جمعرات , 8 دسمبر 2022

بات اگر واوڈا تک آ گئی ہے تو پھر صلح کر لیں

(وسعت اللہ خان)

فوج کے مؤقف، خیالات و جذبات کی ترجمانی کے لیے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) سنہ 1949 سے موجود ہے۔جس شعبے کو ماضی میں ایک کرنل یا بریگیڈیئر باآسانی سنبھال لیتا تھا اسے اب ایک تھری سٹار لیفٹیننٹ جنرل کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ آئی ایس پی آر اب ایک ذیلی یونٹ کی سطح سے اٹھ کر ایک علیحدہ کور کے برابر ہے۔

پہلے پہل ایک پریس ریلیز سے کام چل جاتا تھا اور ڈائریکٹر صاحب کو پریس بریفنگ دینے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اب آئی ایس پی آر کو بیانیے اور متبادل حقائق کی تیز رفتار مقابلے باز دنیا میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانے کے لیے ہفتہ وار یا ماہوار یا اچانک بریفنگز دینا پڑتی ہیں۔

اپنے مؤقف، نظریے اور بیانیے کو عمومی سطح پر زود ہضم بنانے کے لیے ویڈیوز، ٹی وی ڈراموں، فلموں، خصوصی اخباری ایڈیشنز اور اشتہارات میں سرمایہ کاری بھی کرنا پڑتی ہے۔

سوشل میڈیا سے سینگ پھنسانے کے لیے بھی افرادی قوت بٹھانا پڑتی ہے اور مسلسل ہائبرڈ جنگ المعروف ففتھ جنریشن وار میں داخلی و خارجی اور اندرونی حملہ آوروں سے ایک قدم آگے رہنے کے لیے تمام جدید مواصلاتی و دماغی حربے بروِئے کار لانے پڑتے ہیں۔

ایسے فعال اور خود کفیل ادارے کی موجودگی میں جانے کس نے صلاح دی کہ ملک کو اس وقت جو بحران درپیش ہے اس میں مسلح افواج اور ان سے جڑے حساس اداروں کی ترجمانی کے لیے محض آئی ایس پی آر کا ڈھانچہ کافی نہیں بلکہ ایک غیر معمولی پریس بریفنگ میں آئی ایس آئی کے سربراہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔

اس انھونی میڈیائی دوبدو سے فوج کا مؤقف کتنا آگے بڑھا، کتنے اضافی لوگ سیاست میں مکمل عدم مداخلت کی بابت تازہ عسکری بیانیے کے قائل ہوئے، عام اور خاص کے بیچ شش و پنج کے بادل کس قدر چھٹ سکے، سیاسی درجہِ حرارت کم ہوا یا اور بڑھ گیا؟ اس بارے میں جتنے منھ اتنی باتیں۔

البتہ یہ ضرور ہوا کہ آئی ایس آئی کے اردگرد پراسراریت کا وہ ہالا جو اب تک سیاستدانوں کو کھلم کھلا نام درازی سے روکتا تھا، اس میں تاکا جھانکی شروع ہو گئی ہے اور طرح طرح کے حلقوں میں جو باتیں نکل رہی ہیں ان میں محکمہ زراعت، شمالی علاقہ جات، فرشتے، بھائی لوگ، اوپر والے جیسے استعارے برتنے کا تکلف بھی کنارے لگ گیا ہے۔

اس ’منھ دکھائی‘ کے بعد سے دو طرح کے ردِ عمل دیکھنے کو مل رہے ہیں: اول چہار سمت حیرت یا پھر بقول فہمیدہ ریاض ۔۔۔

تم بالکل ہم جیسے نکلے

اب تک کہاں چھپے تھے بھائی

وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن

جس میں ہم نے صدی گنوائی

آخر پہنچی دوار توہارے

ارے بدھائی بہت بدھائی

گزری جمعرات سے اب تک میں مسلسل گوگل سرچ کر رہا ہوں کہ امریکی سی آئی اے، روسی جی آر یو، برطانوی ایم آئی سکس، انڈین را، اسرائیلی موساد، جرمن بی این ڈی، چینی ایم ایس ایس یا خود آئی ایس آئی کے کسی سابق چیف سپائی نے کبھی اس طرح صحافیوں کے دوبدو سوالات جھیلتے ہوئے ٹھنڈے ٹھنڈے خندہ پیشانی سے جوابات دیے ہوں مگر میرا گوگل اس چھان پھٹک میں بہت سست نکلا۔

اگر کوئی جنگ چھڑی ہوتی یا دشمن ملک کا جاسوسِ اعظم میڈیا سے براہ راست مخاطب ہوتا تب تو ہمارے چیف کے پاس بھی نقاب کشائی اور زباں بندی کے خاتمے کا ٹھوس جواز ہوتا۔ ورنہ تو فوج یا وزارتِ دفاع یا حکومتِ وقت کا ترجمان ہر طرح کے حالات میں وضاحت کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔

اگر کوئی سرپرائز دینا مقصود تھا اور اس سرپرائز کے ذریعے کچھ مخصوص اہداف حاصل کرنا تھے یا کسی خوش فہم حریف کو کوئی پیغام پہنچانے کی نیت تھی تو ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو مگر فی الحال مجھ جیسے لال بھجکڑوں کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو۔

بظاہر جو سامنے کی تصویر ابھر رہی ہے وہ تو یوں ہے کہ داخلہ و خارجہ سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے ذمہ دار ایک حساس ادارے نے ایک سیاسی جماعت یا لیڈر سے براہِ راست اسی کے میدان میں جا کر ہتھ پنجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگر یہ لیڈر ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے تو پھر اس پر یا اس کی جماعت پر پابندی لگانے کا بھی ایک قانونی راستہ اور طریقہ موجود ہے جسے منفی و مثبت نتائج سے قطع نظر ماضی میں بارہا استعمال کیا جا چکا ہے۔

اگر اس رونمائی کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کس قدر پر اعتماد ہے تو پرانے بزرگ کہتے تھے کہ طاقتور ہمیشہ آواز دھیمی رکھتا ہے اور براہ راست منھ دکھائی یا منھ دینے سے کہیں مؤثر اس کے اردگرد تنا غیر مرئی ہالہ ہوتا ہے تاکہ حریف اندازے لگانے میں ہی خرچ ہو جائے۔

جب تک شہنشاہ کا چہرہ کسی نے نہ دیکھا تھا تو سب انھیں سورج دیوتا کا اوتار سمجھتے تھے۔ جیسے ہی 15 اگست 1945 کو شاہ ہیروہیٹو کی آواز پہلی بار براڈ کاسٹ ہوئی، وہ اوتار کے منبر سے فانی کے پائیدان پر آ گئے۔

اب جبکہ ایک ریاستی ادارے اور ایک سیاسی جماعت کے مابین پنگ پانگ شروع ہو چکا ہے تو کیا ہم توقع رکھیں کہ عمران خان کی ہر زاتیاتی پریس ٹاک کا جواب الجواب ڈی جی آئی خود دیں گے۔

تو کیا آپ فیلڈنگ اور پیڈنگ کے روایتی تجربے سے ہٹ کے بیٹنگ اور بولنگ بھی کر لیں گے؟

یاد آیا کہ ایک رات پہلے بوٹ فیم فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی کوریج بالکل ایسے ہی کی گئی جیسے اگلی صبح پی ٹی وی سمیت ہر چینل نے ڈی جی آئی کی مشترکہ پریس کانفرنس براہِ راست نشر کی۔’جے گل ہن واوڈا دے لیول تک پہنچ گئی ہے تے فیر بھا ہوراں نال وی صلح ہی کر لیو۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ …