہیں۔

اب چونکہ آرمی چیف کی تبدیلی میں صرف ایک ماہ رہ گیا ہے، اس لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ وہ جاتے جاتے کاکڑ فارمولہ پر عمل کریں حالانکہ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں، نہ ہی ایسے حالات ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ مارشل لا نافذ کریں۔ وہ تو جارہے ہیں اور ایسے میں اگر عمران خان ناکام ہوئے تو ملکی سیاست میں یا تو سکوت طاری ہوگا اور حکومت اپنے منصوبہ جات پر عمل کرے گی یا دوسری صورت یہ ہوگی کہ تحمل و برداشت کا جنازہ اٹھے گا اور انارکی بدترین شکل میں نمودار ہوگی۔

میدان تو سج گیا ہے بگل بھی بج چکا ہے، مقابلے کا وقت بھی قریب ہے مگر اثرات بہت گہرے اور دیرپا ہوں گے۔ حکومتیں آسانی کے ساتھ نہیں گرا کرتیں اور پھر انتخابی اصلاحات اور قانون سازی بھی ادھوری ہے، مردم شماری، حلقہ بندیاں، انتظامات یہ سب وقت پر ہی ہوں گے اور وقت کبھی انتظار نہیں کرتا۔

انتخابات پاکستان کے فی الفور مسائل کا حل نہیں بلکہ مشاورت، قانون سازی، طویل منصوبہ بندی اور اتفاق رائے ہوگا تو پھر انتخابات مسائل کا حل تلاش کرنے میں مددگار ہوں گے۔

عمران خان کی کابینہ کے ایک سابق رکن نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اور جس طرح جواب آں غزل بھی آیا ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کو اپنے ساتھ انصاف کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ کیا صف بندی قائم رہتی ہے یا نہیں اب بات سامنے آ ہی چکی ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ ہوگیا تو اس کے بھی بہت گہرے اثرات ہوں گے اور تفریق بڑھ جائے گی۔بشکریہ ڈان نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یورپ کی چین سےتعلقات کی از سر نو استواری، امریکہ- یورپ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے؟

یوکرین تصادم اور روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سےیورپ کے …