منگل , 6 دسمبر 2022

خطے میں افراتفری کی ناکام ہوتی امریکی خواہش

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

خطے میں حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، جب سے امریکہ بہادر افغانستان سے نکلا ہے، اندرونی اور بیرونی سطح پر ہونے والی عزت افزائی سے کافی تلملا رہا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی ہر اس خطے میں عدم استحکام سے عبارت ہے، جہاں اس کے سیاسی مخالفین کی حکومتیں قائم ہیں۔ روس میں پہلے آذر بائیجان کو تھپکی دی اور ترکی ذریعے اسلحہ دے کر آرمینیا سے لڑا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کے شعلوں نے اس خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ قریب تھا کہ جنگ کے شعلے لمبی مدت تک بھڑکتے خطے کے ممالک بالخصوص روس نے فوری طور محسوس کیا کہ یہ نیٹو کی چال ہے اور وہ بڑی ہوشیاری سے آذر بائیجان کے حمایتی بن کر جنگ کو روس و ایران کے بارڈر تک لانا چاہتے ہیں، روس نے جنگ بندی کروا دی۔ اگرچہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان موجود یہ تاریخی تنازع ہے، مگر اب بین الاقوامی مفادات کا مورچہ بھی بن چکا ہے اور ہم صرف دو ممالک کے باہمی تنازع کی شکل میں ہی دیکھ کر اس کا درست تجزیہ نہیں کرسکتے۔

یہاں ناکامی کے بعد یوکرین کو ابھارا گیا کہ وہ پڑوسی دوستی والا راستہ اختیار کرنے کی بجائے نیٹو کی طرف جھکاو اختیار کرنے لگا۔ اس سے پہلے کہ نیٹو براہ راست ایک بڑے بفرزون کو کراس کرکے روس کے گرد گھیرا تنگ کرتا، روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔ جنگ بڑی بھیانک چیز ہے، آج ہم اس کا مشاہدہ یوکرین میں کر رہے ہیں۔ ایک ترقی کرتا ملک نیٹو کے مفادات کی زد میں آگیا اور وہاں کی عوام آج در بدر ہے۔ جب کوئی ایک ملک بد امن ہوتا ہے تو یہ سوچتے رہنا کہ یہ بدامنی ہمارے ہاں نہیں پہنچے گی، خام خیالی ہے۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، وہاں تو جو کچھ ہوا سو ہوا، آپ دیکھیے شام کو بھی اسی آگ نے اپنی لپٹ میں لے لیا۔ آج عراق میں امن ہوچکا، مگر شام میں یہ خونی کھیل جاری ہے۔ آج اہل شام کی بڑی تعداد ترکی اور دیگر ممالک میں پناہ گزین ہے۔ آج عرب ممالک شام کے ساتھ تعلقات بحال کر رہے ہیں، عرب وزرائے خارجہ اور دیگر عہدیدار بشار الاسد سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہی لوگ تھے، جو کل تک شام کے عوام کو سیاسی طور پر گمراہ کر رہے تھے اور دنیا بھر سے جہادی شام داخل کر رہے تھے۔

شام کی بدامنی کا ترکی سیاسی اور جغرافیائی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا اور جہاں کردوں کے خلاف عربوں کو استعمال کرنا چاہتا تھا، وہیں ادلب سمیت کئی اہم علاقے اپنے تصرف میں رکھنا چاہتا تھا۔ آج وہی ترکی شام سے تعلقات بحال کر رہا ہے اور بڑی تعداد میں مہاجرین کو ترکی سے شام دھکیلا جا رہا ہے۔ ماضی کے حریت پسند اب عرب ممالک میں بھی دہشتگرد بننے ہی والے ہیں۔ یہ مفادات کا کھیل ہے، ترکی، قطر، عرب امارات اور سعودیہ نے لوگوں کو تبدیلی اور جمہوریت کا عظیم خواب دکھا کر ریاست پر قبضے کے لیے اکسایا، جس کا نیجہ بدامنی کی صورت میں نکلا۔ شام کے وہ رہنماء جنہوں نے ان ممالک کے کہنے پر امن کی بجائے بدامنی کا راستہ اختیار کیا، وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمیں بے وطن کرکے اور قتل کروا کر خود بڑی خوشی سے ہاتھ ملا لیا۔ یہ ان قوتوں کے لیے بڑا پیغام ہے کہ جو بیرونی اشاروں پر اپنی ریاستوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور اپنے ممالک کو بدامن کر دیتے ہیں۔ بیرونی دنیا اگر کسی ملک میں ایک ڈالر بھی خرچ کرتی ہے تو اس میں ان کے مفادات ہوتے ہیں، جب ان مفادات کی تکمیل ہو جاتی ہے یا ان کے حاصل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو نظریہ، آزادی اور جمہوریت ہر چیز پس پشت ڈال دی جاتی ہے، کیونکہ مطمع نظر فقط مفاد تھا۔

کچھ عرصہ پہلے ایک ایرانی خاتون کی ڈاکومنٹری دیکھی، جو ایران دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر جمہوری اسلامی کے خلاف استعمال ہوتی رہی اور آخر میں اسرائیل جا پہنچی اور وہاں ہی شادی کر لی۔ ابھی وہ نوحہ کناں تھی کہ شوہر چھوڑ گیا اور اسرائیلی انتظامیہ کہتی ہے کہ پیدا ہونے والی بچی تو شہریت رکھتی ہے، تم شہریت نہیں رکھتی، بغیر ویزے کے نہیں رہ سکتی۔ اسے ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کیا گیا کہ وہ مایوسی کی انتہا پر تھی۔ وہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوئی اور آخر میں خسر الدنیا والآخرہ ہوگئی۔ آپ بیرونی سامراجوں کے لیے کام کرنے والوں کی تاریخ پڑھ لیں، وہ زندگی میں ہی ذلیل ہوئے۔ وہ تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، جن کی ڈوریں بیرونی ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ آج کل اسلامی جمہوری ایران میں ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی میڈیا ایک مہم بنائے ہوئے ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ ایران میں لوگوں کو مظاہروں کی آزادی ہے اور وہ پرامن انداز میں اپنا یہ حق استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اسے ایک ریاست مخالف بیانیے کے طور پر پروپیگنڈے کے لیے استعمال کریں گے۔

ان کی آنکھیں اتنی یکطرفہ ہیں کہ چند لوگوں کے مظاہروں اور اکثر مقامات پر فسادیوں کی رات کے اندھیرے میں ہونے والی لوٹ مار کو آئیڈیلائز کرتے ہیں۔ انہیں اس تشدد اور فساد کے خلاف نکلنے والے لاکھوں لوگ نظر نہیں آتے۔ کچھ لوگ فرقہ وارانہ ذہن کی وجہ سے پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ اسلام مخالف نظریات کے نفاذ کی خواہش کو حقیقت کا روپ ڈھالنے کے لیے دانستہ پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ کچھ بہت ہی سادہ ہیں، جو اسے دل و جان سے حقیقت سمجھتے ہیں۔ آنکھیں کھولنے اور دماغ استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ جو ہے وہ نظر آئے نہ وہ جو بین الاقوامی استعمار دکھانا چاہتا ہے، وہ دیکھیں اور نظریہ بنا لیں۔ امریکہ کے استعماری عزائم کا پورے خطے سے خاتمہ قریب ہے، یہ آخری کوششیں ہیں، جو اپنے سارے پیادوں کو میدان میں اتار کر کی جا رہی ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کردستان انتظامیہ تیل کی اسمگلنگ بند کرے: عراق حکومت

بغداد:عراق کے وزیر اعظم نے کردستان کے علاقے کے منتظمین کو تیل کی اسمگلنگ روکنے …