جمعرات , 1 دسمبر 2022

جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے

(تحریر: ارشاد حسین ناصر)

عجیب لوگ ہیں یہ مالک و مختار بھی، جب چاہیں بھاری انویسٹمنٹ سے گھر بنا کر اسے بنیادوں سے گرا دیں، جب چاہیں جسے گھر میں رہنے دیں، جسے چاہیں بے دخل کر دیں، جب چاہیں جسے کال کوٹھڑیوں میں ڈالنا تھا، اسے تاج پہنا دیں۔ جب چاہیں جسے برسوں محنت کرکے تاج کا حقدار ثابت کیا تھا اور سرتاج بنایا تھا، اسے دستار سمیت اٹھا کر پٹخ دیں۔ عجیب لوگ یہ مالک و مختار بھی، جسے چاہیں اسے پاتال سے نکال کر چمکتا ستارہ بنا دیں اور اس ستارے کی چمک کو اپنی مرضی کی زمین پر روشنی دینے کے چکر میں ناکامی پر اس چمکتے ستارے کو ہی دوبارہ پاتال میں پھینک دیں۔ عجیب لوگ ہیں یہ مالک و مختار بھی، ایک وقت میں کسی کے خلاف ثبوتوں کے انبار لگا کر انہیں ملک دشمن، لٹیرے، کرپٹ ترین ثابت کرواتے ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد جسے صادق و امین کا سرٹیفکیٹ جاری کروایا تھا۔ اسے گرا کر انہیں دنیا کے کرپٹ ترین مافیاز کو مسلط کروا دیتے ہیں۔ یہ ملک نا ہوا بلی چوہے کا کھیل ہو گیا کہ جب چاہا کھیل شروع، جب چاہا کھیل ختم، جب چاہا میلہ لگا لیا، جب چاہا میلے اور سرکس پر پابندی لگا دی۔

عجیب لوگ ہیں یہ مالک و مختار بھی، اپنا دل کیا تو کسی کی فرمائش پر جنگ کا بگل بجا دیں۔ جہاد کا نعرہ لگا دیں، جہادی بھرتی سنٹرز کریانے کی دکانوں کی طرح کھول لیں، لاکھوں لوگوں کو اس جہاد و قتال میں مروا دیں۔ قبرستانوں کو آباد کرکے، آبادیوں کو غیر ملکی مہاجرین کی بستیوں میں بدل دیں، ملک کو اسلحہ، منشیات، شدت پسندی، دہشت گردی، لوٹ مار کے گرم بازار میں بدل دیں۔ پٹڑی پر تازہ چڑھنے والی جمہوریت، آئین اور عوامی شراکت و اعتماد والی حکومت کو ختم کرکے سنگین آمریت کا نعرہ لگا کر ایک نئے فریب اور نعرے کیساتھ اقتدار اعلیٰ کے خود ساختہ مالک و مختار بن جائیں اور منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی رسی پر جھولتا کریں۔ عجیب لوگ ہیں یہ مالک و مختار بھی کہ ان کا دل چاہے تو ملک میں لشکروں کے غول چھوڑ دیں اور ضرورت نہ رہے تو انہیں پکڑ پکڑ کے گوانتا نامو بے بھیجتے رہیں۔ دونوں صورتوں میں ڈالرز کی بوریاں سمیٹیں، جائیدادیں بنائیں، بیرون ممالک میں بنگلے خریدیں، بزنس ایمپائرز کھڑی کریں، کس کی مجال کہ وہ سوال کرکے پوچھ بھی سکے۔

عجیب لوگ ہیں اس ملک کے مالک و مختار بھی، جب چاہتے ہیں اپنے ہی ملک میں، اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیں اور جب چاہیں انہی کو مذاکرات میں میز پہ لا کر عزت بخشیں، ان کے مطالبات کو تسلیم کریں، ان کے بمباروں کو اپنی گاڑیوں میں بارڈر پار چھوڑ آئیں۔ عجیب لوگ ہیں اس ملک کے مالک و مختار بھی کہ جب جسے چاہیں کالعدم قرار دے دیں اور ان پر پابندیاں لگا دیں اور جب من چاہے انہی کالعدموں کو اپنے ہیلی کاپٹروں میں گھمانے پھرانے حساس ایریاز میں لے جائیں، ان کی تواضع کریں، گویا آگ اور پانی کو ملانے کے مناظر دکھائیں۔ جب چاہیں ان کو دست و گریبان کروا دیں بلکہ خون کی ندیاں بہا دیں۔ یہ مالک و مختار بھی عجیب ہیں، چاہیں تو ان خونیوں سے ارض پاک کے در و دیواروں کو سپاہ صحابہ کا نام دے کر رنگین کروا دیں اور چاہیں تو انہیں القاعدہ، طالبان، لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت الانصار، حرکت المجاہدین، الفرقان، خدام الاسلام، جنداللہ، داعش اور اہلسنت والجماعت کا نام دے کر اپنی چھتری فراہم کر دیں۔ ان تنظیموں کو ہر طرح سے اس ملک میں خون آشامی کی اجازت دے کر آنکھیں بند کرکے تماشا دیکھیں۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

عجیب مالک و مختار ہیں، جن کی ایسی ہی پالیسیوں اور حکمت و دانائی کے باعث یہ مملکت ہمیشہ آگ کے شعلوں میں بھڑکتی دیکھی جاتی رہیگی، معاشرے میں متشدد عناصر، متشدد افکار و سوچ کے حاملان اور عدم برداشت کے نظریات پر سختی سے عاملان کی کھلی چھوٹ کی وجہ سے ملک کے اکثر شہروں میں آئے روز تشدد پسندانہ واقعات رونما ہوتے ہیں، جن میں مذہبی جتھوں کو کسی ایک بے دست و پا کو عوامی عدالت کے نام پر سزا دیتے دیکھا جاتا ہے اور اس سے ملک کا چہرہ دنیا کے سامنے داغدار ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک شہر کی بات نہیں، بہت سے شہروں میں ہوچکا ہے اور ایسے واقعات کا خطر ہر دم موجود بھی رہتا ہے۔ اس میں کسی بھی مذہب و فرقہ سے تعلق رکھنے والا شکار بن سکتا ہے، جس کی واضح مثال سیالکوٹ میں ایک سری لنکن شہری کی المناک موت کی صورت میں دیکھا جا چکا ہے۔ ابھی ایک افواہ کے بعد کراچی میں دو جیتے جاگتے ٹیلی کام کمپنی کے ملازمین کو تشدد کے ذریعے ہجوم نے تشدد کرکے مار دیا، یہ ہماری عوام کی نفسیاتی حالت کی عکاسی ہے کہ کسی نے بھی ان کی تحقیق نہیں کی، نہ ہی پولیس یا رینجرز جو کراچی میں عرصہ سے موجود ہے، کے پاس لے کر گئے۔

اس طرح کے بہت سے واقعات ہمارے ریکارڈ میں اس سے پہلے بھی موجود ہیں، افسوس اس بات پر ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں تسلسل سے جاری ہیں اور حکمران، انتظامیہ، سوسائٹی، علماء، سوشل آرگنائزیشنز اور معاشرے کے ذمہ دار حلقے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ سوسائٹی میں عدم برداشت کے باعث ایک ایسا خوف بٹھا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی سچ و حق و صداقت کی بات کرنے کو تیار نہیں، کوئی بھی معاشرے کو تباہی کی ڈگر پر جاتے ہوئے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ کر دیوار کھڑی کرنے کو تیار نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر یونہی واقعات ہوتے رہے اور عدالتوں کا کام عوام نے سنبھال لیا، پولیس کا کردار جذباتی نوجوانوں نے سنبھال لیا تو مستقبل قریب میں ہمارے ہمسائے ہندوستان سے بھی برا ہوگا، جہاں ہندو متشدد گروہ پاکستان و مسلم دشمنی میں کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

اس وقت ہندوستان میں اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں کو جتنی مشکلات درپیش ہیں، اس کی ماضی میں کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کیساتھ جو بہت بڑی تعدادمیں، حتی کئی ممالک کی آبادیوں سے بھی زیادہ آبادی ہونے کے باوجود ہندوستان میں اقلیتی فرقوں کیساتھ جو سلوک سامنے آرہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ میرے خیال میں یہ سب کچھ ہندوستان کی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، اگرچہ اس کا ادراک آج کے متعصب حکمران نہیں رکھتے اور نہ ہی عالمی سطح پر انہیں اس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا پاکستان کو کسی بھی دوسرے ملک کو عالمی سطح پر کرنا پڑتا ہے۔ اس کیوجہ شاید ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہندوستان اکانومی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے، جبکہ پاکستان ہمیشہ اقتصادی مسائل کا شکار چلا آرہا ہے، جو عالمی اداروں کے چنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔

اگر ہم اس ملک کے مالک و مختار سمجھے جانے والے اداروں کے کردار اور تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دکھتا، اس ملک کے سیاسی، سماجی، معاشرتی، اقتصادی، مذہبی حوالوں سے جتنے بھی مسائل سامنے ہیں، ان کا حل دور دور تک ہوتا نظر نہیں آتا۔ جو لوگ الیکشن کی تاریخ کیلئے لانگ مارچ کر رہے ہیں، ان کا ریکارڈ بھی اتنا اچھا نہیں کہ ان پر یقین کیساتھ کہا جا سکے کہ یہ ملک کے حقیقی نجات دہندہ کے طور پہ کردار نبھا سکیں گے، جن کی منزل فقط الیکشن ہے، ان سے انقلاب کی توقع اور امید تو نہیں باندھی جا سکتی اور اس ملک میں تبدیلی کسی انقلاب کے بغیر اب ممکن نہیں نظر آتی۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …