ہفتہ , 10 دسمبر 2022

وکی لیکس نے سعودی عرب میں اصلاحات کو نمائشی قرار دے دیا

انسانی حقوق کی یورپی سعودی تنظیم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلاجواز گرفتاریوں سے لیکر انسانی حقوق کے کارکنوں کو دی جانے والی طویل المدت سزاؤں، غیر منصفانہ پھانسیوں، جبری بے دخلی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاون سمیت بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ حالیہ تبدیلیوں کو مثبت اور حتی اصلاحات کا نام دیا جانا درست نہیں ہے۔

وکی لیکس کے جاری کردہ ایک بیان بھی میں آیا ہے کہ آل سعود حکومت اصلاح کی دعویدار ہے لیکن یہ وہی حکومت ہے جو لوگوں کو اظہار رائے کی وجہ سے گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیتی ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سعودی حکومت پچھلے پانچ برس سے جن اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اس میں سرقلم کیے جانے کے احکامات میں دوگنا اضافہ شامل ہے اور سزائے موت کے ایک ہزار سے زائد احکامات کم عمر کے بچوں کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر ریما بت بندر بن آل سعود نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ان کے ملک میں بقول ان کے حقیقی اصلاحات کی جارہی ہیں۔

انھوں نے دعوی کیا کہ پچھلے پانچ سال کے دوران انجام پانے والی اصلاحات پچھلے اسی سال میں دکھائی نہیں دیتیں۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ آج کا سعودی عرب بقول ان کے پانچ سال پہلے والا سعودی عرب نہیں ہے۔

وکی لیکس نےان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی سفیر کے انٹرویو میں اس حقیقت کی جانب کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی نمایاں شخصیات اس وقت جیلوں میں بند ہیں، انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں طرح طرح ایذائی دی جاتی ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی اصطلاح انتہائی مبہم اور غیر مانوس ہے۔ سعودی شہری، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دیے جانے اور موسیقی کے پروگراموں میں شرکت کی اجازت دیئے جانے کو ہی انسانی حقوق سمجھتے ہیں اور سعودی ولی عہد بن سلمان نے بھی یہ آزادی دے رکھی ہے حالانکہ سعودی شہری اب تک اپنے بنیادی ترین انسانی اور شہری حقوق سے بھی پوری طرح محروم ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ترک فوجی عراقی کردستان کی سرحدی پٹی پر کیوں تعینات ہوئے؟

بغداد:عراق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فوجی، عراقی کردستان کے ساتھ ملنے والی سرحدی …