جمعرات , 8 دسمبر 2022

ایران میں فسادات کے پیچھے سی آئی اے کی قیادت میں غیر ملکی جاسوس ایجنسیاں ملوث ہیں، ایرانی انٹیلیجنس

تہران:ایران کے اعلیٰ انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران میں ہونے والے پرتشدد فسادات کو منظم کرنے میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں بالخصوص سی آئی اے کے اہم کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

ایران کی وزارت انٹیلی جنس اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جنس تنظیم نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ایران میں حالیہ ہنگامہ آرائیوں اور فسادات کے مختلف پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کی "مسلسل اور درست” انٹیلی جنس نگرانی کے ساتھ ساتھ حالیہ ہنگامہ آرائیوں اور بدامنی کے دوران حاصل کیے گئے شواہد اور دستاویزات اور بحران کے بعد کے مرحلے کے لیے دشمن کے منظرناموں سے حاصل کردہ معلومات سے فسادات اور بدامنی کی منصوبہ بندی، اس پر عمل درآمد اور اسے برقرار رکھنے میں امریکی دہشت گرد حکومت کے ہمہ جہت کردار کی بے شمار مثالوں اور ناقابل تردید حوالہ جات کا پتہ چلتا ہے۔

بیان میں حالات کو تین قسموں میں بانٹا گیا ہے اور "بدامنی سے پہلے”، "بدامنی کے دوران” اور "بدامنی کے بعد” کے حقائق پیش کرتے ہوئے اس معاملے کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے سرکاری تحقیقات کے اعلان سے پہلے مہسا امینی کی المناک موت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک "پہلے سے منصوبہ بند” منصوبے کا آغاز کیا۔

بیان میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے گھناؤنے سعودی جرم یا غاصب اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں صحافی شیرین ابو عاقلہ کے جان بوجھ کر قتل کو نظر انداز کرنے کی تاریخ رکھنے کے باوجود اپنے سیاسی مفادات کے لیے واشنگٹن کی جانب سے اس سانحے کے استحصال کی مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سی آئی اے نے اپنے اتحادی جاسوسی اداروں اور رجعت پسندانہ پراکسیز کے تعاون سے فسادات اور بدامنی شروع ہونے سے پہلے ایک وسیع منصوبہ تیار کیا تھا تاکہ ملک گیر ہنگامہ آرائیاں اور افراتفری شروع کی جائے جس کا مقصد عظیم ایرانی قوم اور ملک کی علاقائی سالمیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے غیر ملکی دباؤ کے لیے زمین ہموار کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق سی آئی اے نے مرکزی کردار ادا کیا جبکہ برطانیہ، اسرائیلی حکومت اور سعودی عرب کے جاسوسی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔

بیان میں فسادات اور بدامنی کی تیاری کے سلسلے میں مذکورہ ایجنسیوں کے کچھ اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے جیسے کہ انسانی حقوق کی نام نہاد کانفرنسوں کا انعقاد اور ہر واقعے کو موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایرانی حکومت کی نااہلی کو ظاہر کرنا۔

بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ جاسوس ایجنسیوں نے کئی ممالک میں تربیتی کیمپوں کا اہتمام کیا تاکہ افراد کو ہائبرڈ اور نرم جنگ کی تربیت دی جا سکے۔ بیان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جن افراد نے ہسپتال میں مہسا امینی کی پہلی تصویر لی اور وائرل کی، ساتھ ہی وہ جنہوں نے مخصوص تصاویر پوسٹ کر کے امینی کے اہل خانہ کو اکسایا، نے ان کورسز میں خصوصی تربیت حاصل کی تھی۔

ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے یہ بھی کہا کہ دشمنوں نے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف "عالمی میڈیا جنگ” کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا۔

ایرانی اینٹلی جنس اداروں کے مطابق ٹویٹر اور انسٹاگرام نے "جعلی خبروں” کے پھیلاؤ کو تیز کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنے ضابطوں کو نظر انداز کیا۔

بیان میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود، دشمن "اپنے پہلے سے طے شدہ مقاصد میں سے کوئی بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے” کیونکہ "ایران کو تباہ کرنے کے منصوبے کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”

خیال رہے کہ 22 سالہ مہسا امینی کے پولیس اسٹیشن میں گرنے اور انتہائی طبی امداد کے باوجود ہسپتال میں دم توڑنے کے بعد ایران میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ایران کی قانونی ادویات کی تنظیم کی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امینی کی متنازعہ موت سر یا جسم کے دیگر اہم اعضاء پر مبینہ ضرب کے بجائے بیماری کی وجہ سے ہوئی۔

ہنگامہ آرائیوں اور فسادات نے سیکورٹی فورسز اور بے گناہ لوگوں کی درجنوں جانیں لی ہیں کیونکہ کچھ عناصر نے ملک کے نظام پر حملہ کرنے کے لیے احتجاج کو پٹڑی سے اتار دیا۔ بہت سے مغربی ممالک نے ان کارروائیوں میں بلوائیوں اور فسادیوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے جنہیں تہران تشدد اور نفرت کو "بھڑکانے” کے اقدامات قرار دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے، امریکا

واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ …