ہفتہ , 10 دسمبر 2022

لانگ، لانگ، لانگ مارچ؟ اور شاہین تھک گئے؟

(چودھری خادم حسین)

لانگ، لانگ، لانگ مارچ، یہ نام جس ملک اور اس کے رہنما ماؤ زے تنگ سے لیا گیا ہے، اس کی تاریخ پڑھنے ہی سے اندازہ ممکن ہے کہ کن حالات میں کیا سوچا گیا اور پھر گراں خواب قوم کیسے سنبھلی اور یہ مارچ کیسے کیسے مصائب سے دوچار ہوا، کتنی جانیں گئیں اور پھر وہ خواب پورا ہوا تو پورا نظام ہی تبدیل ہو گیا، اس کے بعد اسی قوم نے پھر ایک طویل جدوجہد کی اپنی محنت سے تاریخ رقم کر دی اور ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے مقابل لاکھڑا کیا اور آج اسی قوم پر وہ وقت ہے کہ دنیا کی واحد سپرپاور کو بھی فکر لاحق ہے۔ اس دوست ملک کے نظام میں اصلاح ہوئی اور آج کا جو چین ہے وہ ماؤزے تنگ کے چین سے یقیناً مختلف تو ہے لیکن اس کے اصول و قواعد متبدل ہیں، ٹائی سوٹ والے چینی آج بھی اپنے ملکی نظام کے پابند ہیں اور یہ ملک آج دنیا میں اپنا مقام بنا چکا ہے، یہ سب اسی تاریخی لانگ مارج کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ملک میں بھی مارچ ہوئے اور ایک آج بھی ہوگا کہ تادم تحریر خان صاحب زمان پارک میں ہیں اور لبرٹی چوک میں کارکنوں کی ایک تعداد موجود ہے۔ امکانی طور پر یہ مارچ جسے لانگ مارچ کہا گیا ہے، نماز جمعہ کے بعد ہی کسی وقت روانہ ہوگا اور یوں جو شیڈول جاری کیا گیا وہ اول روز ہی سے اپ سیٹ ہو گیا کہ چوک داتا دربار تک پہنچنے کے دیئے گئے وقت تک (امکان) تو شاید لبرٹی چوک ہی سے شروعات ہو۔

میں حالات حاضرہ کے حوالے سے گزشتہ دنوں عرض کر چکا ہوں اور آج جب یہ دن آ گیا ہے اور اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی طویل بات چیت بھی دیکھ، سن اور پڑھ لی گئی ہے۔ کہتے ہیں، سپائی ماسٹر کا یوں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرنا بھی نئی تاریخ ہے بہرحال ایک بات تو طے ہے کہ موجودہ چیف نے اپنی تعیناتی کے بعد سے پہلی بار رونمائی دی ہے کہ اب تک ان کی کبھی تصویر بھی نہیں چھپی، اس پریس کانفرنس ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورت حال کیا اور نوبت کہاں تک پہنچ چکی کہ ملکی سرحدوں کے دفاع والوں کو ملکی آئین کے موثر دفاع کا اعلان کرنے کے لئے سامنے آنا پڑا،یہ بھی ملکی تاریخ کا اہم واقع ہے کہ ان حضرات نے پورے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ملکی سرحدوں اور ملک کے تحفظ کے سوا سیاست سے دور رہا جائے گا، اس سلسلے میں تحریک انصاف اور اس ادارے کے ان ترجمانوں کے درمیان جو تبادلہ سوال و جواب ہوا یا ہو رہا ہے۔ میں اس سے قطعاً لاتعلق ہوں کہ قوم کے سامنے سب کچھ عیاں ہے اور اب فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے، میں اس لانگ مارچ کے حوالے سے بھی کوئی بات نہیں کروں گا کہ رپورٹنگ سے منسلک ہوتے ہوئے ایسے کئی لانگ اور شارٹ مارچوں کی کوریج کا اعزاز حاصل ہے اور میں ان حالات کی روشنی میں اندازہ بھی لگا سکتا ہوں اگرچہ تحریک انصاف بلکہ کپتان کے لانگ مارچ کی نوعیت قدرے مختلف ہوگی کہ یہ لاہور سے شروع ہو رہا ہے۔پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کی سربراہی مسلم لیگ (ق) کے چودھری پرویز الٰہی کر رہے ہیں، اسی طرح تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی اقتدار حاصل ہے جبکہ بلوچستان کے اقتدار میں حصہ ہے۔ یوں آج تحریک انصاف کو بے نظیر بھٹو یا نوازشریف والے لانگ مارچ جیسی مشکل نہیں ہے۔

میں اس معاملے کو یہیں چھوڑتا ہوں کہ جو کچھ ہے وہ الیکٹرونک میڈیا کے باعث عوام کو نظر آتا رہے گا اور پھر سوشل میڈیا گروپس بھی اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں، میں تو آج بات کرتا ہوں کہ ملک گرداب میں پھنسا ہوا ہے، معاشی حالت سنوارنے،سنبھالنے کے لئے دانتوں پسینے والا ماحول ہے۔ حکمرانوں کو بھی مشکل کا سامنا ہے اور میرے خیال میں شاید یہی اثرات دوسرے شعبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، یہی دیکھ لیں کہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جو 92ورلڈکپ کی فتح والی ٹیم کے بھی رکن تھے، کسی کی سن ہی نہیں رہے اور ٹیم کی آنکھوں دیکھی کارکردگی کو جھٹلاتے ہوئے دعویٰ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ یہی ٹیم ورلڈکپ جیت کر آئے گی اور ان کی یہ خواہش، حسرت اور پیش گوئی شاہینوں نے زمبابوے سے شکست کھا کر پوری کر دی ہے۔ زمبابوے نے محنت کی اور ہمارے شاہینوں نے پرواز نہ کی اور تھکاوٹ کا مظاہرہ کر دیا۔ یہ میچ ہار کر اپنے لئے اتنی بڑی مشکل پیدا کر لی کہ اپنی سیمی فائنل تک رسائی جان جوکھم کا کام بن گئی ہے، یہ درست کہ ابھی جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈ سے میچ باقی ہیں اور شاہینوں کو یہ تینوں میچ زیادہ ”مارجن“ سے جیتنا ہوں گے اور اس کے بعد بھی یہ دعا مانگنا ہو گی کہ انڈیا اور جنوبی افریقہ بھی کسی اپ سیٹ کا شکار ہو جائیں اور شاید یہ ممکن نہ ہو اور اگر قسمت نے ساتھ نہ دیا تو ورلڈکپ جیتنے کے خواب آنکھوں میں سجائے ”باعزت“ واپس آنا ہوگا۔

حالیہ دومیچوں نے جہاں ایک بار پھر ٹیم سلیکشن اور اس حوالے سے ضد کو ثابت کر دیا، وہاں یہ رائے بھی تقویت پکڑ گئی ہے کہ بابر اعظم کے لئے ٹیم کی قیادت بوجھ بن گئی اور اس سے اس کی اپنی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے، چہ جائیکہ وہ ٹیم کو فتح دلانے کی حکمت عملی میں کامیاب ہوں،زمبابوے کے خلاف پاکستانی بلے بازوں نے بابراعظم سمیت جس کارکردگی کا مظاہر کیا وہ تو جونیئر لیگ والوں سے بھی بدتر ہے۔ آخر شعیب ملک میں وہ کون سے بُرے یا گندے جراثیم ہیں کہ ان کو شامل کرنے سے گریز کیا گیا ہے حالانکہ وہ اپنے تجربے کی وجہ سے مڈل آرڈر، فیلڈ اور ایک حد تک باؤلنگ میں بھی زبردست معاون ثابت ہو سکتے ہیں اور یہ تجربہ کئی بار ہو چکا ہوا ہے، اب شاید ضرورت پیش آ گئی کہ کرکٹ بورڈ کی اوور ہالنگ پر بھی غور کیا جائے اور اس میں جو پیر تسمہ پامستقل آمدنی کے لئے چمٹے ہوئے ہیں، ان سے نجات حاصل کرکے ایسے ماہر شامل کئے جائیں جو تعصب سے بالاتر ہوں اور میرٹ پر سب کام کریں، اس سب کے باوجود دعا ہے کہ کرکٹ بائی چانس شاہینوں کے لئے کوئی اپ سیٹ کرکے جگہ پیدا کر دے۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

ترک فوجی عراقی کردستان کی سرحدی پٹی پر کیوں تعینات ہوئے؟

بغداد:عراق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فوجی، عراقی کردستان کے ساتھ ملنے والی سرحدی …