جمعہ , 9 دسمبر 2022

150 ملین افریقی بچے انتہائی غربت میں پھنسے ہوئے ہیں:سیو دی چلڈرن

لندن:ایک عالمی خیراتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی اور جنوبی افریقہ میں 150 ملین سے زیادہ بچے شدید غربت اور موسمیاتی تبدیلی کی آفت کا شکار ہیں۔روانڈا میں بین الاقوامی فلاحی تنظیم "سیو دی چلڈرن” کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ موسمیاتی ایمرجنسی اور عدم مساوات کے دو مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق جنوبی سوڈان مشرقی اور جنوبی افریقہ کے ممالک میں سرفہرست ہے جہاں ملک کے 87 فیصد بچے شدید غربت اور موسمیاتی تبدیلی کی دہری تباہی سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، موزمبیق میں 80% بچے اور مڈغاسکر میں 73% بچے اس رجحان کی اگلی صفوں میں ہیں۔

اس تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات کے بحران کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو انسانی بحرانوں کی تعدد اور شدت اور زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کینیا اور مڈغاسکر کے لیے سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر ایوان ارونگا نے کہا: "موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات کے بحران کو تنہائی میں حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اس طرح کے بحران لوگوں کو انتہائی غربت کی طرف لے جاتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب یا خشک سالی کا شکار بنا دیتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، کینیا میں کم از کم 16.3 ملین بچے (ملک کے بچوں کا 67%) غربت اور موسمیاتی تبدیلی کے بحران کے دوہرے اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ڈینا بولوارتے پیرو کی پہلی خاتون صدر منتخب

لیما:پیرو میں کاسٹیلو کو عہدے سے ہٹا نے کےبعد ڈینا بولوارتے پہلی خاتون صدر بن …