منگل , 29 نومبر 2022

افغانستان اور بھارت میں معاہدے کے بعد فضائی راہداری بحال

کابل:افغانستان اور بھارت کے مابین ایک معاہدے کے تحت فضائی راہداری کو بحال کردیا گیا۔طالبان کی وزارت صنعت و تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد کے مطابق اس راستے سے کچھ سامان بھارت پہنچا ہے، ان کی حکومت بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

عبدالسلام جواد نے کہا حال ہی میں بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا جس کے مطابق ہم فضائی راہداری کے ذریعے کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں، بھارت کے ساتھ ہمارا کاروبار جاری رہے گا اور ہم گزشتہ سال کے مقابلے اس سال بھارت کو تجارتی اشیاء کی برآمدات میں اضافہ کریں گے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے 30 ہزار ٹن دست کاری کا سامان انڈیا بھیجا گیا ہے، 2020 میں افغانستان نے انڈیا کو 499 ملین ڈالر کی برآمدات کیں۔ افغانستان نے انڈیا کو جو اہم مصنوعات برآمد کیں ان میں ٹراپکل فروٹ (132 ملین ڈالر)، ریزن (111 ملین ڈالر) اور انگور (96.9 ملین ڈالر) شامل ہیں۔

افغان حکام کے مطابق گذشتہ 25 سالوں کے دوران افغانستان کی انڈیا کو برآمدات میں 18.1 فیصد کی سالانہ شرح سے اضافہ ہوا ہے، جو 1995 میں 7.87 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2020 میں 499 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر تجارت نورالدین عزیزی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ وسیع معاہدے کرنا افغانستان کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر روس اور قازقستان کو گندم کی پیداوار میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم متبادل کے طور پر انڈیا کے ساتھ گندم کی خریداری کا معاہدہ کرنا چاہیں گے اور کینیڈا کے ساتھ بھی معاہدہ کرنا چاہیں گے۔

حالیہ برسوں میں کابل اور نئی دہلی کے درمیان سالانہ تجارت ڈیڑھ ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی لیکن رپورٹس کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ سطح کم ہو کر 24 ملین ڈالر رہ گئی ہے، کچھ عرصہ قبل طالبان حکومت نے فضائی راہداری کے ذریعے چین کو 20 ٹن ایندھن برآمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں طالبان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار شیر محمد عباس ستانکزئی نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو جاری رکھے اور فضائی راہداری کو تجارت کے لیے کھلا رکھے۔

اس کے علاوہ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور افغانستان کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اور ہم ان تعلقات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خارکیف میں تین سو غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت:ایگور کوناشنکوف

روس نے خارکیف میں تین سو غیر یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔میڈیا …