ہفتہ , 10 دسمبر 2022

کیا امریکہ شی جن پنگ کی دنیا میں رہ سکتا ہے؟

(جان سڈورتھ)

شی جن پنگ کئی دہائیوں بعد سب سے طاقتور چینی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں کیونکہ ان سے قبل ان کی پیشروؤں کی حکومت میں صرف دو مدت تک رہنے کی روایت ٹوٹ چکی ہے اور ان کے پاس قیادت کے لیے تیسری مدت ہے۔

انھوں نے چین پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور شاید ان کی حکومت اب غیر معینہ مدت تک ہے لیکن اگرچہ ملکی سطح پر شی جن پنگ کی گرفت مضبوط ہوئی ہے، بین الاقوامی سطح پر صورتحال زیادہ غیر مستحکم نظر آئی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما نے جتنا زیادہ چین کے آمرانہ ماڈل کو تقویت دی ہے، اتنا ہی انھوں نے عالمگیریت کے ہمارے دور کے ایک واضح مفروضے کو چیلنج کیا ہے کہ جیسے جیسے چین امیر ہوتا جائے گا، آزاد ہوتا جائے گا۔

اس مفروضے نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کئی دہائیوں کی تجارت اور میل جول کو آگے بڑھایا۔

یہ ایک اقتصادی شراکت داری کی بنیاد تھی جس کے نتیجے میں ہر سال نصف کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کا سامان بحر الکاہل سے گزرتا رہا ہے۔اب جیسے ہی شی اپنی تیسری مدت کا آغاز کر رہے ہیں، انھیں امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کا سامنا ہے۔

بیجنگ کا استدلال ہے کہ تعلقات میں نمایاں حالیہ سرد مہری امریکہ کی عالمی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کی خواہش کی وجہ سے ہے۔

صدر جو بائیڈن کی نئی جاری کردہ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بیجنگ کو موجودہ عالمی نظام کے لیے ماسکو سے بھی بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے اور واشنگٹن نے تائیوان پر چینی حملے کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے جو کہ دور دراز کے امکان کے بجائے ایک حقیقت پسندانہ امکان ہے۔

یہ ان دنوں کی بات سے بہت دور کی بات ہے جب امریکی اور چینی رہنما یہ اعلان کرتے تھے کہ باہمی ترقی ایک سپر پاور اور ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے درمیان نظریاتی اختلافات اور تناؤ کو بالآخر مات دے گی۔

یہ کوئی کم ستم ظریفی نہیں کہ یہ وہ صدر جو بائیڈن ہیں جو روز بروز چین کے ساتھ ایک مخالف کے طور پر سلوک کر رہے ہیں۔

1990 کی دہائی کے آخر میں جب بائیڈن امریکی سینیٹ کے رکن تھے تو وہ چین کو عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں خوش آمدید کہنے کی کوششوں کے کلیدی معمار تھے۔

انھوں نے سنہ 2000 میں شنگھائی کے دورے پر صحافیوں سے کہا تھا کہ ’چین ہمارا دشمن نہیں۔‘

یہ بیان اس یقین پر مبنی تھا کہ تجارت میں اضافہ چین کو مشترکہ اصولوں اور عالمی اقدار کے نظام میں ڈھال دے گا، اور ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر اس کے عروج میں مدد کرے گا۔

چين کی ڈبلیو ٹی او کی رکنیت صدر جارج ڈبلیو بش کے زمانے میں ایک حقیقت بن گئی اور اس کی حمایت رچرڈ نکسن کے بعد سے ہر صدر نے کی تھی۔

کارپوریٹ امریکہ بھی چین کے لیے مزید کھلنے کے معاملے میں سخت لابنگ کر رہا تھا۔ مثال کے طور پر برٹش امریکن ٹوبیکو اپنی مصنوعات چینی صارفین کو فروخت کرنے کے خواہشمند تھے جبکہ یو ایس-چائنا بزنس کونسل سستی، حکم کی تعمیل کرنے والی لیبر فورس تک رسائی کے لیے بے چین تھا۔

ٹیکساس کے اس وقت کے گورنر مسٹر بش نے مئی 2000 میں اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران بوئنگ کے کارکنوں سے خطاب میں چین کی ڈبلیو ٹی او میں رکنیت کو شاید بہترین انداز میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ’تجارت کا معاملہ صرف تجارت نہیں بلکہ اعتماد کا معاملہ ہے۔ معاشی آزادی سے آزادی کی عادت پیدا ہوتی ہے اور آزادی کی عادتیں جمہوریت کی توقعات پیدا کرتی ہیں۔‘

تھوڑی دیر کے لیے چین کی بڑھتی ہوئی خوشحالی واقعتاً محدود پیمانے پر ہی سہی سیاسی اصلاحات کے امکانات کو بڑھاتی نظر آئی۔

ڈبلیو ٹی او کی رکنیت کے بعد کے برسوں میں، انٹرنیٹ نے ساری دنیا کی طرح چینی لوگوں کو بحث اور اختلاف کا موقع فراہم کیا جس کا پہلے گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

سنہ 2012 میں جب مسٹر شی نے پارٹی کے جنرل سکریٹری کے طور پر اپنی پہلی مدت کا آغاز کیا تو بھی بین الاقوامی میڈیا کوریج اکثر فلک بوس عمارتوں، ثقافتی تبادلوں اور نئے متوسط طبقے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ یہ اس بات کے شواہد ہیں کہ چین بنیادی طور پر بہتری کی جانب تبدیل ہو رہا ہے۔

لیکن مسٹر شی کے دور حکومت کے اوائل میں ایسے بہت سے اشارے ملے تھے کہ وہ ان نئی ’آزادی کی عادات‘ کی نشاندہی گلوبلائزیشن کے خوش آئند نتیجے کے طور پر نہیں کرتے بلکہ ایک ایسی چیز کے طور پر کرتے ہیں جس کے خلاف ہر قیمت پر لڑنا ہے۔

مبینہ طور پر کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر کی طرف سے ان کی پہلی مدت کے چند ماہ بعد جاری کیے جانے والے دستاویز نمبر 9 میں سات خطرات کی فہرست دی گئی، جن سے بچنے کی بات کہی گئی تھی اور ان میں ’عالمی اقدار‘، پارٹی کے کنٹرول سے باہر ’سول سوسائٹی‘ کا تصور اور ایک آزاد میڈیا شامل تھے۔

مسٹر شی کا خیال تھا کہ سویت یونین کے خاتمے کی وجہ نظریاتی کمزوری اور سوشلسٹ لائن کو برقرار رکھنے میں ناکامی تھی۔

مشترکہ، آفاقی اقدار کا نظریہ ان کے لیے ایک ٹروجن ہارس (ٹرائے کا گھوڑا) تھا جو چینی کمیونسٹ پارٹی کو اسی راستے پر لے جائے گا۔ اس لیے ان کا جواب تیز اور غیر سمجھوتہ کرنے والا تھا جس کے تحت انھوں نے آمریت اور یک جماعتی حکمرانی کا بے شرمی سے اعادہ کیا۔

شی جن پنگ کی دوسری مدت کے دوران وکلا کو قید کرنا، اختلاف رائے کا منھ بند کرنا، ہانگ کانگ کی آزادیوں کو سلب کرنا اور اس کے مغربی علاقے سنکیانگ میں دس لاکھ سے زیادہ اویغوروں کو بڑے پیمانے پر قید کرنے جیسے اقدامت عام تھے۔

اس کے باوجود اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ مغربی حکومتوں نے تجارت کی اپنی حمایت سے دستبردار ہونے میں کوئی جلد بازی دکھائی تاکہ چین کے عروج کو فعال طور پر کم کیا جا سکے، جیسا کہ بیجنگ اب دعویٰ کر رہا ہے۔

کئی دہائیوں تک، چین کے ڈبلیو ٹی او میں داخلے نے کارپوریشنز کے لیے بہت زیادہ منافع کی پیشکش کی جنھوں نے اپنی سپلائی چین کو چینی مزدوروں کے ساتھ منسلک کیا اور چینی صارفین کو فروخت کرنے کے لیے کاروبار کے لیے ایک نیا محاذ فراہم کیا۔

سفارتخانوں میں طویل عرصے سے ایسے عملے رکھے گئے جن میں تجارتی ٹیموں کی تعداد سینکڑوں میں اب بھی موجود ہے۔

چین کے ساتھ برطانیہ کا نام نہاد ’سنہری دور‘ تجارت کے منتر کے روپ میں مسٹر شی کی پہلی مدت کے دوران شروع کیا گیا تھا اور یہ ان کی دوسری مدت تک جاری رہا۔

یہاں تک کہ اس دوران خطے میں موجود تجارتی مواقع کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تصویر کھنچانے کے موقع کے طور پر برطانیہ کے ایک چانسلر کو سنکیانگ کا سفر کرتے ہوئے دیکھا گيا حالانکہ اس وقت تک وہ انسانی حقوق کے سنگین خدشات کا مرکز بنا ہوا تھا۔

اگرچہ جمہوری ریاستوں سے آنے والے سیاست دانوں نے ہمیشہ انگیجمنٹ کے فوائد کا اعلان کیا لیکن اکثر ’بند دروازوں کے پیچھے‘ انسانی حقوق کے مسائل کو اٹھایا جاتا رہا ہے۔

اسی عرصے کے دوران صدر جو بائیڈن کے سب سے چھوٹے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے کمیونسٹ پارٹی سے منسلک چینی اداروں کے ساتھ کاروباری تعلقات استوار کیے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو آج تک ان کے گرد موجود سیاسی تنازعات کا مرکز ہے۔

دور دور تک اس بات کے بہت کم شواہد ہیں کہ امریکی یا یورپی سیاسی اشرافیہ انگیجمنٹ کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینے کے خواہشمند تھے۔

بیجنگ میں قیام کے دوران کارپوریٹ ایگزیکٹوز مجھے اکثر بتاتے تھے کہ چین کے بڑھتے ہوئے جبر کا احاطہ کرنے والی میری صحافت سے بڑھتی ہوئی خوشحالی کی بڑی تصویر کسی نہ کسی طرح چھوٹ گئی۔

یہ ایسا ہی تھا جیسے کہ سیاسی اصلاحات کے وعدوں کے تحت چینی حکام کے ذہنوں کو کھولنے کے بجائے، تجارت اور انگیجمنٹ نے بیرونی دنیا کے لوگوں کے ذہنوں کو بدل دیا تھا جنھیں بس فلک بوس عمارتیں اور تیز رفتار ریلویز ہی نظر آتی تھی۔

اس سے یہ سبق نہیں ملتا تھا کہ معاشی آزادی اور سیاسی آزادی ساتھ ساتھ چلتی ہیں بلکہ آپ کو یہ ساری دولت بغیر کسی انسانی حقوق کی پاسداری کے حاصل ہوسکتی ہے۔

چین میں بڑی سرمایہ کاری کرنے والے امریکی ملٹی نیشنل گھریلو مصنوعات کے برانڈ کے ایک سینیئر مینیجر نے مجھے بتایا کہ مغرب کے لوگوں کی طرح ’چینی لوگ آزادی نہیں چاہتے۔‘

انھوں نے اپنی فیکٹریوں میں کارکنوں سے بات کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو سیاست میں بالکل بھی دلچسپی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ پیسے کما کر ہی زیادہ خوش ہیں۔‘

ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں راستے میں ہی بہت سے تاجروں، کارپوریشنوں اور حکومتوں نے یکساں طور پر چین میں سیاسی آزادی لانے کے بلند و بالا وعدے کو چھوڑ دیا تھا۔

سب سے پہلے، عوامی رائے کی بات کرتے ہیں۔ سنہ 2018 کے بعد سے اویغور باشندوں نے سنکیانگ کے بڑے بڑے جیل نما کیمپوں سے اپنے خاندان کے افراد کے غائب ہونے کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی، اس خطرے کے باوجود کہ ایسا کرنے سے ان رشتہ داروں کو مزید نقصانات اور سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چین نے پہلے تو بین الاقوامی ردعمل پر حیرانی اور صدمے کا اظہار کیا۔

بہرحال، مغربی حکومتوں نے طویل عرصے سے تجارت اور انگیجمنٹ کو جاری رکھتے ہوئے بیجنگ کے جبر کے بہت سے پہلوؤں کو برداشت کیا تھا۔

مسٹر شی کے اقتدار سنبھالنے کے پہلے سے ہی مذہبی عقیدے کو نشانہ بنانا، اختلاف کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالنا اور ایک بچہ کی پالیسی کے وحشیانہ نفاذ سیاسی نظام کا لازمی حصہ تھے نہ کہ یہ محض ضمنی اثرات تھے۔ لیکن ایک خطے کے تمام لوگوں کی بڑے پیمانے پر صرف ان کی ثقافت اور شناخت کی بنیاد پر قید نے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور اس نے عالمی رائے عامہ پر بڑا اثر ڈالا کیونکہ یورپ اور اس سے باہر کی دنیا میں اس طرح کے معملات پر تاریخی گونج تھی۔

سنکیانگ میں سپلائی چین والی کارپوریشنوں کو صارفین کی بڑھتی ہوئی تشویش کا سامنا تھا اور حکومتیں کارروائی کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ میں آ رہی تھیں۔

اس کے علاوہ دیگر مسائل بھی تھے، جن میں تیزی کے ساتھ بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ میں اختلاف رائے کو کچلنا، بحیرہ جنوبی چین میں اس کی عسکریت پسندی اور تائیوان پر بڑھتے ہوئے خطرات شامل ہیں۔

لیکن سنکیانگ سوچوں کو بالکل واضح کر رہا تھا اور چین بھی اس بدلتی ہوئی لہر کو محسوس کر سکتا تھا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ سنکیانگ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کرنے والے بہت سے بین الاقوامی صحافیوں کو ملک سے زبردستی نکال دیا گیا، جن میں سے ایک میں بھی ہوں۔

معروف امریکی تھنک ٹینک پیو کے تازہ ترین سروے سے پتا چلتا ہے کہ 80 فیصد امریکی اب چین کے بارے میں مخالفانہ رائے رکھتے ہیں، جو کہ ایک دہائی قبل صرف 40 فیصد تھی۔ دوسرا اہم عنصر جس نے چیزوں کو تبدیل کیا، وہ ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف مسٹر شی کے مضبوط آدمی کے انداز کی کھلی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

مختصراً انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ تجارت اور انگیجمنٹ ایک برا داؤ تھا جس کے نتیجے میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا بلکہ ملازمتیں اور ٹیکنالوجی باہر چلی گئی۔

ان کے مخالفین نے ان کے پیداوار مخالف طریقوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بیان کو انھوں نے غیر ملکیوں سے نفرت والی زبان قرار دیا لیکن سچ تو یہ تھا کہ وہ سانچہ ٹوٹ چکا تھا جس پر امریکہ اور چین کا رشتہ قائم تھا۔

چین کے بارے میں مسٹر ٹرمپ نے جو تجارتی جنگ چھیڑی تھی، صدر بائیڈن اس پالیسی سے کچھ پیچھے نہیں ہٹے ہیں کیونکہ جو محصولات ٹرمپ نے لگائے تھے وہ برقرار ہیں۔

واشنگٹن کو دیر سے یہ احساس ہوا ہے کہ چین میں سیاسی اصلاحات کو تیز کرنے کے بجائے تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی نے بیجنگ کے آمرانہ ماڈل کو تقویت دینے میں مدد فراہم کی ہے۔

تائیوان کی حیثیت پر صدر بائیڈن کے حالیہ تبصروں سے زیادہ اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں کہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں کتنی زیادہ تبدیلی آئی ہے۔

گذشتہ ماہ ان سے سی بی ایس نیوز نے پوچھا تھا کہ کیا چینی حملے کی صورت میں تائیوان کے دفاع کے لیے امریکی افواج بھیجی جائیں گی۔تو انھوں نے ’ہاں‘ کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر حقیقت میں کوئی غیر معمولی حملہ ہوا تو۔‘

جنگ کی صورت میں تائیوان کی مدد کے معاملے میں واشنگٹن میں سرکاری پالیسی طویل عرصے سے دانستہ طور پر منصوبہ بند طریقے سے ابہام کی رہی ہے۔

یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر امریکہ مداخلت نہ کرنے کی بات کرتا ہے تو اس سے حملے کو گرین سگنل مل سکتا ہے۔ اور اگر وہ یہ کہتا ہے کہ وہ دفاع کرے گا تو یہ تائیوان کی خود مختار حکومت کو آزادی کے باضابطہ اعلان کے لیے حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔

بظاہر نئی ’سٹریٹجک شفافیت‘ پر بیجنگ کی جانب سے سخت تنقید آئی ہے اور وہ اسے امریکی موقف میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھتا ہے۔سینیئر امریکی حکام کی جانب سے تبصروں کو واپس لینے کی کوششوں کے باوجود اس امر سے اختلاف کرنا مشکل ہے۔

مشترکہ اصولوں اور اقدار کے بجائے چین اب متبادل کے طور پر اپنے خوشحال آمریت کا ماڈل پیش کرتا ہے۔ یہ اپنی انٹیلی جنس خدمات کے ذریعے، اور اپنے نظام کو فروغ دینے کے لیے اپنے وسیع پروپیگنڈے کے ذریعے بین الاقوامی اداروں میں سخت محنت کر رہا ہے اور یہ دلیل دے رہا ہے کہ جمہوریتیں زوال کا شکار ہیں۔

مثال کے طور پر جرمن کاروباری برادری جیسے بعض حلقوں میں تجارت اور انگیجمنٹ کے حق میں دلیل نے بالکل مختلف لہجہ اختیار کیا ہے۔

نیا بیانیہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ چین اب عالمی سپلائی چینز کے لیے بہت اہم اور اتنا طاقتور ہے کہ ان کے پاس تجارت جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس سے ان کے ہی اپنے معاشی مفادات کو نقصان پہنچے گا یا بصورت دیگر یہ بیجنگ کی طرف سے ’ردعمل‘ کو اکسانے کے مترادف ہوگا۔

لیکن واشنگٹن میں یہ نظریہ کہ چین ایک سنگین خطرہ پیش کر رہا ہے، مضبوط مگر منقسم دو طرفہ اتفاق رائے کے چند موضوعات میں سے ایک بن گیا ہے۔

ابھی تک کوئی آسان متبادل تیار نہیں ہوسکا کیونکہ سپلائی چین کو منتقل ہونے میں برسوں لگیں گے اور ایسا کرنا مہنگا بھی ہوگا۔

اور چین کے پاس ان لوگوں کو انعام دینے کا ذریعہ موجود ہے جو اس کے ساتھ مشغول رہتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے ہیں ان پر وہ اضافی ٹیکس عائد کر سکتے ہیں۔

لیکن جو بات بلاشبہ شی جن پنگ کی تیسری مدت کے آغاز پر صحیح ہے وہ یہ ہے کہ دنیا شدید تبدیلی کے دور میں ہے اور روس کی طرح چین میں بھی امریکہ کو خود اپنے ہی بنائے ہوئے ایک مخالف کا سامنا ہے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …