جمعرات , 1 دسمبر 2022

کیا رشی سونک کے بعد برطانیہ بدل گیا؟

(نعیمہ احمد مہجور)

برطانیہ کی سیاست میں اس وقت ایک ناقابل یقین تبدیلی دیکھی گئی جب چند روز قبل دو وزرائے اعظم کے دو ماہ میں مستعفی ہونے کے بعد پہلی بار ایک ایشیائی نژاد ہندو رشی سونک حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر اور وزیراعظم منتخب ہوئے۔

برطانیہ میں سات دہائی قبل اس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا جب شہنشاہ چارلس کی والدہ ملکہ الزبتھ کے محل میں غیر سفید فام تارکین وطن صرف گھریلو ملازموں کے طور پر بلائے جا سکتے تھے۔

رشی سونک کے سامنے کئی بڑے چیلنج ہیں جس کا مشاہدہ عوام نے ان کے پارلیمان میں پہلے سوال و جواب کے سیشن کے دوران کیا ہو گا۔

گو کہ اپوزیشن پارٹی لیبر کے لیڈر کیر سٹارمر نے انہیں پارلیمان میں کھڑے ہو کر مبارک باد دی لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی نشان دہی بھی کی کہ ’یہ برطانیہ کے کثیر ثقافتی نظام کا عملی ثبوت ہے کہ آج ایشیائی نژاد سونک ملک کے وزیراعظم بن گئے ہیں، جو بہت سارے ملکوں میں ممکن نہیں ہے۔‘

شاید ان کا اشارہ انڈیا کی جانب تھا جہاں اس وقت بی جے پی کی اقلیت مخالف پالیسیاں بحث ومباحثے کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔

کابینہ کی تشکیل کے فوراً بعد رشی سونک پر مین سٹریم میڈیا، سوشل میڈیا اور پارلیمان میں تنقید کی بوچھاڑ شروع ہو گئی، جب انہوں نے بورس جانسن کی کابینہ کے بیشتر وزیروں کو اپنی کابینہ کا حصہ بنایا، بالخصوص وزیر داخلہ کی تقرری پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

چند روز قبل سابق وزیراعظم لز ٹرس نے وزیر داخلہ انڈین نژاد سولہ بیورمین کو ملکی سلامتی سے متعلق ایک خفیہ دستاویز کو ظاہر کرنے پر برطرف کر دیا تھا۔ رشی نے انہیں پھر وہی عہدہ واپس دے دیا۔ وہ اس امیگریشن پالیسی کی کٹر حامی ہیں، جس کے تحت تارکین وطن کو روانڈا واپس بھیجنے کا منصوبہ دوسری انڈین نژاد سابق وزیرداخلہ پریتی پٹیل نے بنایا تھا اور یہ دونوں اراکین پارلیمان افریقی ملکوں سے خود ہجرت کر کے برطانیہ میں آباد ہوئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے میڈیا نے برطانیہ پر ہندو وزیراعظم کی تعیناتی کی جس طرح تشہیر کی ہے، اس پر یہاں کے روایتی سفید فام سیاست دانوں اور عوامی حلقوں میں خاصے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا کے مکالموں میں بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ انڈیا نے برطانیہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا حساب چکانا ہے اور وہ حساب سونک سے شروع ہوا ہے۔

کلب ہاؤس پر یہ بھی سنا گیا کہ سونک کی تقرری مودی کی ایک اور کامیابی ہے اور وہ انڈیا کو ’وشوا گُرو‘ یعنی عالمی طاقت بنانے پر گامزن ہیں۔ انہی خیالات کے پیش نظر کئی انڈین نژاد برطانوی رکن پارلیمان کو مین سٹریم میڈیا پر یہ دہرانا پڑا کہ رشی سونک برطانوی شہری ہیں اور وہ صرف برطانیہ کی بقا اور ترقی کے لیے کام کریں گے۔

روہیمٹن میں آباد رشی سونک کے انڈین نژاد حامی اشوک بروہی کہتے ہیں کہ ’انڈیا کا ہندوتوا میڈیا رشی سونک کے ہندو ہونے کا جشن منا رہا ہے لیکن میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ہندو ہیں، ہندوتوا کے پیروکار نہیں، کانگریس سمیت دوسری سیاسی جماعتوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی کی حکومتوں کی پالیسی کی وجہ سے انڈیا کے حکمران اقلیت سے منتخب کیے جاتے رہے ہیں اور انہیں اپنی نمائندگی کرنے کا موقع دیا جاتا تھا، جو موجودہ حکمران جماعت بی جے پی نے تبدیل کر کے ملک کے سکیولر آئین کی نہ صرف بے حرمتی کی ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کو زک پہنچایا ہے۔ ہندوتوا کو رشی سونک کے وزیراعظم بننے کی خوشیاں منانے کا کوئی حق نہیں۔‘

کانگریس کے ایک سینیئر رہنما نے کہا کہ انڈیا میں ہندوتوا کی سوچ رکھنے والوں نے نہ صرف اطالوی نژاد سونیا گاندھی کو اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے سے روکا بلکہ ششی تھرور کو اپنی اہلیہ کے انتقال میں ملوث کرنے کی کوشش میں انہیں ذہنی طور پر مفلوج کرنے لگے تھے کیونکہ وہ ماضی میں اقوام متحدہ میں رہ کر اقلیتوں کے انسانی حقوق اور کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا کرتے تھے، جس کی انہیں سزا دی گئی ہے۔

وہی آج رشی سونک کو ہندو جتا کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ برطانیہ میں ہندو راج قائم ہوا ہے۔برطانیہ میں جنوبی ایشیا سے آنے والے مسلم تارکین وطن میں رشی سونک کے بارے میں کچھ خدشات تو پائے جاتے ہیں لیکن اس ملک کا مضبوط انتظامی نظام اور کسی حد تک آزاد میڈیا موجود ہے، جو منافرت پھیلانے کی سوچ کو شاید ہی پنپنے دے گا۔

واضح رہے کہ چند ہفتے پہلے لیسٹر میں ہندو مسلم فسادات بھڑکانے کی کوشش کی گئی جس پر بعض رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ ان کو شروع کرنے میں چند کٹر ہندو پیش پیش تھے۔

برطانیہ میں آباد بیشتر مسلم تارکین وطن اپوزیشن پارٹی لیبر کے حامی ہیں جبکہ ہندوؤں کی بڑی تعداد حکمران جماعت کنزرویٹو کی حمایت کرتی ہے۔ اس بات کے پیش نظر رشی سونک کی کابینہ کی تشکیل پر بھی سب کی گہری نظر تھی۔ خیال تھا کہ پاکستانی نژاد رکن پارلیمان اور سابق وزیر صحت ساجد جاوید کابینہ میں شامل ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کابینہ کی تشکیل کے بعد سوشل میڈیا پر فوراً ایک ٹرینڈ #sunakout شروع کیا گیا جو بعد میں منظر عام سے ہٹ گیا یا ہٹایا گیا لیکن رشی اگر آؤٹ ہوں گے تو وہ مذہب کی بنیاد پر آؤٹ نہیں ہوں گے بلکہ وہ برطانیہ کی وینٹی لیٹر پر چلنے والی معیشت کی وجہ سے ہوں گے۔ عوامی حلقوں کے بڑھتے غصے سے ہوں گے جو بریگزٹ کے منفی اثرات، کووڈ 19، یوکرین جنگ اور کابینہ کی تشکیل پر نظر آ رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ رشی سونک کب تک یہ دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اور اس سے بھی بڑا سوال یہ کہ ان کی اپنی پارٹی، اپوزیشن اور برطانوی عوام کتنے ہفتوں تک انہیں سننے کی طاقت رکھتے ہیں۔بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …