اتوار , 4 دسمبر 2022

بچوں کی بستر گیلا کرنے کی عادت، والدین کیا کریں؟

لندن:9 سالہ فرمان یوں تو سب گھر والوں کا لاڈلا تھا خصوصاً امی کو سب سے زیادہ پسند تھا، لیکن اس کی ایک عادت کی وجہ سے امی اور گھر والے بہت پریشان تھے، اور وہ عادت تھی اتنا بڑا ہونے کے باوجود اپنے بستر پر رات میں پیشاب کرنا۔۔۔ جس کی وجہ سے اسے شرمندگی بھی ہوتی اور گھر میں بھی بدبو ہوتی۔

بڑے ہوتے بچوں کا بستر پر پیشاب کرنا بظاہر مضحکہ خیز بات محسوس ہوتی ہے تاہم یہ عادت گھر والوں کے لیے کافی تشویش کا باعث ہوتی ہے۔

اس عادت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین سب سے پہلے اس کی وجوہات سمجھیں تاکہ انہیں اسے ٹھیک کرنے میں درست رہنمائی مل سکے۔

بستر پر پیشاب کی وجوہات
بڑی عمرکے بچوں میں بستر گیلا کرنے کی چند بنیادی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں:

گھریلو مسائل جیسے لڑائی، جھگڑے یا سختی وغیرہ جو بچوں کے اعصاب کو کمزور کر دیتے ہیں۔

بچوں کی فطری نمو میں یا خوراک وغیرہ کی وجہ سے کمی رہ جانا جس کی وجہ سے وہ پیشاب کے پریشر پر قابو نہیں رکھ پاتے۔

اٹینشن ڈیفیسیٹ ایکٹیویٹی ڈس آڈر (Attention-Deficit Disorder) یا عدم ارتکاز کی بیماری کا شکار ہونا۔

بستر گیلا ہونے پر شدید ڈانٹ ڈپٹ سے ذہنی و جذباتی طور پر خوفزدہ ہوجانا۔

ان میں سے کوئی یا ایک سے زائد وجوہات بچوں میں سوتے وقت پیشاب کی عادت تھوڑی بڑی عمر میں بھی لوٹا سکتی ہیں۔

یہ عادت کب ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے؟
بستر پر پیشاب (Bed-wetting) کرنے کی عادت، جسے ڈاکٹر ‘ انوریسس ‘ (Enuresis)بھی کہتے ہیں، ایک خاص عمر تک عموماً تمام بچوں میں ہوتی ہے، تاہم بڑے ہونے کے ساتھ وہ جسمانی پختگی، بڑوں کی رہنمائی اور گھریلو ماحول سے اس عادت پر قابو پالیتے ہیں۔

ایسا اس لیے ممکن ہو پاتا ہے کہ بچے بہت اچھا مشاہدہ کرتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ گھر کے بڑے کب اور کیسے ٹوائلٹ جاتےہیں، یوں آہستہ آہستہ ان کی ذہنی تربیت ہوتی چلی جاتی ہے کہ پیشاب آنے کی صورت میں انہیں ٹوائلٹ جانا ہے۔

فطری طور پر 5 سال تک کا بچہ رات میں پشاب پر قابو پانے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو ڈاکٹروں کے نزدیک اس عمر تک کے بچے کا بستر پر پیشاب کرنا نارمل تصور کیا جانا چاہیے، اور زیادہ دشواری کی صورت میں ڈائیپر استعمال کروانا چاہیے۔

کبھی کبھار ایسا ہو سکتا ہے کہ 5 سال سے بڑا بچہ بستر پر پشاب کرتا رہے تاہم ایسا صرف 5 سے 10 فیصد بچوں میں ہوسکتا ہے، جبکہ ایک تا2 فیصد 10 سے 12 سال تک کے بچوں میں بھی یہ مسئلہ موجود ہو سکتا ہے۔

ضروری نہیں یہ کسی بیماری یا اندرونی کمزوری کی وجہ سے ہو، اس صورت میں انہیں طبی یا نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیسے قابو پائیں ؟
بستر گیلا کرنے کی عادت کو کنٹرول کرنے کے لیے 4 سے 5 سال سے 7 سال تک کے بچوں کے الگ اقدامات جبکہ ان سے بڑے بچوں کے لیے مختلف اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

چھوٹے بچوں میں
1۔ پانی و دیگر مشروبات محدود کرنا کیفین والے مشروبات جیسے چائے یا کافی اور سافٹ ڈرنکس پشاب بڑھا سکتے ہیں۔

ایسے تمام مشروبات کو محدود کرتے ہوئے دن میں زیادہ سے زیادہ ایک مشروب کی اجازت ہونی چاہیے، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچہ بستر پر جانے سے 2 گھنٹے پہلے ہر طرح کے مشروبات کا استعمال بند کردے۔

زیادہ پیاس کی صورت صرف ایک گھونٹ پینے کی اجازت دیں اور ساتھ ہی ان سے اس مسئلے پر بات کریں تاکہ وہ ان پابندیوں کو سمجھ سکیں۔

2۔ بستر پر جانے سے پہلے بچے کو ایک سے 2 دفعہ لازمی ٹوائلٹ لے کر جائیں۔

3۔ رات کے جس پہر بچہ عموماً پیشاب کرتا ہے، اسے اٹھا کر ٹوائلٹ لے جائیں ۔۔۔۔آہستہ آہستہ یہ عادت بچے کے لاشعور تک پہنچ جائے گی اور وہ خود بخود پیشاب آنے کی صورت میں اٹھنا شروع ہو جائے گا۔

4۔ مستقل مزاجی سے بچے کی کاؤنسلنگ کریں یعمی اسے سمجھاتے رہیں، یہ بات یاد رکھیں کہ وہ ابھی بھی صرف ایک بچہ ہے جس کا ذہن ابھی تک پوری طرح تیار نہیں ہوا، کسی وقت بستر گیلا ہونے پر شدید ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں بلکہ نرمی سے بات کریں۔

بڑے بچوں میں
1۔میڈیکل ڈیوائس کا استعمال – مارکیٹوں میں ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جو بچے کے پیشا ب کرتے ہی وائبریٹ کرنا شروع کردیتی ہیں یوں بچہ فوراً اٹھ کر ٹوائلٹ جا سکتا ہے، عموماً 80 فیصد بڑے بچوں کو ان ڈیوائسز کی مدد سے ٹوائلٹ کے لیے جگایا جاسکتا ہے۔

2۔ طبی معائنہ – کسی مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروایا جاسکتا ہے جو بچے کے اندرونی نظام کا جائزہ لے کر بقدر ضرورت دوائی تجویزکر سکتا ہے۔

3۔ نفسیاتی علاج – کسی بھِی طبی علاج اور دوائی دینے سے پہلے ضروری ہے کہ بچے میں بستر پر پشابب کرنے کی نفسیاتی وجوہات جیسے شدید ڈانٹ ڈپٹ، سختی وغیرہ کو ختم کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی کسی کاؤنسلر کی مدد سے یا خود بچے کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کی سرگرمیاں کروائی جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

45 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے سانس کے امراض میں مبتلا ہونے کا انکشاف

کراچی: پاکستان میں 45 لاکھ سے زائد افراد سانس کی نالیوں میں تنگی کی بیماری …