بدھ , 7 دسمبر 2022

دنیا بھر میں 63 ہزار سے زائد افراد سانپ کے ڈسنے سے ہلاک ہوئے

وکٹوریا: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2019 میں عالمی سطح پر 63 ہزار سے زائد افراد سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں کی بڑی وجہ دیہی علاقوں میں زہر کا اثر ختم کرنے والی ادویات (اینٹی ڈوٹ) عدم دستیابی ہے۔

آسٹریلوی ریاست کوئنز لینڈ کی جیمز کُک یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ اپنی تحقیق کی بنا پر ان کا ماننا ہے کہ عالمی ادارہ صحت 2030 تک سانپ کے ڈسنے سے ہونے والی اموات کی تعداد میں نصف کمی کا ہدف حاصل نہیں کر پائے گا۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر رچرڈ فرینکلن کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں اینٹی وینم ادویات کی فوری فراہمی کو حفاظتی لائحہ عمل جیسے کہ تعلیم میں اضافہ اور صحت کے نظام میں مضبوطی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام دیہی علاقوں میں وقت پر اینٹی وینم ادویات کی فراہمی ہزاروں زندگیاں بچاسکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سانپ کے کاٹے سے ہونے والی اموات کی روک تھام کے لیے طے کیے گئے اہداف کے حصول کے لیے ان ادویات کی پیداوار میں اضافے میں بڑی سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیئے۔

جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحْیق میں محققین نے گلوبل برڈن آف ڈیزیز ڈیٹا سیٹس سے پوسٹ مارٹم اور اہم رجسٹریشن ڈیٹٓ اکٹھا کیا۔

اس ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے سانپ جیسے زہریلے جانوروں کے سبب ہونے والی اموات کو جگہ، عمر، جنس اور سال کے اعتبار سے ترتیب دی گئی

تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ سانپ کے ڈسنے سے زیادہ تر اموات جنوبی ایشیاء کے خطے میں ہوئیں تھیں۔ اس خطے میں افغانستان سے سری لنکا تک کے علاقے بشمول پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش شامل تھے۔

بھارت میں سب سے زیادہ 51 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ آسٹریلیامیں صرف دو افراد سانپ کے ڈسنے سے ہلاک ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

یوکرین اور روس کے ہمسایہ ملک پولینڈ کو جنوبی کوریا کے ہتھیاروں کی پہلی کھیپ موصول

وارسا :یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ کو منگل کے روز ٹینکوں اور ہووٹزروں کی پہلی …