ہفتہ , 10 دسمبر 2022

پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بھارت سے بہتر ہے: عالمی سروے رپورٹ

گیلپ لا اینڈ آرڈر رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال نہ صرف انڈیا بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں سب سے بہتر ہے اور امریکہ پاکستان سے صرف ایک پوائنٹ اوپر ہے۔
سروے کمپنی گیلپ کی عالمی لا اینڈ آرڈر سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورت حال نہ صرف انڈیا بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں سب سے بہتر ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان کو 100 میں سے 82 نمبر دیے گئے ہیں جب کہ انڈیا کے نمبر 80، سری لنکا بھی 80، بنگلہ دیش کے 79 اور نیپال کے 78 ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں سنگاپور 96 نمبروں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جب کہ تاجکستان 95، ناروے 93، سوئٹزرلینڈ 92، انڈونیشیا 92، مصر 92، عرب امارات 92 اور فن لینڈ کے 91 نمبر ہیں۔

امریکہ پاکستان سے صرف ایک پوائنٹ اوپر ہے اور اس کے نمبر 83 ہیں۔ سعودی عرب کا سکور 89، برطانیہ کا 79 اور ایران کا سکور 82 یعنی پاکستان کے برابر ہے۔

دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک افغانستان ہے، جس کا سکور 51 ہے۔ اس کے علاوہ گبون کے 54 اور وینزویلا کے 55 پوائنٹس ہیں۔اس رپورٹ میں گیلپ نے مختلف ملکوں میں لوگوں کا سروے کر کے ان سے چار سوال پوچھے:

آپ جس شہر میں رہتے ہیں کیا آپ کو اس کی پولیس پر اعتماد ہے؟
کیا آپ اپنے علاقے میں رات کو گھومتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں؟
کیا پچھلے 12 مہینوں میں آپ یا آپ کے اہلِ خانہ کی کوئی چیز چوری ہوئی ہے؟
کیا پچھلے 12 ماہ میں آپ پر کوئی حملہ ہوا ہے یا آپ کو لوٹا گیا ہے؟
اس سروے کے لیے گیلپ میں 2021 میں 120 ملکوں کے ایک لاکھ 27 ہزار بالغ لوگوں سے سوال پوچھے گئے۔

سروے میں تقریباً 71 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ رات کے وقت خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں، جب کہ 70 فیصد نے مقامی پولیس پر اعتماد ظاہر کیا۔11 فیصد نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں ان کی کوئی چیز چوری ہوئی ہے اور چھ فیصد نے کہا کہ ان پر حملہ ہوا ہے۔

ایک دلچسپ کیس افغانستان کا ہے۔ اس کا سکور حالیہ سروے میں صرف 51 ہے، مگر یہ 2019 کے مقابلے میں بہتری کا عکاس ہے، کیوں کہ دو سال پہلے افغانستان کا سکور صرف 43 تھا اور یہ دنیا میں سب سے غیر محفوظ ملک تھا۔

اس کا مطلب ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔2019 میں صرف 12 فیصد افغان خود کو محفوظ سمجھتے تھے، لیکن یہ شرح 2021 میں بڑھ کر 22 فیصد ہو گئی ہے۔

اسی طرح 2021 میں 21 فیصد افغانوں نے کہا کہ ان کا سامان چوری ہوا ہے، مگر یہی شرح 2019 میں 40 فیصد اور 2018 میں 50 فیصد تھی۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران:بڑی تعداد میں اسرائیلی جاسوس گرفتار کئے ہیں، جنرل علی فدوی

تہران:سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف کمانڈر نے کہا کہ ہم نے بڑی تعداد میں …