بدھ , 7 دسمبر 2022

لانگ مارچ اور ناراض ہوتے حکومتی اتحادی

(رپورٹ: سید عدیل زیدی)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گذشتہ روز لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، آج حکومت نے پی ٹی آئی سربراہ کو مذاکرات کی باقاعدہ پیشکش کرتے ہوئے باقاعدہ کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، تاہم فی الوقت تحریک انصاف کی نظریں اسلام آباد کی طرف ہی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں موجود سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اب مسئلہ آئندہ الیکشن کی تاریخ دیئے جانے کے بغیر حل ہونے والا نہیں۔ ایک جانب شہباز حکومت کو عمران خان نے پریشان کر رکھا ہے تو دوسری طرف اتحادی بھی حکومت سے نالاں دکھائی دے رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور کسی حد تک متحدہ قومی موومنٹ کو چند معاملات پر حکومت سے تحفظات ہیں، جن کا مذکورہ حکومتی اتحادی جماعتوں نے برملا اظہار بھی کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں یقینی طور پر شہباز شریف اینڈ کمپنی خود کو خاصے دباو میں محسوس کر رہی ہے۔

حکومتی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے عمران خان کے جلد الیکشن کرانے کے مطالبے کی ’’کسی دوسری طرز‘‘ میں حمایت کرتے ہوئے حکومت سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر اور اسفند یار ولی کے فرزند ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ہم موجودہ حکومت کی تحلیل اور فوری انتخابات کیلئے تیار ہیں، ہمیں عمران خان کے فوری انتخابات کے مطالبے سے کوئی مسئلہ نہیں، ہم ہر وقت انتخابات کیلئے تیار ہیں، صاف و شفاف انتخابات سے حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اول روز سے ان اسمبلیوں کو جعلی سمجھتے ہیں، ہم نے حلف لینے کی بھی مخالفت کی تھی، ان اسمبلیوں کو نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان بھی جعلی قرار دے چکے ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ ایمل ولی خان نے قومی اسمبلی کے حالیہ ضمنی انتخاب میں چارسدہ کی سیٹ سے الیکشن لڑا تھا، جہاں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے انہیں شکست دی تھی۔

اس کے علاوہ دوسری حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے اپنے فیصلہ پر نادم نظر آتی ہے۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومت کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھی، آج بھی یہی موقف ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے سے ہمیں نقصان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اپنے ارکان ناراض نہ ہوتے تو تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوتی، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرکے گلے شکوے کئے ہیں، موجودہ حکومت بھی ہمارے مسائل کے حل میں بے بس نظر آرہی ہے۔ کسی بھی حکومت کے لئے بلوچستان کی کوئی اہمیت نہیں، مگر جب ووٹوں کی ضرورت ہو تو بلوچستان یاد آتا ہے۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، یہ درست نہیں۔ کل کوئی اور پچھتا رہا تھا، آج عمران خان پچھتا رہے ہیں، ایسا نہ ہو کل ہم پچھتائیں۔

گوکہ کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ لگا دیا گیا ہے، تاہم حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سندھ کے معاملات پر ایک مرتبہ پھر اتحادی حکومت سے الگ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کو سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت سے شدید اختلافات ہیں، وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے چند روز قبل ملاقات کی، اس ملاقات کے دوران ایم کیو ایم نے وفاق سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کا وزیراعظم سے شکوہ کیا۔ ملاقات کے دوران وفد ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہمارے عوامی مطالبے پر عملدرآمد نہ ہونے سے جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، حکومت میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں۔ ایم کیو ایم کے وفد کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتے تو حکومت میں شامل نہیں رہیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمان کو بھی بعض معاملات پر شہباز شریف حکومت سے اختلاف ہے، تاہم یہ اختلافات فی الوقت اس نوعیت کے نہیں کہ حکومت سے علیحدگی کی دھمکیاں دی جائیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جس طرح عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے موقع پر چھوٹی پارلیمانی جماعتوں کو اہم کردار ادا کیا تھا، اگر عمران خان لانگ مارچ کی صورت میں حکومت پر دباو بڑھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ یہی چھوٹی حکومتی اتحادی جماعتیں ہی معاملات کو قبل از وقت انتخابات کی جانب لے جائیں، تاہم شہباز اینڈ کمپنی کی یہ کوشش ہے کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں، کیونکہ معاشی مسائل اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کسی حد تک کنٹرول کئے بغیر نون لیگ نئے انتخابات کی طرف کسی صورت نہیں جانا چاہتی۔ تاہم آنے والا ہفتہ ملک کے سیاسی مستقبل کا کسی نہ کسی صورت فیصلہ کرسکتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین میں روز بروز شدید ہوتی مسلح اسلامی مزاحمت

(تحریر: حسین فاطمی) گذشتہ ہفتے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب واقع قصبے حوارہ …