بدھ , 7 دسمبر 2022

ایرانی طیاروں کے مقابلے میں امریکی اور صہیونی کمانڈروں کی 15 سالہ ناکامی پر ایک نظر

(ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی)

حالیہ ہفتوں میں روس کی طرف سے یوکرین کے مختلف علاقوں میں ایرانی ڈرون طیاروں کے حملوں اور مؤثر کردار، اور اس کے نتائج، کے سلسلے میں مختلف قسم کے جائزے سامنے آئے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعؤوں کی تردید کی جس کی وجہ سے امریکی اور یورپی حکام کے لئے اس تشہیری مہم سے فائدہ اٹھانے کا امکان سلب ہوجاتا ہے لیکن ان خبروں اور جائزوں کا ایک فائدہ بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ ایرانی جنگی ہتھیاروں کی اعلی کیفیت اور ممتاز خصوصیات سے خوفزدہ ہیں؛ جبکہ مغربی حکام اور ذرائع ابلاغ اس سے قبل ان ہتھیاروں کو غیر مفید اور مناسب ٹیکنالوجی سے عاری، قرار دینے کے لئے کوشاں تھے۔

اور ہاں، تو مغربی ذرائع کے دعؤوں کے مطابق – روس کی طرف سے یوکرین پر حملہ کرنے والے مبینہ ایرانی ڈرون طیاروں – کا مقابلہ کرنے کے لئے، امریکی اور اسرائیلی ماہرین کے یوکرین پہنچنے کے بارے میں بھی کافی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

یوکرین کی جنگ اس وقت تک – ذرائع ابلاغ کی نظر میں – دو مرحلوں میں تقسیم ہوتی ہے: ایرانی ڈرونز کے آنے سے پہلا کا مرحلہ اور ایرانی ڈرونز کے آنے کے بعد کا مرحلہ، اور امریکی اور یورپی ذرائع اس مسئلے پر مرکوز ہیں کہ یہ شاہد – 136 قسم کے ایرانی ڈرونز ہیں؛ اور انھوں نے اس کا نام "گُلِ شمعدانی (Geranium)” رکھا ہے، (جو ظاہرا ایک روسی ڈرون کا نام ہے)۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے پانچ سال قبل، سنہ 2017ع‍ کے آغاز میں، ایران کے جنوبی پانیوں میں ایرانی طیاروں کی نگران پروازوں سے امریکی بحری جہازوں کے کمانڈروں کے خوف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "امریکی وزارت دفاع نے خلیج فارس میں ایرانی ڈرون طیاروں سے نمٹنے کے لئے اپنے ماہرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان بغیر پائلٹ کے طیاروں کو روکنے، شکست دینے یا ناکارہ بنانے کی روشوں پر تحقیق کریں۔

تاہم عرصہ پانچ سال گذرنے کے بعد بھی، اس تحقیق کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے! دریں اثناء لبنانی مقاومتی تحریک حزب اللہ اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خودکش ڈرون (Kamikaze drone) سے ناجائز صہیونی ریاست کا خوف ایسا مسئلہ ہے جو عرصہ دراز سے ذرائع ابلاغ میں زیر بحث ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں بہت سے مغربی – حتی کہ مشرقی – ذرائع ابلاغ کے خیال میں امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہاز امریکی کی شکست ناپذیری اور طاقت کا مظہر ہیں اور شاید بعض جہتوں سے یہ ذرائع ابلاغ حق بجانب بھی تھے؛ کیونکہ یہ ایٹمی طیارہ بردار جہاز 15 سے 20 تک جہازوں اور آبدوزوں کے ہمراہ عالمی سمندروں میں موجود ہیں۔ امریکی بحریہ کا ایجس راڈار سسٹم (Aegis integrated missile guidance system) اور متعلقہ طیارہ شکن میزائلوں، جن میں سے بعض سیارچوں کو بھی مار گرا سکتے ہیں، نیزہ طیارہ بردار جہاز پر تعینات لڑاکا بمبار طیاروں، اڑتے ہوئے راڈاروں، سونار (صوتی نیویگیشن اور رینج) (Sonar) اور جہاز شکن اور سمندر سے زمین پر سینکڑوں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس آبدوزوں کے ہوتے ہوئے ناقابل شکست نظر آتے ہیں۔ لیکن جن اقوام اور افواج نے اس طاقتور ظاہری شکل و صورت کے دھوکے نہ آکر نہیں اس بظاہر نفوذناپذیر (impenetrable) دیوار میں نفوذ پذیری کے راستے ڈھونڈ لئے، تو انھوں نے ایسے کارنامے رقم کئے جن کی وجہ سے امریکی طیارہ بردار اور عام جنگی بہری جہازوں اور آبدوزوں کا رعب اور تسلط توڑ کر رکھ دیا اور یوں یہ امریکی قوت جو عشروں سے دنیا کے پانیوں میں جولانیاں دے رہی تھی، ٹوٹ گئی۔

باوجود اس کے، کہ 2000ع‍ کی دہائی کے آغاز میں ایران پر امریکی اور صہیونی افواج کے حملے کی بحث بہت گرم تھی، اور وہ اس نفسیاتی جنگ کے ذریعے سے دباؤ ڈال کر جوہری مذاکرات اور دوسرے مسائل – جن سے انہیں اپنے مقاصد کے حصول کی توقع تھی – میں ایران سے رعایتیں لینا چاہتے تھے، لیکن ایران نے غیر متوقعہ طور پر نفسیاتی اور عسکری کاروائی کا اہم ورق کو مذاکرات کی میز پر رکھ دیا؛ اور وہ ایران کے جنوبی پانیوں میں امریکی جہازوں کی دیکھ بھال اور ان کی طرف سے کسی بھی کاروائی پر جوابی کاروائی کے لئے بغیر پائلٹ کے ہوائی جہازوں (ڈرونز) کی نئی نسل کی آمد تھی۔ سب سے پہلے منظر عام پر آنے والی تصاویر بتاتی ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے – آبنائے ہرمز سے گذر کر خلیج فارس میں داخل ہونے والے – امریکی بحرے بیڑے کی نقل و حرکت کی نگرانی کی کامیابی کاروائی کی ہے۔ امریکی بیڑے کی یہ نقل و حرکت مورخہ 29 اپریل اور مورخہ 2 اپریل 2007ع‍ کو انجام پائی تھی۔

امریکی بیڑے میں آئزنہاور طیارہ بردار جہاز سمیت متعدد جنگی اور نگرانی جہازوں پر مشتمل تھا جو اس دور میں بکثرت اس علاقے میں آتا تھا اور خلیج فارس، خلیج عمان، بحیرہ عرب اور شمالی بحر ہند میں مسلسل موجودگی کے ذریعے، طاقت کا مظاہرہ بھی کرتا تھا، ایرانی حکام پر دباؤ بھی بڑھاتا تھا اور عرب حکام کو بھی یقین دلاتا تھا کہ ان کے ہاتھوں اربوں ڈالر کے اسلحے کی خریداری بے فائدہ نہیں ہے! اور اس بیڑے سمیت امریکی فوج ان کو دفاعی، حتی کہ جارحانہ سہولت فراہم کرے گی! گوکہ حالیہ برسوں میں یمنی افواج اور رضاکار مجاہدین کی جوابی کاروائیوں اور افغانستان سے ذلت آمیز فرار نے امریکیوں کی شیخیوں کی حقیقت کھول دی ہے اور اب ان کے عرب اتحادی بھی ان پر اعتماد نہیں کر رہے ہیں اور یوکرین کے معاملے میں بھی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بھی، روس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

واضح رہے نگرانی کے مذکورہ مشن میں ایران کا ایک "ابابیل – 3 ڈرون” نے – جدید ترین فضائی-میزائل دفاع کے نظامات، یو ایس ایس آئزنہاور طیارہ بردار جہاز پر موجود درجنوں طیاروں کی موجودگی میں، – امریکی بیڑے کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اچھی خاصی معلومات آنلائن فراہم کردیں اور صحیح و سالم اپنے اڈے کی طرف پلٹ آیا۔ ابابیل – 3 کی فی گھنٹہ رفتار 200 کلومیٹر ہے، چار گھنٹے مسلسل اڑان کی صلاحیت رکھتا ہے اور 100 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کی حد پرواز 5000 میٹر (پانچ ہزار کلومیٹر) ہے اور دن اور رات کو تصویریں لینے اور متعلقہ اہداف کے فلمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ واقعہ حالیہ عشروں میں پہلی بار سرکاری طور پر ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر منظر عام پر آیا جس کے بعد امریکی حکمرانوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور علاقے میں تعینات امریکی کمانڈروں کو وضاحت کے لئے قانون ساز اداروں میں بلوایا گیا۔ البتہ دوسری طرف سے کچھ امریکی ذرائع نے اس مسئلے کی اہمیت کم کرنے کے لئے دعوی کیا کہ [گویا کہ] امریکی جہاز ایرانی ڈرون طیاروں کی موجودگی سے مطلع ہو چکے تھے لیکن چونکہ وہ مطمئن تھے کہ ان کی طرف سے کوئی خطرہ انہیں لاحق نہیں ہوگا، چنانچہ انھوں نے ان کو تباہ نہیں کیا تھا!!

البتہ بعد کے برسوں میں ثابت ہؤا کہ یہ صرف ایک ڈھونگ تھا، اور وہ یوں کہ بعد کے برسوں میں – جب فریقین کے درمیان فوجی تناؤ میں 2007ع‍ کی نسبت کمی آئی تھی – مختلف کے امریکی لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر، سپاہ پاسداران کے ڈرونز کی نگرانی اور ان کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے لئے اپنے جنگی جہازوں پر پرواز کرتے تھے، لیکن ان کی تمام تر کوششیں رایگاں گئیں؛ اور وہ ڈرونز کے مشن میں کوئی خلل ڈالنے میں ناکام ہوتے رہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے بعد کے برسوں میں بھی دور افتادہ سمندروں میں بھی اسی طرح کے مشن پایہ تکمیل تک پہنچائے اور 2010ع‍ اور 2011ع‍ میں امریکہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور نئے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج بش کے اوپر بھی معلوماتی پروازوں کا اہتمام کیا۔ ایرانی ڈرونز کی متواتر معلوماتی پروازں، ایران کی مسلح افواج کی دوٹوک تنبیہات کی بنا پر <دیکھ کر بھی> ان بغیر پائلٹ کے طیاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی سے امریکی کمانڈروں کے خوف، کی وجہ سے، اس دفعہ امریکی ذرائع نے کچھ مختلف لب و لہجے میں اعلان کیا کہ "دشمن کا کوئی بھی اقدام امریکی فضائی برتری کو متاثر نہیں کرسکتا!!!”۔

ایران کی دفاعی صنعت اور سپاہ پاسداران کے ایرو اسپیس شعبے میں میں نت نئے ڈرون طیارے تیار ہوتے رہے، موجود طیاروں کو اپ گریڈ کیا جاتا رہا اور یوں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں غیر ملکی بحری بیڑوں کی نگرانی میں بھی اضافہ ہؤا اور ایران کے ہدہد اجنبی قوتوں کے لئے ہر روز کا ڈراؤنا خواب بن گئے۔ اس سلسلے کی مشہور ترین کاروائی کچھ یوں تھی کہ شہر مشہد مقدس میں سپاہ پاسداران کے کمانڈروں کا اجلاس ہو رہا تھا اور کچھ ڈرون طیارے خلیج فارس کی طرف پرواز کر گئے اور آبنائے ہرمز سے گذرنے والے امریکی بیڑے کی نقل و حرکت کو براہ راست مذکورہ اجلاس میں دکھایا گیا۔

دسمبر 2011ع‍ میں، کچھ امریکی ذرائع کی رپورٹوں اور بعض امریکی حکام نے نے دعوی کیا کہ "امریکی افواج مغربی ایشیا، خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے پانیوں اور فضاؤں پر مکمل طور پر حاوی ہے؛ تو ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے سنہ 2010ع‍ اور 2011ع‍ کے دوران، خلیج فارس اور بحیرہ عمان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دور افتادہ سمندروں میں ایسی تصویریں دکھائیں جن سے دکھایا گیا تھا کہ ایرانی ڈرون طیارے یو ایس ایس ابراہام لنکن اور یو ایس ایس لنکن کے اوپر پرواز کر رہے ہیں اور ان کی تصویریں اور ویڈیوز آنلائن بھیج رہے ہیں۔

یہ سلسلہ 2000ع‍ کی دہائی میں جاری رہا لیکن چونکہ اس زمانے میں امریکی کمانڈروں کا رویہ معقول ہو چکا تھا چنانچہ مشنز کی تصاویر اور ویڈیو دکھانے کی کم ہی ضرورت پڑتی تھی۔

ستمبر سنہ 2016ع‍ میں سپاہ پاسدران نے سمندری گشت کا ایک ہاربن وائی – 12 طیارہ نے خطے سے گذرنے والے امریکی بیڑے کی نگرانی کا مشن سر کر لیا اور معلوم ہؤا کہ صرف ڈرون ہی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کے عام طیارے بھی امریکی جہازوں کے ساتھ حال احوال کرنے آتے ہیں!

واضح رہے کہ ہاربن وائی – 12 (Harbin Y-12) کثیر المقاصد ہائی ونگ (High-wing) طیارہ ہے جو اسی نام کی کمپنی میں تیار ہؤا ہے، اور کئی شکل اور ماڈلوں میں دستیاب ہے۔

بعدازاں سال 2017ع‍ کے وسط میں سی این این نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ دی کہ ایک ایرانی ڈرون طیارہ خلیج فارس میں نمٹز کلاس (Nimitz-class) طیارہ بردار جہاز کے بہت قریب سے گذرا ہے۔ امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ ڈرون مذکورہ جہاز سے صرف 40 میٹر اور جہاز پر اترتے ہوئے ایف 18 طیارے سے محض 33 میٹر کے فاصلے پر تھا۔ قدامت پسند امریکی دھڑے کے زیر اثر فاکس نیوز ٹیلی وژن چینل نے بھی سنہ 2019 کے اوائل میں – سپاہ پاسداران کے ڈرون طیاروں کی طرف سے امریکی بحری بیڑے کی نگرانی کی ویڈیو جاری کرنے کے چند ہی روز بعد – ایک رپورٹ بعنوان "ایک ڈرون طیارہ کس طرح ایک امریکی طیارہ بردار طیارے ‘جس پر امریکی طاقت کا نشان ثبت ہؤا ہے’ کے قریب پہنچتا ہے”، کے ضمن میں اس طرح کے اقدامات کی اہمیت کا اعتراف کیا”۔

امریکیوں نے ایک بار پھر دھونس دھمکیوں اور شیخیوں کا سلسلہ ایک بار شروع کیا تو سنہ 2020ع‍ کے اوائل میں سپاہ پاسداران کی بحریہ کے ڈرون طیاروں نے خلیج فارس میں داخلے کے لمحے سے ہی نمٹز طیارہ بردار جہاز اور متعلقہ بحری بیڑے کی نقل و حرکت کی نگرانی کا مشن – آبنائے ہرمز سے گذرنے کے لمحے سے لے کر آخر تک – مکمل کر لیا۔ یہ مشن سپاہ کے مقامی ساختہ ڈرون طیاروں کو سونپا گیا جو اسی سال تیار ہوکر سپاہ پاسداران کی بحریہ میں شامل کر لئے گئے تھے۔

یہاں سپاہ پاسداران کے ڈرونز کے ذریعے نمٹز کلاس طیارہ بردار جہاز کی لی ہوئی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں:

گذشتہ سال اپریل (2021ع‍) میں بھی پریس ٹی وی نیوز چینل نے رپورٹ دی کہ ایرانی ڈرون طیاروں نے خلیج فارس میں تعینات امریکی طیارہ بردار جہاز کی نئی اور بہت واضح تصاویر حاصل کی ہیں۔ یہ ویڈیو چار ڈرون طیاروں کے دستے نے ریکارڈ کی ہے جس میں امریکی جہاز پر موجود جنگی ساز و سامان اور جہآز کے عرشے پر موجود طیاروں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں طیارہ بردار جہاز کے علاوہ ایک دوسرے امریکی جہاز کی تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔

یاد رہے کہ دہشت گرد امریکی فوجی ادارے سینٹکام (CENTCOM) کے کمانڈر کینیتھ میک کینزی (Kenneth F. McKenzie) سمیت اعلی امریکی فوجی کمانڈروں نے بارہا ایرانی ڈرون طیاروں کی طاقت اور امریکی فضائی برتری کے ہاتھ سے چلے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ میک کینزی نے امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے مسلح افواج کو ایک تحریری رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "ایران کی طرف سے حملوں اور ریکی کی غرض سے، چھوٹے اور اوسط اندازے کے ڈرون طیاروں کے وسیع پیمانے پر استعمال کے نتیجے میں، جنگ کوریا کے بعد پہلی بار، امریکی افواج کو فضائی بالادستی کے بغیر کاروائیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ نیز 2008ع‍ میں اس وقت کے چوتھے آبی-خاکی اسکواڈرن کمانڈر جیک کلمین (Jack Killman) نے بھی ایران اپنے زیر کمان فوجی دستوں پر ایرانی مسلح افواج کی مسلسل اور بلا ناغہ نگرانی کی طرف از روئے طعنہ کہا تھا "جب سے ہم خیلج فارس میں داخل ہوئے ہیں، ایرانی ڈرون طیاروں کے مسلسل خیرمقدم سے بہرہ ور ہو رہے ہیں، اور ہمیں البتہ حیرت نہیں ہوئی”۔

امریکی بحری بیڑوں اور جہآزوں کے اوپر ایرانی ڈرون طیاروں کی مسلسل پرواز نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے بڑی حصولیابیوں کا سبب بنی ہوئی ہے، بلکہ اس نے چینی فوج جیسی افواج کو بھی یہ ہمت اور خوداعتمادی دی ہے کہ وہ امریکی بیڑوں کی معلومات حاصل کریں اور ان کی نگرانی کریں۔ امریکی اور برطانوی ذرائع نے امریکی بحریہ کی دستاویزات حال ہی میں شائع کی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق، گذشتہ پانچ سال کے عرصے میں چینی ڈرون طیاروں نے دسوں مرتبہ امریکی بحری جہازوں کی تصویریں اتاری ہیں۔

China has bombarded US warships with drones at least 151 times over last five years: One LANDED on deck of destroyer near Hong Kong, Chinese national was arrested in pearl harbor flying one over fleet – and drones of unknown origin snooped nuclear stockpile

* The US Navy recorded at least 151 incidents of suspected drone surveillance of its Pacific fleet over the last five years

* New reports of 35 incidents show that one destroyer-class Wessel in San Diego was plagued by drones suspected of taking pictures for weeks.

* Another described how a drone managed to land on the deck of a ship in Hong Kong, with three other incidents occurring in the chines port

* The Navy also documented the arrest of Chinese national in Pearl Harbor flying over a drone over a US battleship

* A surveillance incident was reported as well in two neighboring Washington bases where some of the most powerful nukes in the nation are stored

ان اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2017ع‍ سے اب تک چینی ڈرون طیاروں نے 151 مرتبہ امریکی بحری جہازوں اور طیارہ بردار جہازوں کی نگرانی کی ہے جن میں کچھ نگرانیاں سنجیدہ خطرات کا باعث بھی ہوئی ہیں، اس عرصے میں چینی ڈرونز نے امریکی بیڑوں پر بمباری بھی کی ہے، ہانگ کانگ کے پانیوں میں ایک چینی ڈرون امریکی بحری جہاز کے عرشے پر اترا ہے، پرل ہاربر میں ایک چینی ڈرون آپریٹر کو گرفتار کیا گیا ہے جو ڈرون کے ذریعے ایک جنگی بحری جہاز کی نگرانی کر رہا تھا، اور کچھ ڈرون طیاروں واشنگٹن کے نواح میں دو فوجی اڈوں کو کی جاسوسی کی ہے جن میں سے ایک میں دو بہت طاقتور ایٹم بموں کی نگہداشت ہو رہی ہے۔

چینی ڈرون امریکی جنگی بحری جہازوں کی نگرانی پر – البتہ چینی ڈرون اور امریکی بیڑے کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے جبکہ ایرانی ڈرونز کا فاصلہ امریکی بیڑے سے بہت ہی کم ہوتا ہے

متذکرہ بالا رپورٹوں میں کہا کیا ہے کہ مجموعی طور پر ان میں سے 35 رپورٹوں کا تعلق سنہ 2017ع‍ سے تھا اور امریکی بحریہ نے 116 دوسری رپورٹوں کی تفصیلات کو اس لئے صیغہ راز میں رکھا ہے کہ وہ خفیہ معلومات پر مشتمل تھیں۔ ان رپورٹوں کا اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی کمانڈروں نے علی الاعلان کہا ہے کہ "ڈرون طیاروں کا آمنا سامنا اب معمول کا مسئلہ بن گیا ہے، امریکہ کے دشمن ان پروازوں کے ذریعے ہماری جاسوسی کرتے ہیں، ہماری نگرانی کرتے ہیں اور امریکی فوجیوں کو ہراساں کرتے ہیں <نیز یہ کہ> وہ ڈرونز کو ہماری سیکورٹی نظامات کی گمراہی کے لئے یا پھر امریکی ہتھیاروں کے بارے میں تحقیق کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں”۔

مذکورہ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں ایرانی ڈرون طیاروں کے روس کے ہاتھوں میں استعمال کے امریکی اور یورپی دعؤں سے بھی زیادہ اہم اور نمایاں مسئلہ – جو مغرب کے دعؤوں میں ہرگز نہیں دکھائی دیتا – یہ ہے مؤثر ہتھیار بنانا صرف مغربی ممالک اور روس تک محدود تھا اور دوسرے – بالخصوص اسلامی ممالک – کے لئے یہ ایک شجرہ ممنوعہ اور ایک ناقابل حصول یا حرام فعل تھا، ایک طِلِسْم تھا ان طِلِسْمات میں سے، جو عشروں سے مغربی ساختہ ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کی فنی اور عسکری کیفیت کے سلسلے میں، مغربی ذرائع اور سرکاری حلقوں، نیز ماہرانہ امور کے رسالوں میں اچھالے جاتے رہے تھے، اور دنیا کو باور کرا رہے تھے کہ کوئی بھی اس دنیا میں ان کا ہم پلہ نہیں ہے، اور ہتھیار خریدنا ہو تو مغرب سے رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے؛ تاکہ سب کو ان کے جنگی اور عسکری وسائل کی خریداری کی طرف راغب کرایا جا سکے یا حتی کہ انہیں گڑگڑانے پر مجبور کیا جا سکے، اور اب یہ ان کے لئے بہت اہم مسئلہ ہے کہ ایک نیا رقیب میدان میں آیا ہے سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیس، جس کے مقامی ساختہ ہتھیار مغربی ہتھیاروں سے لیس ممالک کی شکست کا باعث بن سکتے ہیں اور وہ ملک اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو اسلامی انقلاب کی برکت سے ہر حوالے سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت رکھتا ہے اور نہ صرف ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ ان کی عسکری طاقت کو چیلنج کر سکتا ہے، وہ بھی ایسے حال میں کہ یہ ملک گذشتہ 45 برسوں سے ان کی طرف کی ظالمانہ پابندیوں، جنگوں، بغاوتوں اور بلؤوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایرانی ساختہ عسکری وسائل نے آج مغرب کی تخلیق کردہ ذہنیت کو بدل کر رکھ دیا ہے، اور ثابت کردیا ہے کہ ان کی پابندیوں کے باوجود آزاد اور خود مختار رہا جا سکتا ہے، اور ان کی طاقت کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اگر کل تک پیٹریاٹ سمیت تمام مغربی فضائی-میزائل دفاعی نظامات یمن کے ڈرون طیاروں کے مقابلے میں متعدد بار شکست کھا کر خریداروں اور فوجی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی نظروں سے گر چکے ہیں، تو اب مغرب اور اس کا فوجی اڈہ (یعنی جعلی یہودی صہیونی ریاست اسرائیل) خوفزدہ ہے کہ ایران کے جدید ترین ڈرون اور میزائل کہیں مغرب کے لکھے افسانے کو باطل نہ کر دے کہ: مغربی ہتھیاروں کے بغیر کسی جنگ میں بھی کامیابی ممکن نہیں ہے! اور یہ طلسم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذہنوں سے مٹ نہ جائے۔

واضح رہے کہ روس دنیا کا دوسرا بڑا ہتھیار بنانے والا ملک اور عسکری لحاظ سے بھی دنیا کی دوسری بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے، اور اب وہ مبینہ طور پر ایرانی ہتھیار خرید رہا ہے اور وہ ایرانی ہتھیاروں کے ذریعے پوری مغربی طاقتوں کے ہتھیاروں سے لیس ملک یوکرین کو شکست دے رہا ہے اور یوں ایرانی ڈرون یورپ کی جنگ میں گیم چینجر (Game Changer) کا کردار ادا کر رہے ہیں!

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین میں روز بروز شدید ہوتی مسلح اسلامی مزاحمت

(تحریر: حسین فاطمی) گذشتہ ہفتے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب واقع قصبے حوارہ …