جمعرات , 1 دسمبر 2022

ایران میں عربی عبری مغربی بلاک کی میڈیا دہشت گردی

(تحریر: فاطمہ اکبری)

جب سے ایران میں بدامنی کی حالیہ لہر کا آغاز ہوا ہے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ کوئی روایتی جنگ نہیں بلکہ اس کے پیچھے انتہائی پیچیدہ میڈیا جنگ قرار پائی ہے۔ یہ درحقیقت میڈیا دہشت گردی ہے جس کے ذریعے براہ راست افراد کے ذہن کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی جیسے ذرائع ابلاغ ایران میں بدامنی اور انارکی کو ہوا دینے کیلئے یہ دعوی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے بقول انقلاب 43 ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ یا مثال کے طور پر انٹرنیشنل اور انڈیپینڈنٹ جیسے میڈیا ذرائع اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی سرنگونی کا امکان ظاہر کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے کینیڈا میں ایرانی مظاہرین کے درمیان وزیراعظم ٹروڈو کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

تناو اور جذباتی کیفیت سب سے پہلے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پیدا ہوتی ہے اور خاص عمل کے بعد طے شدہ میڈیا دہشت گردی تک جا پہنچتی ہے۔ کسی بھی انقلابی تحریک کی ایک خاص تعریف ہے اور اس کے آگے بڑھنے کی بھی خاص شرائط ہیں۔ مثال کے طور پر ایرانی معاشرے میں جب 1979ء میں انقلاب رونما ہوا تو معاشرے کے تمام طبقے چاہے وہ اہل مسجد ہوں یا اہل بازار یا عام عوام ہوں، سب کے سب اس انقلابی تحریک کا ساتھ دے رہے تھے۔ لیکن بدامنی کی حالیہ لہر جسے مغربی، عربی اور عبری میڈیا انقلاب کا نام دے رہا ہے صرف سوشل میڈیا اور ٹی وی اسٹوڈیوز تک محدود ہے۔ زمینی حقائق کے برعکس ایک خبر کو الفاظ اور تصاویر کے ذریعے یوں بڑھایا چڑھایا جاتا ہے کہ بی بی سی جیسا میڈیا کسی ٹھوس دلیل کے بغیر اسے "انقلاب” قرار دے دیتا ہے۔

میڈیا کا یہ ہتھکنڈہ گذشتہ دو ماہ میں میڈیا دہشت گردی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ فرانس کے ماہر اور مصنف جان بادریار نے اس بارے میں دو اہم کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب خلیجی جنگ کے بارے میں ہے اور اس کا عنوان ہے "ایسی جنگ جو کبھی بھی نہیں ہوئی”۔ وہ کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس انقلاب کے بعد سیاسی اقتصاد کی اہمیت بہت کم ہو گئی اور میڈیا اور حقیقت کو خاص انداز سے دکھانے جیسے ہتھکنڈوں نے اس کی جگہ لے لی۔ جدید دور میں میڈیا ذرائع حقائق کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو ان کے گروہی مفادات کے حق میں ہوتی ہے۔ وہ رائے عامہ کو یہی تصویر دکھاتے ہیں۔ بادریار اس تصویر کو ماورائے حقیقت کہتے ہیں اور وضاحت دیتے ہیں کہ میڈیا ذرائع افراد کے ذہن میں یہ تصویر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جان بادریار مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تھا تو مغربی جنگی طیاروں نے صرف تیل کے چند کنووں پر ہی بمباری کی تھی لیکن انہی چند حملوں کو مغربی ذرائع ابلاغ پر اتنے وسیع انداز میں کوریج دی گئی کہ صدر صدام حسین سمجھے وہ بہت بڑے پیمانے پر عالمی سپر پاورز کے خلاف جنگ میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا یہی احساس شکست کا آغاز ثابت ہوا۔ لہذا ڈیزرٹ اسٹارم آپریشن صرف 41 دن جاری رہا اور اس دوران عراقی فوج مکمل طور پر عاجز اور ناتوان ہو گئی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی حقیقت میں کوئی واقعہ رونما نہیں ہوتا لیکن میڈیا پر اور انٹرنیشنل، بی بی سی، العربیہ اور سوشل میڈیا کے اسٹیج پر یوں دکھائی دیتا ہے جیسے ہنگامے نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں اور نظام سرنگون ہو رہا ہے۔

اس وقت دن رات ایران کے خلاف شدید عالمی میڈیا جنگ جاری ہے اور اس میں ایران انٹرنیشنل کی میک اپ کردہ اینکر اور سعودی سپاہی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ فعالیت صرف اسی حد تک محدود نہیں رہتی بلکہ الفاظ کی شدت پسندی، چھوٹے اور بڑے جھوٹ اور ان کی بنیاد پر غلط خبروں کا انتشار کا نتیجہ افراد کے ذہنی انتشار اور انارکی کی جانب ترغیب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح جب مسلسل فتنہ انگیز فضا قائم رکھی جاتی ہے تو معاشرے کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے اور اب تکفیری دہشت گردی کی باری آتی ہے جو خوف کے اس کھیل کو آگے بڑھاتی ہے۔ لہذا میڈیا دہشت گردی کے نتیجے میں تکفیری دہشت گردی ظہور پذیر ہوتی ہے۔ پس ایران کی وزارت خارجہ اس منظم دہشت گردی کے خلاف عالمی ادارون میں قانونی کاروائی کر سکتی ہے۔

میڈیا کے شعبے میں سعودی عرب کا سالانہ بجٹ 10 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ اس بجٹ کا زیادہ تر حصہ عالمی میڈیا پر خرچ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے اس فنڈ سے چلنے والا ایک دہشت گرد میڈیا چینل "انٹرنیشنل” ہے جس نے 250 ملین ڈالر کے بجٹ سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہ چینل سالانہ 50 ملین ڈالر سعودی عرب کی وزارت اطلاعات سے دریافت کرتا ہے۔ اس کے مستقل عہدیداروں کی تعداد 230 ہے اور دنیا بھر میں اس کے 40 دفتر موجود ہیں۔ اس کا واحد مقصد ایران کے خلاف زیر اگلنا اور منفی پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ اس چینل کی سربراہی سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کے ہاتھ میں ہے جو واشنگٹن میں بیٹھ کر اسے چلا رہے ہیں۔ ان کے صیہونی حکام اور ایران مخالف دہشت گرد گروہوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ عبدالرحمان راشد بھی ان کے دست راست ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یورپ کی چین سےتعلقات کی از سر نو استواری، امریکہ- یورپ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے؟

یوکرین تصادم اور روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سےیورپ کے …